انتخابات میں ایجنڈا عام لوگ اور ان کے ایشوز ہوں، نہ کہ مندر- مسجد... رام پنیانی

زمین سے متعلق تنازعات کو کیسے نمٹایا جانا چاہیے؟ زمینی دستاویزات کی بنیاد پر یا عقیدت کی بنیاد پر؟ کیا عقیدت کسی عدالت کے فیصلہ کی بنیاد بن سکتی ہے، یا بننا چاہیے؟۔

حال میں سپریم کورٹ نے 1-2 کی اکثریت سے اپنے فیصلے میں ڈاکٹر فاروقی معاملہ میں پرانے فیصلہ کو از سر نو غور کے لیے آئینی بنچ کے حوالے کرنے سے منع کر دیا۔ اس فیصلہ میں یہ کہا گیا تھا کہ مسجد اسلام مذہب پر عمل کرنے کے لیے ضروری نہیں ہے۔ حالیہ فیصلہ سے متفق نہ ہونے والے جج نے کہا کہ معاملے کو سات ججوں کی آئینی بنچ کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ ایسا مانا جا رہا تھا کہ ’’مسجد اسلام کا اہم جزو نہیں ہے‘‘، اس نتیجہ سے الٰہ آباد ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ متاثر ہوگا جس میں بابری مسجد کی اراضی کو تین حصوں میں منقسم کر اسے سنی وقف بورڈ، رام للا وراجمان اور نرمولی اکھاڑے کو سونپا گیا تھا۔

فاروقی معاملہ میں فیصلہ اس دلیل پر مبنی تھا کہ چونکہ نماز کھلی جگہ پر بھی ادا کی جا سکتی ہے اس لیے مسجد اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ دوسری طرف سے یہ دلیل دی گئی تھی کہ اگر مسجدیں اسلام کے اصولوں پر عمل کرنے کے لیے ضروری نہیں ہوتیں تو پھر دنیا بھر میں اتنی مسجدیں کیوں بنی ہیں؟ یقینی طور پر اس سلسلے میں مزید غور کی ضرورت تھی۔

اب ایودھیا معاملہ سے جڑے اراضی تنازعہ پر غور کرنے کا راستہ کھل گیا ہے۔ حالانکہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا لیکن اس کی بنیاد زمینی دستاویزات نہیں بلکہ ’’ہندوؤں کے ایک بڑے طبقے کی یہ عقیدت تھی کہ بھگوان رام کا جنم وہیں ہوا تھا۔‘‘

زمین سے متعلق تنازعہ کو کس طرح نمٹایا جانا چاہیے؟ اراضی دستاویزوں کی بنیاد پر یا عقیدت کی بنیاد پر؟ کیا عقیدت کسی عدالت کے فیصلہ کی بنیاد بن سکتی ہے، یا بننی چاہیے؟ اور یہ عقیدت بھی بنائی گئی عقیدت ہے اور یہ عقیدت سازی آر ایس ایس فیملی کے ذریعہ چلائی گئی رام مندر تحریک کے ذریعہ کی گئی تھی۔ اس تحریک کی قیادت پہلے وی ایچ پی نے کی اور پھر بی جے پی نے۔

یہ دعویٰ کہ متنازعہ مقام پر رام مندر تھا، جسے پانچ صدی پہلے گرا دیا گیا تھا، انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جس وقت مبینہ طور پر رام مندر منہدم کیا گیا تھا، اس وقت بھگوان رام کے سب سے بڑے بھکتوں میں سے ایک ’گوسوامی تلسی داس‘ ایودھیا میں ہی رہتے تھے۔ انھوں نے اپنی کسی تصنیف میں ایسے کسی واقعہ کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ الٹے انھوں نے اپنے ایک دوہے میں لکھا ہے کہ وہ آسانی سے کسی مسجد میں رہ سکتے ہیں۔ اس مقام پر رام کی پیدائش ہوئی تھی، اس عقیدت نے گزشتہ کچھ دہائیوں میں زور پکڑا ہے۔

ہمارے وقت کے ڈاکیومنٹری بنانے والی عظیم ہستیوں میں سے ایک آنند پٹوردھن نے اپنی بے مثال تصنیف ’رام کے نام‘ میں بتایا ہے کہ کس طرح ایودھیا کے کئی مندروں کے مہنت یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ رام کا جنم ان کے ہی مندر میں ہوا تھا۔ دور قدیم کو تاریخ کے کسی دور سے جوڑنا آسان نہیں ہے۔

