بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر اٹھتے سوال اور آگے کی راہ پر تذبذب... رام پنیانی

آج جمہوری اقدار کا گلا گھونٹا جا رہا ہے اور فرقہ واریت کا بول بالا ہے۔ اب ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ فرقہ پرستی پر مبنی جن جذباتی ایشوز کو اچھالا جا رہا ہے، ان سے مقابلہ کرنے کی ہماری پالیسی کیا ہوگی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

رام پنیانی

گزشتہ 9 نومبر کو بابری مسجد معاملہ پر سنائے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہندوستانی سیاست کے ایک طویل اور افسوسناک نصاب کا اختتام ہو گیا۔ بنیادی طور پر وی ایچ پی کے ذریعہ شروع کی گئی اس تحریک کو بی جے پی نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا، لال کرشن اڈوانی نے سومناتھ سے ایودھیا تک رتھ یاترا نکالی اور 6 دسمبر 1992 کو کارسیوکوں نے بابری مسجد کو منہدم کر دیا۔ اس پورے واقعہ کو الگ الگ اشخاص الگ الگ نظرہی سے دیکھتے ہیں۔ جو جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں، ان کے لیے بابری مسجد کا انہدام ہندوستانی آئین پر حملہ تھا۔

مسلم طبقہ کے ایک حصے اور ان کے کچھ اداروں کا ماننا تھا کہ ان کی عبادت گاہ کو ناپاک کر کے سبھی مسلمانوں کو بے عزت کیا گیا ہے۔ آر ایس ایس فیملی، جس نے اس پوری مہم اور بابری مسجد انہدام کی قیادت کی تھی، اس دن کو ’شوریہ دیوس‘ یعنی یومِ بہادری کی شکل میں منانے لگی۔ اس کے مطابق بابری مسجد کو منہدم کر کے ایک غیر ملکی حملہ آور کی فتح کی علامت کو ختم کیا گیا اور ہندوؤں کا وقار دوبارہ بحال کیا گیا۔

اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی ماہرین قانون نے تشریح کی ہے۔ ان میں سے ایک فیضان مصطفی کا کہنا ہے کہ فیصلے کے کچھ حصے مضحکہ خیز ہیں۔ کئی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فیصلہ میں سنگین قانونی خامیاں ہیں۔ اس ضمن میں لال کرشن اڈوانی کا تبصرہ عدالتی فیصلہ کی بُنت میں موجود چیزوں کو ٹھیک انداز میں پیش کرتی ہے۔ اڈوانی نے کہا کہ ’’یہ اطمینان کی بات ہے کہ ان کی (ہندو) عقیدتوں اور جذبات کو عزت دی گئی۔‘‘ دراصل ٹھیک یہی ہوا بھی ہے۔ آئینی بنچ نے دلیل اور قانون کو بالائے طاق رکھ کر ہندوؤں کے ایک طبقے کی عقیدت اور یقین کو توجہ دی ہے۔

یہ دلچسپ ہے کہ ہندوؤں کی یہ ’عقیدت‘ محض کچھ دہائیوں پرانی ہے کہ رام ٹھیک اس جگہ پر پیدا ہوئے تھے جس کے اوپر بابری مسجد کا اصل گنبد تھا۔ اس ’عقیدت‘، جسے انتہائی ہنرمندی سے تیار کیا گیا تھا، نے طویل مدت تک ملک کی سیاست کو گہرائی تک اثرانداز کیا اور ملک کو ایک ایسی راہ پر دھکیل دیا جس پر وہ اب تک نہیں چل رہا تھا۔

اب، آگے کی راہ کیا ہو؟ کچھ حساس، انسان دوست اور اداروں و تنظیموں نے اس پورے معاملہ میں سپریم کورٹ میں نظرثانی عرضی داخل کرنے کی بات کی ہے۔ نظرثانی عرضی کی بنیاد بالکل واضح ہے۔ سپریم کورٹ نے تاریخی دلائل کو نظرانداز کیا ہے اور اس کی اس دلیل میں کوئی دم نہیں ہے کہ مسلم فریق یہ ثابت نہیں کر سکا کہ اس جگہ پر 1538 سے لے کر 1857 تک نماز ادا کی جاتی تھی۔ فیصلہ میں متنازعہ اراضی کی ٹائٹل ڈیڈ کو ضروری اہمیت نہیں دی گئی ہے۔

نظرثانی عرضی کے ایشو پر مسلم تنظیمیں متحد نہیں ہیں۔ کچھ چاہتے ہیں کہ عرضی داخل کی جائے تو کچھ تنظیمیں اس ایشو پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں یا ابھی تک کسی فیصلہ پر نہیں پہنچی ہیں۔ اس ضمن میں زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے تقریباً 100 اہم مسلم شخصیتوں کا تازہ تبصرہ ہوا کے ایک تازہ جھونکے کی طرح آیا ہے۔ شبانہ اعظمی اور نصیرالدین شاہ سمیت ان لوگوں نے کہا ہے کہ ’’ملک کی عدالت عظمیٰ کے ذریعہ اپنے فیصلہ میں عقیدت کو قانون سے اوپر رکھے جانے پر ہندوستانی مسلم طبقہ، آئینی ماہرین اور سیکولر اداروں کی ناخوشی سے ہم متفق ہیں۔ یہ مانتے ہوئے بھی کہ عدالت کا حکم انصاف کے نظریہ سے خامی بھرا ہے، ہمارا یہ ماننا ہے کہ ایودھیا تنازعہ کو زندہ رکھنے سے ہندوستانی مسلمانوں کو فائدہ نہ ہو کر نقصان ہی ہوگا۔‘‘

