بی جے پی کی ’انتقامی سیاست‘: الٹی پڑ گئیں سب تدبیریں

سوال یہ ہے کہ بی جے پی کی صفوں میں اور اس کی حلیف جماعتوں میں بھی ایسے کئی قائدین ہیں جن کے خلاف اسی نوعیت کے الزامات ہیں لیکن ان کے خلاف ایجنسیوں کے ذریعہ کوئی کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی ہے؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

نواب علی اختر

مرکز میں دوبارہ بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد سے شروع ہوا اپوزیشن رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ اب نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے لیڈر شرد پوار اور ان کے بھتیجے اجیت پوار تک جا پہنچا ہے۔ تازہ معاملہ مہاراشٹر سے متعلق ہے اور اس وجہ سے بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہو چکا ہے۔ اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا ہے کہ وہ جیل جانے کو تیار ہیں، لیکن دہلی کے اقتدار کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔

شرد پوار کے رخ نے پارٹی کارکنان میں نئی جان پھونک دی جس کے بعد این سی پی کارکن مہاراشٹرکی سڑکوں پراتر آئے۔ اس سے گھبرائے ای ڈی کی جانب سے این سی پی سربراہ کوبھیجے گئے ای میل میں نظم ونسق کی دہائی دیتے ہوئے لکھا گیا کہ انہیں ای ڈی آفس آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس فیصلے کے بعد شرد پوار نے کہا کہ ریاست میں نظم ونسق برقرار ہے اس لئے انہوں نے اپنا فیصلہ پلٹ دیا ہے۔ شردپوار کی سیاسی مہارت نے ایک طرح سے بی جے پی کومات دے دی ہے۔ ریاست میں انتخابات سے پہلے اپنی کھسکتی بنیاد کا احساس ہونے پر بی جے پی کے بعد شیوسینا بھی جانچ ایجنسی کے فیصلے کی مخالفت کرنے لگے ہیں۔

مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات کا شیڈول جاری ہوگیا ہے۔ ریاست میں 21 اکتوبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے اور 24 اکتوبر کو نتائج کا اعلان ہوگا۔ اس کے لئے اب ایک ماہ کا وقت بھی باقی نہیں رہ گیا ہے اور ریاست میں سیاسی اور انتخابی سرگرمیاں شدت اختیار کرچکی ہیں۔ ایسے میں ای ڈی کی جانب سے ایک اور اپوزیشن لیڈر کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے پر ریاست میں سیاسی طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔ شرد پوار اور اجیت پوار مہاراشٹر کے اہم اور طاقتور سیاسی قائدین ہیں۔ شرد پوار مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ اور مرکزی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ اجیت پوار مہارا شٹر کے نائب وزیراعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ شرد پوار کے خلاف مقدمہ کا اندراج ان شبہات کو تقویت دینے کے لئے کافی ہے کہ مرکز کی نریندر مودی حکومت کی جانب سے صرف اپوزیشن کے قائدین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مہاراشٹر میں شرد پوار کی حیثیت دیکھیں تو وہ ایسے لیڈر ہیں جن کی وجہ سے گزشتہ کئی دہائیوں سے اس ریاست میں کوئی بھی پارٹی اپنے دم پرحکومت نہیں بنا پائی ہے یہاں تک کہ بی جے پی ہندوتوا کی دہائی دینے کے باوجود آج تک ریاست میں اپنی مستقل بنیاد نہیں بنا پائی۔ بی جے پی کو بھی اپنے طور پرمہاراشٹر میں کبھی اکثریت نہیں ملی اور اسے ہمیشہ شیوسینا کا ساتھ لینا پڑا جو اس کے لئے مشکلیں ہی پیدا کرتی رہی ہے۔ مراٹھا لیڈر پوار کے رہتے مہاراشٹر میں اعلیٰ ذات کی سیاست بھی کبھی اس طرح سے مضبوط نہیں ہو سکی جس طرح سے کہ آر ایس ایس کی خواہش رہی ہے۔ دیویندر فڑنویس وزیر اعلیٰ بننے کے بعد بھی ریاست کے قدآور لیڈروں میں شمار نہیں ہو پائے ہیں۔ ایک طرح سے مہاراشٹر کے’بابائے سیاست‘ شرد پوار ہی بنے ہوئے ہیں۔