اب ہمارے سامنے کچھ دیگر مسائل ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ مسجد کے اندر رام للا کی مورتی نصب کرنے کا جرم۔ ہم ان تاریخی حالات سے واقف ہیں جن کے سبب ایودھیا کے اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ کے کے نیر نے مورتیوں کو فوراً وہاں سے نہیں ہٹوایا تھا۔ سبکدوشی کے بعد نیر نے بھارتیہ جن سنگھ کی رکنیت لے لی تھی۔ دوسرا جرم تھا دن کی روشنی میں مسجد کو منہدم کیا جانا اور وہ بھی اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کے ذریعہ سپریم کورٹ میں اس سلسلے میں حلف نامہ داخل کرنے کے بعد کہ مسجد کی حفاظت کی جائے گی۔ اس واقعہ کی جانچ کرنے والے لبراہن کمیشن نے اسے ایک سازش قرار دیا ہے۔

جس وقت کارسیوک مسجد کو منہدم کر رہے تھے اس وقت بی جے پی لیڈر لال کرشن اڈوانی، اوما بھارتی اور مرلی منوہر جوشی اسٹیج پر موجود تھے۔ انھیں اس جرم میں شراکت داری کے انعام کے طور پر مرکزی کابینہ میں جگہ دی گئی۔ کیا اس جرم کے قصورواروں کو سزا نہیں ملنی چاہیے؟ اس وقت اس واقعہ کے گواہ صحافیوں کی پٹائی کی گئی اور ان کے کیمرے توڑ دیے گئے۔

دوسرا، اراضی تنازعہ کا نمٹارا اراضی دستاویزات کی بنیاد پر کی جانی چاہیے۔ متنازعہ اراضی صدیوں سے سنی وقف بورڈ کے کنٹرول میں رہی ہے۔ سنہ 1885 میں عدالت نے مسجد سے لگی زمین پر ہندوؤں کو ایک چبوترا تک بنانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس واقعہ سے منسلک سبھی دستاویزات دستیاب ہیں۔ کچھ لوگ اس مسئلہ کے ’پرامن حل‘ اور عدالت سے باہر سمجھوتے کی بات کر رہے ہیں۔ ان میں سے کئی ٹھیک وہی کہہ رہے ہیں جو آر ایس ایس فیملی چاہتی ہے۔ وہ مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ زمین پر اپنا دعویٰ چھوڑ دیں اور وہاں مندر بن جانے دیں۔ اس کے بدلے انھیں کہیں اور مسجد بنانے کے لیے اراضی دستیاب کروا دی جائے گی۔ یہ دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں کہ جب بھی بی جے پی کو مناسب اکثریت ملے گی، پارلیمنٹ کے ذریعہ قانون بنا کر وہاں رام مندر بنایا جائے گا۔

سمجھوتہ کا مطلب ہوتا ہے ایک ایسا عمل جس میں دونوں فریق کی بات سنی جائے اور مسئلہ کو حل کرنے کے لیے دونوں فریق کچھ کھونے اور کچھ پانے کے لیے راضی ہوں۔ جو فارمولہ ابھی پیش کیا جا رہا ہے وہ تو مسلمانوں کے ذریعہ پوری طرح خودسپردگی ہوگی۔ ہمیں آج جرائم پیشوں کو سزا دینے اور مسئلہ کو قانونی طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انصاف کے بغیر امن نہیں ہو سکتا۔ بابری مسجد کے منہدم کیے جانے کے شرمناک واقعہ کو ’ہندو شوریہ دیوس‘ کی شکل میں منایا جا رہا ہے۔

انہدامی اور فرقہ پرست سیاست آخر ہمیں کن تاریکیوں میں دھکیل رہی ہے؟ آج ہندوستان کے سامنے بنیادی مسئلہ اس کے کروڑوں شہریوں کو روزی روٹی اور سر پر چھت دستیاب کروانا ہے۔ آر ایس ایس فیملی نے رام مندر اور پاکیزہ گائے جیسے ایشوز کو اچھال کر اپنی سیاسی اور سماجی طاقت بڑھائی ہے۔ ہمیں اسپتالوں اور اسکولوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں صنعتوں کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بے کار نوجوانوں کو کام مل سکے۔ انتخابات کے ٹھیک پہلے ایودھیا ایشو کا ابھرنا افسوسناک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انتخابات میں ہم عام لوگوں کے بنیادی مسائل کی جگہ مسجد اور مندر پر بحث کریں گے۔

جو لوگ برابری اور انصاف پر مبنی سماج کی تعمیر کے حامی ہیں انھیں یہ یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ انتخابات میں ایجنڈا عام لوگ اور ان سے متعلق ایشوز ہوں ، نہ کہ مندر اور مسجد۔

سب سے زیادہ مقبول