یہ دلیل واجب ہے۔ سب سے پہلے تو بابری مسجد کو ہندوستانی مسلمانوں سے جوڑنا، تاریخ کو فرقہ واریت کے چشمے سے دیکھنے-دکھانے کی کوشش ہے۔ مسلمان حکمرانوں کو ’غیر ملکی‘ اور ان کے دور کو ہندوستان کی ’غلامی‘ کا دور بتایا جا رہا ہے۔ صدیوں پہلے حکومت کرنے والے مسلم حکمرانوں کو آج کے ہندوستانی مسلمانوں سے جوڑ دینا بھی فرقہ وارانہ سیاست کی ایک بڑی ’حصولیابی‘ ہے۔ اس غلط تشہیر کے جال میں کچھ مسلمان بھی پھنس گئے اور انھوں نے مسجد کے دفاع کو اپنا خاص ایجنڈا بنا لیا۔

آئینی ضابطوں کا مذاق بناتے ہوئے ہندو نیشنلسٹ طاقتوں نے نہ صرف بابری مسجد کو زمین دوز کیا ورنہ اس کی وجہ سے جو تشدد ہوا، اس کا استعمال سماج کو مذہبی بنیاد پر پولرائز کرنے کے لیے کیا۔ ملک کی اہم مسلم شخصیتوں کے ذریعہ جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلمان نہ صرف فرقہ وارانہ تشدد کے شکار بنے، بلکہ پوری رام مندر تحریک نے کئی طرح سے ان کا زبردست نقصان کیا۔ بابری مسجد کے ایشو نے آر ایس ایس فیملی کی طاقت میں زبردست اضافہ کیا۔ دلائل اور سچ بنام جذباتی ایشوز کی جدوجہد سیاست کے میدان میں دیکھنے کو ملی۔ اس جدوجہد سے آر ایس ایس فیملی کو جو فائدہ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ آر ایس ایس فیملی کی رکن پارٹی بی جے پی کو انتخابات میں زبردست کامیابی ملتی رہی۔ اس دور میں لو-جہاد، گھر واپسی اور گائے جیسے جذباتی ایشوز بھی اچھالے گئے لیکن بی جے پی کی طاقت میں جو بے تحاشہ اضافہ ہوا، اس کی بُنت میں بابری مسجد ایشو ہی تھا۔

فیصلہ پر نظرثانی کی عرضی داخل کرنا آئینی اور قانونی نظر سے سب سے مناسب معلوم پڑتا ہے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ اس سے بابری مسجد-رام مندر ایشو زندہ رہے گا اور اس کے سیاسی اثرات مسلمانوں کے لیے مضر ہی ہوں گے۔ آج کے دور میں جمہوری اقدار کا گلا گھونٹا جا رہا ہے اور فرقہ واریت کا بول بالا بڑھ رہا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اس بات پر گہرائی سے غور کریں کہ فرقہ وارانہ سیاست کے ذریعہ جن شناخت سے جڑے اور جذباتی ایشوز کو اچھالا جا رہا ہے ان سے مقابلہ کرنے کی ہماری پالیسی کیا ہو۔

موجودہ معاشی اور سیاسی حالت نے سماج کے کئی طبقات کو بہت فکرمند اور پریشان کر دیا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے جڑے ایشوز کو اہمیت دی جائے۔ مسجد-مندر کی لڑائی سے دونوں ہی طبقات کا بھلا نہیں ہونے والا۔ مسلمانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے لیے تعلیم اور روزگار کے ساتھ سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد، مسجد سے زیادہ اہم ہے۔

بابری مسجد واقعہ میں فیصلہ نے مسلم طبقہ ہی نہیں، جمہوریت کے تئیں پرعزم سبھی اشخاص کو تذبذب میں ڈال دیا ہے۔ ہم سب کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم روزانہ کی زندگی سے جڑے ایشوز پر فوکس کریں گے۔ آزادی کے فوراً بعد بھی ملک کے سامنے سومناتھ مندر کا ایشو ابھرا تھا جسے نہرو نے ’’جمہوری ملک میں ہندو عروج‘ کا نشان بتایا تھا۔ ان کی یہ پیشین گوئی بالکل صحیح ثابت ہوئی۔ وہ اس عروج کو کافی وقت تک روکے رہے لیکن 1980 کی دہائی میں اس عروج کا ملک میں بول بالا ہو گیا اور جذباتی ایشوز نے ترجیحات حاصل کر لی۔