تریپورہ: کڑوہ سچ اور میٹھا جھوٹ... اعظم شہاب

پی یو سی ایل کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی وجہ سے ریاستی سرکار کے لیے عدالت اور کمیشن کو گمراہ کرنا بے حد مشکل ہوگیا ہے۔

آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے ارکان تریپورہ بھون کے باہر تریپورہ تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے۔ فائل تصویر آئی اے ین ایس
آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے ارکان تریپورہ بھون کے باہر تریپورہ تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے۔ فائل تصویر آئی اے ین ایس
user

اعظم شہاب

جھوٹ کی مٹھاس کے مانند سچ کی کڑواہٹ بھی مشہور ہے جس میں ایک اگر اپنی تاثیر میں زہر کی مانند نقصان دہ تو دوسری دوا کی طرح مفید ہے۔ اس کا اندازہ کرنا ہو تو تریپورہ سے متعلق گودی میڈیا کی گمراہ کن خبریں اور پی یو سی ایل کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کافی ہے۔ ہماری مودی حکومت کی ایک حصولیابی یہ بھی ہے کہ فی زمانہ جھوٹ بولنے پر انعام کے طور پر اشتہار ملتے ہیں اور سچ بولنے پر ملک سے بغاوت کا مقدمہ قائم ہوجاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں گزشتہ ماہ درگا پنڈالوں پر حملوں کے بعد وشو ہندو پریشد نے 26 ؍اکتوبر کو تریپورہ میں ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کرکے مساجد کے علاوہ مسلمانوں کی دکانوں اور گھروں پر حملے کیے۔ اس کی ویڈیوز جب سوشل میڈیا میں آئیں تو ریاستی سرکار نے اس سے انکار کر دیا۔ اس کا خیال رہا ہوگا کہ اتنی دور تریپورہ میں سچائی کا پتہ لگانے کے لیے کوئی نہیں آئے گا اور قومی میڈیا کے سہارے اس کا جھوٹ چل جائے گا۔ لیکن اس کی توقع کے بر خلاف پیپلز یونین فار سول لبرٹیز کے وکیل مکیش کمار اور نیشنل کنفیڈریشن آف ہیومن رائٹس کے انصار اندوری زمینی حقائق کا پتہ لگانے کے لیے تریپورہ پہنچ گئے اور سپریم کورٹ کے وکلاء احتشام ہاشمی اور امت سریواستو نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کر دی۔

پی یو سی ایل کا یہ سچ ریاستی حکومت کو اس قدر کڑوا لگا کہ اس نے ان وکلاء کے خلاف یو اے پی اے کی دفعہ 13؍ اور تعزیرات ہند کی بدامنی، جعلسازی، جان بوجھ کر توہین اور مجرمانہ سازش کو فروغ دینے سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ ان مقدمات کی تفصیل اس طرح ہے کہ آئی پی سی کی دفعہ 153(A) ور 153(B) (مذہب، نسل، زبان، جائے پیدائش، رہائش وغیرہ کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کرنا اور اس مقصد کے تحت کام کرنا)، 469 (ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے جعلسازی)، 471، 503 (مجرمانہ دھمکی)، 504، 120(B)( مجرمانہ سازش) اور کسی غیر قانونی سرگرمی کو اکسانے یا مدد کرنے سے متعلق یو اے پی اے کی دفعہ 13 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے مکیش کمار اور انصاراندوری کو یو اے پی اے کے تحت نوٹس جاری کرکے انھیں 10 نومبر کو تفتیش کے لیے حاضر ہونے کو کہا ہے۔


اس رپورٹ میں کچھ افسران اور انتظامیہ کو کچھ معاملات کو بحسن و خوبی سنبھالنے کا کریڈٹ بھی دیا گیا ہے لیکن اس حقیقت سے پردہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ مذکورہ تشدد ’’انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی غیر ذمہ داری اور موقع پرست سیاستدانوں کے مفادات‘‘ کی وجہ سے شروع ہوا۔ ریاستی سرکار نے اس پر بوکھلاہٹ کا مظاہرہ اس لیے کیا کیونکہ یہ رپورٹ تشدد پھوٹنے سے چار دن پہلے جمعیۃ علما (ہند) کی ریاستی اکائی کے وزیر اعلیٰ بپلب کمار دیب کو تشدد کے امکان سے خبردار کرنے کی بات بتائی ہے اور اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی کارروائی نہ کرنے کو تشدد کی سرپرستی کرنے کا مترادف قرار دیتی ہے۔ پی یو سی ایل نے چونکہ وی ایچ پی اور ایچ جے ایم کے تریپورہ پولیس کی ساتھ ملی بھگت اور شعوری طور پر اپنے فرائض سے دستبرداری کو نمایاں کیا ہے اس لیے اسے ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔

