سیاسی

2019 میں نریندر مودی کے متبادل گڈکری نہیں، راہل گاندھی ہی ہوں گے

بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں کو یہ پتہ چل چکا ہے کہ 2019 ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ ہندوستانی باشندوں کے ذریعہ مودی قیادت والی سخت ہندوتوا نظریہ کو مسترد کر دینا آر ایس ایس کے لیے باعث فکر بن چکا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ظفر آغا

ان دنوں نتن گڈکری میڈیا میں چھائے ہوئے ہیں۔ کبھی ’آج تک‘ چینل پر بیٹھ کر انٹرویو دے رہے ہیں تو کبھی کسی تقریب میں ایسا بیان دے رہے ہیں جو میڈیا میں چھا جائے۔ کوئی مانے یا نہ مانے یہ بات ظاہر ہو چکی ہے کہ گڈکری نے خود کو بی جے پی کی طرف سے اگلا وزیر اعظم امیدوار کا اعلان کر دیا ہے۔

جیسا کہ میڈیا میں کہا جا رہا ہے، وہ اپنی مارکیٹنگ جس طرح کر رہے ہیں اس سے واضح ہے کہ وہ ایک ملی جلی حکومت کے وزیر اعظم عہدہ کی دعویداری کی امید رکھتے ہیں۔ گڈکری کی باتوں سے ان کی پالیسی صاف نظر آتی ہے۔ ان کی پالیسی کے کچھ اہم نکات ہیں۔ ایک تو وہ اپنے بیانات سے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے قد کے لیڈر ہیں اور وہ بی جے پی کی قیادت والی ملی جلی حکومت میں مودی سے بہتر ’پی ایم امیدوار‘ رہیں گے۔ ان کا یہ بیان کہ اگر کوئی ’’جیت کا سہرا لیتا ہے تو اس کو شکست کی ذمہ داری بھی لینی چاہیے‘‘، گڈکری کو مودی کے ٹکر پر کھڑا کرنے والا بیان ہے۔

یہ تو ان کی پالیسی کا ایک حصہ ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اب وہ جو بیان دے رہے ہیں ان میں وہ خود کو ’وِکاس پُرش‘ کی شکل میں بھی پیش کر رہے ہیں۔ چار سالوں میں اتنے لاکھ کلو میٹر سڑک بن کر تیار اور غلاظت میں ڈوبی گنگا، اتنی صاف اور شفاف ہو چکی گنگا جیسے بیانوں سے وہ خود کو ’وِکاس پُرش‘ کے ساتھ ساتھ ’ڈلیوری بوائے‘ کی شکل میں بھی پیش کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ گڈکری کا زور اس بات پر بھی ہے کہ کام کے معاملے میں وہ حلیف-حریف میں پارٹی نہیں دیکھتے بلکہ کام پر توجہ دیتے ہیں۔

اس سب کے بیچ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے گڈکری کو جو سرٹیفکیٹ دیا وہ قابل ذکر ہے۔ یعنی گڈکری نے بہت سوچ سمجھ کر اور منصوبہ بندی کے ساتھ اگلے وزیر اعظم عہدہ کے لیے اپنا نام داؤ پر لگا دیا ہے۔ لازمی ہے کہ یہ معاملہ میڈیا میں خوب سرخیاں بٹورے گا۔ اسی لیے میڈیا میں نتن گڈکری کو لے کر ہر نکتے پر بحث شروع ہو گئی۔ پہلی بات تو یہ طے ہو گئی کہ خود بی جے پی کو یہ خوف ہے کہ اگلی حکومت وہ اپنے دَم پر نہیں بنا سکتی ہے۔ اس لیے یہ واضح ہے کہ نریندر مودی کا قد ان کی پارٹی میں ہی چھوٹا ہو چکا ہے۔ مودی اب وہ لیڈر نہیں رہے جن کے دَم پر بی جے پی انتخاب جیت سکے۔

سنہ 2018 میں مشکل سے ایک گجرات اسمبلی انتخاب جیتنے کے بعد سے کرناٹک، پنجاب، راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ، کہیں بھی مودی جی اپنی پارٹی بی جے پی کو انتخاب میں فتحیاب نہیں کرا سکے۔ ایسی حالت میں پارٹی کو ’پلان بی‘ بنا کر رکھنا ہوگا۔ نتن گڈکری اسی ’پلان بی‘ کے سرفہرست امیدوار کی شکل میں خود اپنی امیدواری پیش کر رہے ہیں۔ میڈیا میں بھی گڈکری کو لے کر یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ آر ایس ایس ان کے ساتھ ہے یا نہیں۔ اس سلسلے میں ان کا ناگپور سے ہونا اور ان کے آر ایس ایس سے پرانے رشتوں کا بھی بہت تذکرہ ہو رہا ہے۔

