اکال تخت پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی پیشی... ہرجندر
ماضی میں پنجاب کے 4 وزرائے اعلیٰ، حتیٰ کہ صدر گیانی جیل سنگھ کو بھی اکال تخت طلب کر چکا ہے۔

پنجاب کے سیاسی منظرنامہ میں سال کے پہلے ہفتہ سے ہی سب سے گرم ایشو تھا وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی اکال تخت کے سامنے پیشی۔ بھگونت مان سے جڑے کئی تنازعات کے باعث اکال تخت نے انہیں طلب کیا تھا۔ بیشتر الزامات کے پیچھے بھگونت مان کی زبان درازی تھی۔ اکال تخت کا ماننا تھا کہ ان بیانات میں انہوں نے سکھ مذہب کے وقار کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ اکال تخت اُس توہین آمیز ویڈیو کے معاملہ پر بھی وضاحت چاہتا تھا جسے بھگونت مان اور ان کی پارٹی نے فرضی قرار دیا تھا۔
یہ بھگونت مان اور ان کی پارٹی کے سامنے ایک نئے قسم کا چیلنج تھا۔ ابتدا میں ایسا محسوس ہوا کہ وہ سمجھ ہی نہیں پا رہے تھے کہ اس کا سامنا کیسے کیا جائے۔ پارٹی کے ایک ترجمان نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اکالی دل ’شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی‘ کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ خود بھگونت مان نے بھی شرط رکھی کہ ان کی پیشی کا براہ راست نشر کیا جائے۔ اسے ریلٹی شو بنانے والی اس شرط کو اکال تخت نے قبول نہیں کیا۔ پھر حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پارٹی کے باغی سُر بھی مدھم پڑ گئے اور وزیر اعلیٰ کی طرف سے یہ بیان آیا کہ وہ ننگے پاؤں اکال تخت جائیں گے۔
پنجاب کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں پنجاب کے 4 وزرائے اعلیٰ، حتیٰ کہ صدر گیانی جیل سنگھ کو بھی اکال تخت طلب کر چکا ہے۔ اس بار فرق یہ تھا کہ وزیر اعلیٰ مان کو پہلے کی طرح تخت کی فصیل پر بلانے کے بجائے اکال تخت کے سکریٹریٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ مان امرت دھاری اور مکمل سکھ نہیں بلکہ ’پتِت‘ سکھ ہیں، اس لیے انہیں اکال تخت کی فصیل پر نہیں بلایا جا سکتا۔
اس سے ایک نئی بحث چھڑ گئی کہ کیا ہر وہ سکھ جو امرت دھاری نہیں ہے، پتِت سکھ کہلا سکتا ہے؟ دوسری طرف ایس جی پی سی کی سابق صدر بی بی جاگیر کور نے کمیٹی کے موجودہ صدر ہرجندر سنگھ دھامی اور اکال تخت کے جتھے دار کلدیپ سنگھ گرگج کو خط لکھ کر کہا کہ یہ پیشی سکھ مذہب کے عقیدہ کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ اکال تخت صرف امرت دھاری سکھ کو ہی طلب کر سکتا ہے۔
گزشتہ جمعرات کو جب بھگونت مان اکال تخت پہنچے تو ان کے ساتھ 2 بھرے ہوئے بیگ بھی تھے۔ بتایا گیا کہ ان میں وہ اپنی بے گناہی کے ثبوت ساتھ لے گئے تھے۔ بعد میں جتھے دار گرگج نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے نہایت عاجزی کے ساتھ پیشی دی اور کئی الزامات پر اپنی غلطی تسلیم کی کہ انہیں اس طرح کے بیانات نہیں دینے چاہیے تھے۔ وزیر اعلیٰ کی اس پیشی کے ساتھ ہی سیاسی بحث ختم ہو گئی۔ تاہم کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ بھگونت مان کی اس پیشی کی پوری تفصیل اب 5 سکھ صاحبان کے سامنے پیش کی جائے گی۔ وہاں یہ طے ہوگا کہ انہیں سزا دی جائے یا بری کر دیا جائے۔
