راہل کی ’رافیل بیٹنگ‘ سے مودی حکومت کلین بولڈ... سہیل انجم

راہل گاندھی جس انداز میں اپنی باتیں رکھ رہے ہیں وہ عوام کو بخوبی سمجھ آرہی ہیں، حالانکہ شروع میں جب رافیل کا ایشو اٹھا تھا تو کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ معاملہ مودی حکومت کے گلے کی ہڈی بن جائے گا۔

تصویر اے آئی سی سی
تصویر اے آئی سی سی

سہیل انجم

اب یہ بات تقریباً طے مانی جا رہی ہے کہ رافیل تنازعہ انتخابی ایشو بنے گا۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے جس انداز میں اسے اٹھایا اور بی جے پی حکومت کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور جس طرح پارلیمنٹ میں پہلے وزیر مالیات ارون جیٹلی اور پھر وزیر دفاع نرملا سیتا رمن کو جواب دینے پر مجبور ہونا پڑا اس سے یہ بھی سمجھا جا رہا ہے کہ 2019 کے الیکشن کا ایجنڈہ راہل گاندھی طے کر رہے ہیں۔ بلکہ کچھ سینئر تجزیہ کاروں کا تو یہاں تک خیال ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور پوری بی جے پی راہل کے چکر ویوہ میں پھنس گئی ہے اور اب انتخابی مہابھارت میں اس چکرویوہ سے نکلنے کے لیے مودی اینڈ کمپنی کو کسی ابھمنیو کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔

راہل گاندھی نے براہ راست وزیر اعظم مودی پر نشانہ لگا کر انھیں دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یکم جنوری کو اپنے معروف انٹرویو میں مودی نے اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ رافیل ایشو میں ان پر کوئی الزام نہیں ہے۔ جو الزام ہے وہ حکومت پر ہے۔ حالانکہ راہل شروع سے ہی مودی پر ہی الزام عاید کرتے آئے ہیں۔ انھوں نے ایک نہیں درجنوں بار یہ بات کہی ہے کہ مودی جی نے اپنے دوست انل امبانی کی جیب میں تیس ہزار کروڑ روپے ڈالے ہیں۔ انھوں نے مودی کے اس دفاعی جملے کے بعد بھی کہ حکومت پر الزام ہے ان پر نہیں، پارلیمنٹ میں کہا کہ انھوں نے حکومت پر نہیں بلکہ خود مودی جی پر الزام لگایا ہے۔ گویا اس طرح انھوں نے یہ بات پارلیمنٹ کے ریکارڈ پر لا دی۔

اس بارے میں انھوں نے جس انداز میں اپنی باتیں رکھی ہیں وہ عوام کی بھی سمجھ میں آرہی ہیں۔ شروع میں جب انھوں نے رافیل کا ایشو اٹھایا تھا تو کسی کو اس کا اندازہ نہیں تھا کہ یہ معاملہ مودی حکومت کے گلے کی ہڈی بن جائے گا۔ بی جے پی کے لوگ چونکہ پہلے راہل کا مذاق اڑاتے رہے ہیں اس لیے ان کا خیال تھا کہ یہ معاملہ پانی کا بلبلہ ثابت ہوگا۔ لیکن یہ بلبلہ رفتہ رفتہ ایک سمندری طوفان بننے لگا اور اب وہ اتنا بھیانک ہو گیا ہے کہ الیکشن میں بی جے پی اس طوفان کی نذر ہو سکتی ہے۔

ان کی جانب سے یہ ایشو اٹھائے جانے کی وجہ سے ہی کچھ لوگ سپریم کورٹ میں گئے اور سپریم کورٹ نے اس پر اپنا فیصلہ سنایا۔ لیکن اس بارے میں حکومت نے عدالت میں جو جھوٹ بولا وہ پکڑا گیا اور ایک بار پھر عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

سپریم کورٹ نے جب یہ کہا کہ رافیل سودے میں اسے کوئی گڑبڑی نہیں لگتی تو بی جے پی اور حکومت نے اسے عدالت کی جانب سے کلین چٹ کہہ کر پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔ حالانکہ عدالت نے کانگریس کے اس موقف کو بھی دوہرایا کہ وہ جانچ ایجنسی نہیں ہے۔ بی جے پی کے لوگوں کا خیال تھا کہ اب یہ معاملہ ختم ہو جائے گا اور راہل گاندھی پسپا ہو جائیں گے۔ لیکن چند گھنٹے کے اندر اندر راہل نے جس طرح حکومت کی ایک بے ایمانی پکڑی اور پریس کانفرنس کرکے پرزور انداز میں جوابی حملہ کیا اور اسے پھر اٹھایا اور پھر زور دے کر کہا کہ چوکیدار چور ہے تو معاملے نے ایک نیا رخ لے لیا۔ انھوں نے پھر جانچ کرانے پر زور دیا اور کہا کہ جانچ ہوگی تو دو نام نکلیں گے نریندر مودی، انل امبانی۔ انل امبانی، نریندر مودی۔

چوری پکڑے جانے کے بعد حکومت نے عدالت سے رجوع کیا اور کہا کہ اس کے حلف نامہ کو ٹھیک سے نہیں پڑھا گیا۔ اس نے عدالت سے کہا کہ وہ اپنے فیصلے میں در آئی غلطی کی اصلاح کرے۔ گویا اس نے اپنی غلطی عدالت کے سر تھوپنے کی کوشش کی ہے۔ ابھی تو عدالت نے اس معاملے کو دوبارہ نہیں دیکھا ہے۔ لیکن یقین ہے کہ جس دن اس نے دیکھا حکومت پھر بے نقاب ہو جائے گی۔

