اے ایم یو میں جناح کی تصویر لگی رہنی چاہیے... اجے سنگھ

اے ایم یو طلبا یونین ہال میں لگی محمد علی جناح کی تصویر

جناح سے متعلق تنازعہ نریندر مودی-امت شاہ-یوگی آدتیہ ناتھ کے اشارے اور شہ پر شروع کیا گیا ہے اور اس کے پیچھے واضح سیاسی مقصد پنہاں ہے۔

بیسویں صدی میں آزادیٔ ہند کی تحریک کے انتہائی اہم اور بااثر سیاسی لیڈر و ہندو-مسلم اتحاد کے سفیر محمد علی جناح کی تصویر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کے اسٹوڈنٹ یونین ہال میں لگی رہنی چاہیے۔ اسے وہاں سے ہرگز نہیں ہٹایا جانا چاہیے۔ وہ تصویر وہاں 1938 سے لگی ہوئی ہے جب طلبا یونین نے محمد علی جناح کو اپنی تاحیات رکنیت عطا کی تھی۔ جب اس تصویر پر آج تک کوئی تنازعہ نہیں ہوا تو پھر اب کیوں! یہ تنازعہ (اگر اس کو تنازعہ کہا جائے) آر ایس ایس-بی جے پی کی اس منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے جس کے تحت ہندوستان کو ’ہندو راشٹر‘ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی لیے کبھی جناح، کبھی نماز، کبھی گائے، کبھی ’لَو جہاد‘، کبھی بنگلہ دیشی مسلمان، کبھی روہنگیا، کبھی مسلمان راجاؤں کے ہاتھوں ہندو عورتوں کی بے عزتی جیسے ایشوز اچھالے جاتے ہیں۔

بنگلہ دیش اور پاکستان سے ہندوستان آئے ہندوؤں کو شرنارتھی اور مسلمانوں کو درانداز اسی سازش کے تحت کہا جاتا ہے۔ اور پھر آر ایس ایس-بی جے پی کی طرف سے یہ مہم چلائی جاتی ہے کہ ایسے ہندوؤں کو ہندوستان کی شہریت دے دی جائے اور ایسے مسلمانوں کو ہندوستان سے باہر نکال دیا جائے۔

جناح سے متعلق تنازعہ نریندر مودی-امت شاہ-یوگی آدتیہ ناتھ کے اشارے اور شہ پر شروع کیا گیا ہے اور اس کا واضح سیاسی مقصد ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ 2 مئی 2018 کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جو تشدد ہوا، اس میں اتر پردیش کے بی جے پی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ذاتی فوج (پرائیویٹ آرمی) ہندو یوا واہنی کا اہم کردار تھا۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں آدتیہ ناتھ ایسے تنہا وزیر اعلیٰ ہیں جو اپنی ذاتی فوج (جس کا کردار پوری طرح سے فاشسٹ ہے) چلاتے ہیں، اور انھیں اس کی پوری چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ آدتیہ ناتھ پر کئی سنگین مجرمانہ معاملے اتر پردیش پولس کے اکاؤنٹ میں درج ہیں۔

جناح کی تصویر کو لے کر بی جے پی اور اس کی پیدل فوج نے جو ہنگامہ برپا کیا ہے اور جو غنڈہ گردی مچائی ہے اس کے پیچھے کے سیاسی مقاصد کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ پہلا، کٹھوعہ (جموں و کشمیر) مین آٹھ سالہ مسلم بچی کے ساتھ دردناک عصمت دری اور اس کے قتل کے معاملے میں بی جے پی بری طرح پھنسی ہوئی ہے اور کٹہرے میں ہے۔ اُناؤ (اتر پردیش) میں ایک نابالغ لڑکی سے بی جے پی ممبر اسمبلی کے عصمت دری کے معاملے میں بی جے پی کے کردار کی چہار جانب سے تنقید ہوئی ہے۔ جناح کی تصویر پر شروع کیا گیا تنازعہ ان دونوں سنگین معاملات سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے ہے۔

دوسرا، 12 مئی کو کرناٹک اسمبلی انتخابات ہوئے اور اتر پردیش میں کیرانہ لوک سبھا سیٹ و نور پور اسمبلی سیٹ کے لیے ضمنی انتخابات بھی جلد ہونے ہیں۔ ان انتخابات میں بی جے پی (اور نریندر مودی-امت شاہ-یوگی) کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ آر ایس ایس-بی جے پی نے ان انتخابات میں ہندو پولرائزیشن کے لیے پورا زور لگا رکھا ہے۔ اس کے لیے 80 سال قدیم جناح کی تصویر سے بہتر چیز اور کیا ہو سکتی ہے۔ دھیان دینے کی بات ہے کہ کیرانہ اور نور پور مغربی اتر پردیش میں ہیں اور علی گڑھ بھی مغربی اتر پردیش میں ہے۔ علی گڑھ میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا اثر کیرانہ اور نور پور میں فوراً پڑ سکتا ہے۔

انگریزوں کی غلامی کے خلاف بیسویں صدی میں آزادیٔ ہند کی تحریک میں محمد علی جناح کا نام اہم شخصیت کی شکل میں درج ہے۔ وہ برصغیر ہند کی تاریخ کے ناقابل فراموش حصہ ہیں۔ انھیں ویلن بنانے اور تقسیم ہند (1947) کے درد کے لیے واحد ذمہ دار ٹھہرانے کی کوششیں کافی ہوئیں اور ان کوششوں کو بہت حد تک کامیابی بھی ملی۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ تقسیم ہند کے لیے جناح کے ساتھ ساتھ کئی لیڈران ذمہ دار ہیں۔ 1960 کے آس پاس رام منوہر لوہیا کی ایک کتاب بعنوان ’بھارت وِبھاجن کے گنہگار‘ آئی تھی۔ اس کتاب کو ضرور پڑھیے۔ یہ جناح کو بری نہیں کرتی لیکن کچھ ایسے لیڈران ہیں جنھیں تقسیم ہند کے لیے زیادہ بڑا گنہگار بتاتی ہے۔

تاریخ میں اگر ویلن ڈھونڈنے اور بنانے کا سلسلہ شروع ہو جائے تو پھر اس کا آخر نہیں۔ گاندھی بھی تاریخ کے کئی موڑ پر ویلن نظر آتے ہیں۔ لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں، نہ یہ سائنسی نظریہ ہے۔ محمد علی جناح کہیں سے بھی ویلن نہیں ہیں، کچھ خامیاں اور کمزوریاں بے شک ان میں رہی ہوں گی۔ 1915 میں گوپال کرشن گوکھلے نے، جو جناح اور گاندھی دونوں کے سیاسی گرو تھے، جناح کو ہندو-مسلم کا سفیر کہا تھا۔ جناح تاحیات یہ ’سفیر‘ بنے رہے۔

سب سے زیادہ مقبول