شرد پوار نہ صرف ریاست میں مراٹھا برادری کے مقبول لیڈر ہیں بلکہ کسان اور کوآپریٹو تحریک اور اداروں پر بھی ان کی مضبوط پکڑ رہی ہے۔ ان کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ مہاراشٹر کے کارپوریٹ سیکٹر کے ساتھ بھی ان کے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ مہاراشٹر کی دلت سیاست میں بھی ان کا سکّہ چلتا رہتا ہے اور دلت تحریک کا ایک حصہ وہ ہمیشہ اپنی صفوں میں رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے بی جے پی کوتبھی فائدہ مل سکتا ہے جب شرد پوار ریاست میں سیاسی طور پر ختم ہو جائیں، بی جے پی کے لئے یہ اس لئے بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے کیونکہ پوار کا مینڈیٹ کانگریس، شیوسینا اور بی جے پی تینوں کے درمیان تقسیم ہوتا ہے اور جس پارٹی کو بھی اس کا تھوڑا سا حصہ مل جائے گا وہ مہاراشٹر میں اپنے طور پر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔ مہاراشٹر میں شیوسینا کے ساتھ بی جے پی کی نونک جھونک والے رشتے ہیں وہیں ریاست میں کانگریس کی عوامی حمایت ٹھیک ٹھاک ہے لیکن اپوزیشن کا اہم چہرہ مراٹھا سردار شرد پوار ہی بنے ہوئے ہیں اس لئے بی جے پی کے نشانے پر سب سے پہلے وہی ہیں۔

اپوزیشن ہمیشہ سے مودی حکومت پر یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذریعہ مخالفین کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ان سے سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔ جس طرح سے تحقیقاتی ایجنسیوں نے اپوزیشن کے قائدین کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے اس سے ان الزامات کو مسترد کرنا آسان نہیں رہ جاتا۔ کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا، سابق وزیرخزانہ و داخلہ پی چدمبرم، کرناٹک میں کانگریس کے قد آور لیڈر ڈی کے شیو کمار، بہار میں لالو پرساد یادو، یو پی میں اکھلیش یادو کے علاوہ اپوزیشن پارٹیوں کے کئی قائدین کو جس طرح سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت سیاسی مخالفین سے انتقامی رویہ اختیار کر رہی ہے اور ان کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ خود بی جے پی کی صفوں میں اور اس کی حلیف جماعتوں میں بھی ایسے کئی قائدین ہیں جن کے خلاف اسی نوعیت کے الزامات ہیں لیکن ان کے خلاف ایجنسیوں کے ذریعہ کوئی کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی ہے؟ مقدمات کی ایک طویل فہرست ہے جس میں بی جے پی یا اس کی حلیف جماعتوں کے قائدین کے نام ہیں۔ فہرست میں کئی قائدین ایسے بھی شامل ہیں جو پہلے اپوزیشن کی صفوں میں تھے تاہم اب وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں تو انہیں بھی’معاف‘ کرتے ہوئے ایجنسیوں سے راحت ملی ہوئی ہے۔ بنگال میں ترنمول کے جن قائدین پر شاردا گھپلے کے تحت مقدمات درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا تھا لیکن جیسے ہی وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں ان کی تحقیقات کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا۔

مہاراشٹرا میں خاتون وزیر پنکجہ منڈے کے خلاف مقدمہ قائم ہے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بہار میں شیلٹر ہوم کے سنگین مسئلے نے پورے ملک کوجھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا لیکن چونکہ ’سوشاسن بابو‘ نتیش کمار بی جے پی کے پالے میں چلے گئے اس لئے ان کی پارٹی یا حکومت کے خلاف کوئی ایجنسی حرکت میں نہیں آئی ہے۔ کرناٹک بی جے پی کے لیڈر بی ایس یدی یورپا کے خلاف کان کنی اور رشوت جیسے بڑے پیمانے پر کئی مقدمات ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی تو دور کی بات ہے انہیں تو ریاست کا وزیراعلیٰ بنا کرشاید بدعنوانی کا انعام دیا گیا ہے۔ اس طرح یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صرف اپوزیشن قائدین ہی سرکاری ایجنسیوں کے نشانہ پر کیوں ہیں؟

Published: 29 Sep 2019, 4:10 PM