راہل گاندھی نے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے اتنی شدت سے یہ مطالبہ کیا کہ حکومت کو مجبور ہو کر بحث کرانی پڑی۔ اس میں بھی راہل نے حکومت کی بخیہ ادھیڑی۔ ان کا جواب دینے کے لیے ارون جیٹلی کھڑے ہوئے لیکن انھوں نے سوالوں کے جواب دینے کے بجائے کانگریس صدر کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ انھوں نے یہ کہہ کر اپنی ذہنی سطحیت کا مظاہرہ کیا کہ بچپن میں راہل گاندھی کواتروچی کی گود میں کھیلتے تھے اور یہ کہ جیمس بانڈ کی فلمیں دیکھتے تھے۔ انھوں نے نہرو گاندھی خاندان کو بھی شرمناک انداز میں نشانہ بنایا۔

اگلے روز نرملا سیتا رمن مورچہ سنبھالنے کے لیے کھڑی ہوئیں۔ لیکن اپنی فطرت کے مطابق انھوں نے سنجیدگی سے کوئی بات کہنے کے بجائے پرجوش انداز میں تقریر کی اور ایسا لگا کہ وہ غصے سے بھری ہوئی ہیں۔ انھوں نے بھی سوالوں کے جواب دینے کے بجائے ادھر ادھر کی ہانک لگائی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جیٹلی ہوں یا سیتا رمن، مودی ہوں یا کوئی اور، یہ لوگ راہل گاندھی کو نیچا دکھانے کے لیے بوفورس توپ سودہ اٹھانے لگتے ہیں اور اس کی بنیاد پر نہرو گاندھی خاندان کو نشانہ بنانے لگتے ہیں۔ حالانکہ بوفورس سودے کی جانچ میں کچھ بھی نہیں نکلا۔ یہ لوگ بڑے زور شور سے دلالی کی بات کرتے ہیں لیکن عدالت میں یہ الزام ثابت نہیں ہو سکا ہے۔

بوفورس معاملے میں ناکامی کی صورت میں انھوں نے اگستا سودے کا معاملہ اچھالا ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی بات نکل کر نہیں آرہی ہے۔ ہاں ایک شخص کرشچین مشیل کو حکومت لندن سے یہاں لے آئی ہے۔ لیکن اب تک اس کی باتوں سے بھی کچھ ایسا سامنے نہیں آیا ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ گاندھی نہرو خاندان نے رشوت لی ہے۔ ای ڈی نے عدالت کو بتایا کہ مشیل نے سونیا گاندھی کا نام لیا ہے۔ لیکن یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ ان کا نام کس حیثیت سے لیا گیا ہے۔ کیا نام لے لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس خاندان نے رشوت لی ہے۔ نام تو وہ مودی کا بھی لے سکتا ہے۔

جیٹلی اور سیتا رمن نے تقریریں تو خوب کیں لیکن راہل کے کسی بھی سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ راہل نے بحث سے قبل اور بحث کے بعد بھی پریس کانفرنس کی اور اپنے الزامات دوہرائے۔ انھوں نے سیتا رمن کے جواب کے بعد بھی نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سوالوں کے جواب نہیں آئے۔ اس پر ان لوگوں کی زبان بند ہے۔ وہ کوئی بھی جواب دینے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتے۔

اس پورے معاملے میں اور پارلیمنٹ میں بحث کے دوران بھی راہل گاندھی نے شائستگی کا دامن نہیں چھوڑا۔ انھوں نے کسی پر کوئی ذاتی حملہ نہیں کیا۔ صرف اصولی بات کہی۔ جبکہ مودی، جیٹلی، سیتا رمن اور دوسرے بھاجپائی لیڈران جب بولتے ہیں تو راہل پر ذاتی حملے کرتے ہیں۔ وہ اب بھی ان کا مذاق اڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ یہ دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح پارٹی صدر بننے کے بعد انھوں نے مردہ کانگریس میں نئی روح پھونک دی ہے اور کس طرح تین ریاستیں بی جے پی سے چھین کر اس کی قومی سطح کی پوزیشن کمزور کر دی ہے۔

اب وہ صحافی حضرات بھی جو راہل کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے ان کو وزن دینے لگے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں کہ اب نیوز چینل ان کے اوپر خصوصی پروگرام کرنے لگے ہیں بلکہ وہ اب یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ راہل گاندھی 2019 میں مودی کے لیے سب سے بڑے چیلنج بن کر ابھریں گے۔ اب وہ عوامی رائے کی بنیاد پر یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ وزیر اعظم کے دعوے دار کی حیثیت سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر ان رایوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو وزیر اعظم کی حیثیت سے مودی کی مقبولیت میں بتدریج کمی اور راہل کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ راہل گاندھی نے 2019 کے پارلیمانی الیکشن کا ایجنڈہ سیٹ کر دیا ہے اور اب بی جے پی کو اسی ایجنڈے پر چلنا ہوگا۔ سیاست میں اس بات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے کہ کون آگے آگے ہے اور کون اس کے پیچھے پیچھے۔ حالیہ سیاسی حالات چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ راہل گاندھی آگے آگے ہیں اور بی جے پی اور پوی حکومت ان کے پیچھے ہے۔ گویا اس بار کا الیکشن براہ راست راہل گاندھی بنام بی جے پی و حکومت ہوگا۔

Published: 6 Jan 2019, 7:09 PM