لب و لباب یہ ہے کہ نتن گڈکری سرخیوں میں ہیں۔ اس معاملے میں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ سب کچھ ایسے ہی نہیں ہو رہا بلکہ منصوبہ بندی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس میں بی جے پی اور خصوصاً آر ایس ایس کی مرضی بھی شامل ہے۔ اور یہ سب کچھ آر ایس ایس کے اشارے پر ہو رہا ہے۔ گڈکری کوئی بچے نہیں ہیں کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ آر ایس ایس کی مرضی کے بغیر وزیر اعظم عہدہ حاصل نہیں کر سکتے۔ اس لیے وہ جو کچھ کہہ یا کر رہے ہیں، یہ سب کچھ ناگپور کی مرضی سے ہی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آر ایس ایس خود کوئی ایسا ادارہ نہیں ہے کہ اس کو احساس ہی نہ ہو کہ اب مودی کے دن ختم ہو گئے ہیں۔ چپے چپے پر نگاہ رکھنے والی آر ایس ایس کو ملک کی بدلتی سیاسی حالت کا احساس نہ ہو، یہ تو بالکل طفلانہ بات ہوگی۔ ایسے ماحول میں آر ایس ایس کسی ’پلان بی‘ کی تیاری نہ کرے، یہ سوچنا بھی غلط ہوگا۔

لیکن اس سلسلے میں ایک بات ایسی ہے جو کوئی نہیں کہہ رہا۔ اس پورے ’پلان بی‘ کے ساتھ بی جے پی اور آر ایس ایس کی گھبراہٹ چھپی ہوئی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں کو یہ صاف سمجھ میں آ رہا ہے کہ 2019 ہاتھ سے نکل گیا۔ آر ایس ایس کے لیے فکر کی بات یہ ہے کہ ہندوستانی باشندوں نے نریندر مودی کی قیادت والی سخت ہندوتوا نظریہ کو مسترد کرنا شروع کر دیا ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آر ایس ایس کی پسند اب بھی مودی ہی ہیں۔ لیکن کسی طرح سے جوڑ توڑ کر 2019 کی حکومت بن سکے، اس کے لیے آر ایس ایس اب نتن گڈکری پر داؤ لگانے کو تیار ہے۔ لیکن آر ایس ایس کو اس سے بھی بڑھ کر جو گھبراہٹ ہے، وہ یہ ہے کہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کے عروج کو کیسے روکا جائے۔ اس ملک کے اقلیتی طبقات کے بعد اگر آر ایس ایس اور بی جے پی کا کوئی سب سے بڑا دشمن ہے تو وہ نہرو-گاندھی فیملی ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں آر ایس ایس اور بی جے پی نے اس فیملی کو ختم کرنے میں جتنی توانائی خرچ کی، اتنی قوت ملک کو چلانے میں نہیں لگائی۔ گزشتہ ایک سال میں راہل گاندھی ہندوستانی سیاست کے آسمان پر جس طرح ابھر کر سامنے آئے ہیں، اس سے مودی-آر ایس ایس اور بی جے پی کی نہرو-گاندھی فیملی کی وراثت مٹانے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ اب حالات یہ ہیں کہ ’ٹائمز آف انڈیا‘ سے لے کر ’انڈیا ٹوڈے‘ تک ہر کوئی راہل گاندھی کو مودی کے قد کا لیڈر مان رہا ہے۔ تبھی تو راہل گاندھی کو سب ’چیلنجر‘ تصور کر رہے ہیں۔

راہل گاندھی بطور مودی چیلنجر عوام کے نظریات میں پوری طرح سما نہ جائیں، اس لیے ذہن بھٹکانے کے لیے بہت سوچ سمجھ کر آر ایس ایس اور بی جے پی کے ایک گروپ نے نتن گڈکری کا نام اچھالا ہے۔ منشا صاف ہے اور وہ یہ کہ اگر راہل گاندھی کا نام مودی کے متبادل کی شکل میں آئے تو میڈیا مینجمنٹ پالیسی کے مطابق ساتھ میں نتن گڈکری کا بھی تذکرہ ہو۔ شاید اس سے اپوزیشن میں بی جے پی کے کچھ پوشیدہ معاونین کو بھی مدد مل سکے۔ اس لیے یاد رکھیے کہ نتن گڈکری جو کچھ کر رہے ہیں اس میں آر ایس ایس کی صرف مرضی شامل نہیں ہے بلکہ سب کچھ ایک پالیسی کے تحت ہو رہا ہے۔

لیکن اب بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی ملک کے لیے متبادل بن چکے ہیں۔ اور یہ جگہ انھوں نے اپنی محنت سے عوام کا دل جیت کر حاصل کی ہے۔ اس میں ’میڈیا مینجمنٹ‘ کا کوئی تعاون نہیں ہے۔ اب صرف ’میڈیا مینجمنٹ‘ سے نتن گڈکری کو راہل گاندھی کے قد سے اونچا نہیں کیا جا سکتا۔ جب اپنے عروج سے لے کر ابھی حال تک آر ایس ایس کے سب سے چہیتے لیڈر نریندر مودی کے پیر کے نیچے سے زمین کھسک گئی تو پھر ’میڈیا مینجمنٹ‘ سے بنے کاغذی شیر نتن گڈکری کس کھیت کی مولی ہیں۔ اس لیے نریندر مودی کا واحد متبادل راہل گاندھی ہی ہیں، نتن گڈکری متبادل کبھی نہیں ہو سکتے۔