مذہبی میلے میں انتخابی سرگرمیاں
مکتسر صاحب کا مشہور سالانہ ماگھی میلہ اس بار سیاست کا میدان بن گیا۔ کانگریس کو چھوڑ کر باقی تمام جماعتوں نے اس موقع پر اپنے اپنے پنڈال سجائے اور کانفرنسیں منعقد کیں۔ مکتسر کی لڑائی میں شہید ہونے والے 40 مُکتوں کی یاد میں منائے جانے والے اس مذہبی اور ثقافتی اجتماع سے جو خبریں سامنے آئیں، وہ زیادہ تر سیاسی ہی تھیں۔
سب سے بڑا اہتمام عام آدمی پارٹی نے کیا۔ اس کے شاندار پنڈال اور 1600 بسوں کے انتظام کی چرچا میڈیا میں پہلے ہی شروع ہو گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ بھگونت مان اور ان کے وزارتی ساتھیوں کے علاوہ پارٹی رہنما منیش سسودیا بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ بھگونت مان نے ایس جی پی سی کے گرو گرنتھ صاحب کے گمشدہ 328 سروپوں میں سے 169 کا سراغ لگانے کی بات کہہ کر میڈیا میں سرخیاں بٹوریں۔ عآپ نے 2016 کے ماگھی میلے میں بھی اسی طرح کا اہتمام کیا تھا۔ اس وقت وہ پنجاب کے لیے ایک نئی پارٹی تھی اور یہ پروگرام اس کے لیے لانچ پیڈ ثابت ہوا تھا۔ اب 2027 کے لیے بھی اسی امید کے ساتھ پارٹی مکتسر صاحب کے میدان میں اتری تھی۔
بہرحال، سکھبیر بادل کی قیادت والا اکالی دل بھی پیچھے نہیں تھا۔ جب سکھبیر بادل تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے وعدوں کی جھڑی لگا دی۔ ایک طرح سے انہوں نے آنے والے اسمبلی انتخابات کے لیے پارٹی کا منشور ہی پڑھ کر سنا دیا۔ پہلی بار اس طرح کے کسی موقع پر بی جے پی نے بھی الگ سے اپنا اسٹیج سجایا۔ اسٹیج پر مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر، رونیت سنگھ بٹّو اور پنجاب بی جے پی کے صدر سنیل جاکھڑ کے علاوہ زعفرانی پگڑی میں ملبوس ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی بھی موجود تھے۔ سینی گزشتہ کچھ عرصہ سے پنجاب کے تقریباً تمام مذہبی تقاریب میں اسی لباس میں نظر آ رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ بی جے پی سینی کی مدد سے پنجاب میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسٹیج سے صرف ڈبل انجن حکومت کے گن گائے گئے، مگر پارٹی اتنی بھیڑ جمع نہیں کر سکی جتنی دیگر تقاریب میں نظر آئی۔ سمرنجیت سنگھ مان کی پارٹی اکالی دل امرتسر اور این ایس اے کے تحت آسام کے ڈبروگڑھ جیل میں قید رکنِ پارلیمنٹ امرت پال سنگھ کی پارٹی ’وارث پنجاب دے‘ نے بھی اپنی اپنی ریلیاں کیں۔
صرف کانگریس ہی ایسی پارٹی تھی جس نے اس موقع پر کوئی پروگرام منعقد نہیں کیا۔ پارٹی نے اکال تخت کے 2017 کے ایک حکم نامہ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ مذہبی مواقع پر سیاسی تقریبات نہیں کی جانی چاہئیں۔ پارٹی کے پنجاب صدر امرندر سنگھ راجہ وڈنگ نے اس پر صرف اتنا کہا کہ ’’ان کی پارٹی مذہب اور سیاست کو ملانے میں یقین نہیں رکھتی۔‘‘ اگرچہ ماگھی میلے میں کانگریس غیر حاضر رہی، لیکن آگے کی سیاست میں پارٹی کا داؤ کافی بڑا ہے۔ انتخابات میں ابھی ایک سال باقی ہے اور تب تک سبھی کو پنجاب کی زمین پر ہی محنت کرنی ہوگی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