اس طرح کے اقدامات کرکے اگر سرکار اس خوش فہمی کا شکار ہے کہ یہ جہد کار خوفزدہ ہوجائیں گے تو اسے اس کا بھولا پن ہی کہا جائے گا۔ نوٹس ملنے کے بعد مکیش نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہوں نے تشدد کو ہوا دینے والی یا مذہبی نفرت پیدا کرنے والا کوئی مواد شیئر نہیں کیا بلکہ زمینی حقائق سامنے رکھے ہیں۔ مکیش کے فیس بک پیچ پر تریپورہ تشدد سے جڑی پوسٹ میں وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے ذریعے پہلے سے اپنے کیڈرس کو اقلیتوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ اور نعرے بازیوں کے لیے تربیت دینے کے ثبوت موجود ہیں۔ مکیش اور انصاری اپنے موقف پر قائم ہیں اور انہوں نے اپنے سوشل میڈیا سے کوئی پوسٹ نہیں ہٹائی ہے۔ انصاری نے یہ بھی کہا کہ ’اگر انہیں اس رپورٹ میں ذرا سا بھی جھوٹ یا بغاوت کا کوئی عنصر نظر آتا ہے تو عدالتیں اور حکومت اس کی تحقیقات کرا سکتی ہیں‘۔ حکومت کی اس دھاندلی کے خلاف دارالحکومت دہلی میں تریپورہ بھون کے باہر مختلف طلبہ یونینوں اور وکلاء کی تنظیموں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ تیار کرنے والے وکلاء کو یو اے پی اے کے تحت جاری کیے گئے نوٹس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ اس موقع پر وکلاء تنظیم اے آئی ایل اے جے کے رہنما ایڈوکیٹ سورج نے کہا کہ حکومت ان لوگوں کو ڈرانے کی کوشش کر رہی ہے جو حق کی آواز بلند کرتے ہیں۔


اس احتجاج میں شامل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے ارکان نے کہا کہ سخت گیر ہندو تنظیموں کے خلاف ہم ہمیشہ اپنی آواز بلند کریں گے۔ احتجاجی مظاہرے میں موجود نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے شیخ جیلانی نے وکلاء پر یو اے پی اے کے تحت کارروائی کو غلط ٹھہراتے ہوئے کہا کہ سچ دکھانا کوئی جرم نہیں ہے، ہو سکتا ہے کہ بی جے پی کی نظر میں یہ جرم ہوتا ہو لیکن اس ملک کا آئین ہمیں سچ کو سامنے رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دونوں وکلاء کے خلاف جاری نوٹس کو رد کیا جائے۔ اس بابت دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے کہا کہ تری پورہ تشدد نے ہمارے ملک کی شبیہ کو خراب کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تری پورہ حکومت اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہے۔

اسی پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر سلیم انجینئر نے کہا کہ وفد نے تین دنوں تک تری پورہ میں رہ کر مقامی مسلم و غیر مسلم متاثرین سے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرنے کی بھی کوشش کی لیکن وہ وفد سے نہیں ملے۔ اس معاملے میں ریاستی حکومت کب تک منہ چھپائے گی اور کس کس سے لڑے گی کیونکہ اب تو تریپورہ ہائی کورٹ نے بھی اس معاملے کا ازخود نوٹس لے کر ریاستی حکومت سے تشدد پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ہائی کورٹ کے علاوہ ترنمول کانگریس کی شکایت پر قومی انسانی حقوق کمیشن نے بھی تریپورہ کے چیف سکریٹری کمار آلوک سمیت ڈی جی پی وی ایس یادو کو بھی نوٹس دیا ہے۔ اس سے قبل قومی اقلیتی کمیشن کی بے حسی اور اقلیتوں کا تحفظ کرنے میں ناکامی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بات دراصل یہ ہے کہ اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی روشنی میں ریاستی سرکار کے لیے عدالت اور کمیشن کو گمراہ کرنا بے حد مشکل ہوگیا ہے۔


لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ جھوٹ کتنا ہی میٹھا کیوں نہ ہوجائے جھوٹ ہی رہتا ہے اور سچائی کتنی ہی کڑوی کیوں نہ ہو جائے اس کی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔ گودی میڈیا کے ذریعے میٹھا جھوٹ پھیلانے کے باوجود سوشل میڈیا کی کڑوی سچائی کا سامنا نہ تو تریپورہ کی حکومت کر پا رہی ہے اورنہ ہی وہاں کی پولیس۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تریپورہ میں اقلیتوں پر حملے کا ازخود نوٹس تریپورہ کی ہائی کورٹ نے تو لے لیا، مگر حکومت اور پولیس ابھی تک اس سے انکار کر رہی ہے اور جو لوگ بھی اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں انہیں گرفتار اور نشانہ بنا رہی ہے۔ اب تو حالت یہ ہے کہ یو اے پی اے کا استعمال کچھ یوں ہو رہا ہے گویا یہ دہشت گردی سے متعلق نہیں بلکہ سیاسی کشیدگی سے متعلق کوئی قانون ہے۔ تریپورہ پولیس نے ٹوئٹرکے 102 صارفین کے خلاف یو اے پی اے کا استعمال کرتے ہوئے ٹوئٹرکو حکم دیا ہے کہ ان کے اکاؤنٹ بلاک کر دیئے جائیں۔ لیکن تریپورہ پولیس اور وہاں کی حکومت کو یہ بات کون سمجھائے کہ سچائی کی کڑواہٹ کے سامنے جھوٹ کی مٹھاس کی عمر بہت معمولی ہوتی ہے۔ اسے جتنا دبانے کی کوشش کی جائے گی، وہ اپنی موجودگی کا اسی قدراحساس کراتی رہے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