یوپی سے آندھرا تک نئے ابھرتے سیاسی محاذ

پھول پور پارلیمانی سیٹ پر مایاوتی کی حمایت کے بعد ایس پی کے امیدوار کی کامیابی یقینی سمجھی جارہی تھی لیکن عتیق احمد کے آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں آ جانے سے سماج وادی پارٹی کا حساب گڑبڑا گیا ہے۔

By عبیداللہ ناصر

پارلیمانی الیکشن جیسے جیسے قریب آتے جا رہے ہیں ملک کی سیاست میں اتھل پتھل بڑھتی جا رہی ہے جس کا سب سے دلچسپ نظارہ اتر پردیش میں دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں ابھی کل تک جو بات سپنوں میں بھی نہیں سوچی جا رہی تھی وہ حقیقت بن کر سامنے آچکی ہے یعنی ریاست کے دو پارلیمانی حلقوں کے ضمنی انتخابات اور راجیہ سبھا کے الیکشن کے لئے دو سیاسی کنارے مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی اور اکھلیش یادو کی سماج وادی پارٹی میں مفاہمت۔

اگر چہ پارلیمنٹ کے ضمنی الیکشن میں اس مفاہمت سے کانگریس کو دور رکھا گیا ہے لیکن بہوجن سماج پارٹی کے امیدوار بھیم راؤ امبیڈکر کو راجیہ سبھا کے الیکشن میں حمایت دے کر کانگریس نے پارلیمانی الیکشن میں ایک عظیم سیاسی اتحاد کا راستہ کھلا رکھا ہے ۔ اس سیاسی مفاہمت سے دونوں حلقوں کا ضمنی الیکشن بھی خاصہ دلچسپ ہو گیا ہے یہ دونوں پارلیمانی حلقہ گورکھپور اور پھول پور با لترتیب ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے استعفے سے خالی ہوئی ہیں۔

سیاسی مبصّرین ابھی تک دونو ں سیٹوں پر بی جے پی کی کامیابی کو یقینی بتا رہے تھے لیکن اب سب کا کہنا ہے کہ مقابلہ دلچسپ ہو گیا ہے اور نتیجوں میں الٹ پھیر بھی ہو سکتی ہے گورکھپور اور پڑوسی ضلعوں میں یوگی آدتیہ ناتھ کی ہندو یوا واہنی کا اثرخاص کر نوجوانوں پر بہت زیادہ ہے ، اس لئے وہاں بی جے پی کی کامیابی پر اب بھی لوگوں کو شک نہیں ہے لیکن پھول پور میں حالات بالکل دوسرے ہیں یہاں نائب وزیرا علی کیشوپر ساد موریہ کے خلاف عوام میں زبردست ناراضگی پائی جاتی ہے اور یہاں سماج وادی پارٹی کے امیدوار کی کامیابی یقینی سمجھی جا رہی تھی مایاوتی کی حمایت کے بعد تو کوئی شبہ بھی نہیں رہ گیا تھا لیکن پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے آخری دن باہو بلی عتیق احمد کے آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں آ جانے سے سماج وادی پارٹی کا حساب گڑبڑ ا گیا ہے کیونکہ عتیق احمد کا پس منظر کچھ بھی رہا ہو ، وہ عوام اور خاص کر مسلمانوں میں بہت مقبول ہیں ، حلقہ کے تیرہ فیصد مسلم ووٹر جن میں اکثریت بنکر برادری کی ہے کسی بھی امیدوار کی سیاسی قسمت کا فیصلہ کر سکتے ہیں اب تک یہ ووٹ سماج وادی پارٹی ، بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس میں بٹ جاتے تھے اس لئے وہ کوئی فیصلہ کن کردار نہیں ادا کر رہے تھے لیکن سماج وادی پارٹی اور بے ایس پی میں سمجھوتے کے بعد ان کے سامنے صاف متبادل آ گیا تھا ۔لیکن عتیق کی موجودگی سے مسلم ووٹر پھر کنفیوز ہورہا ہے یہ کنفیوزن بی جے پی کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کی بی جے پی نے ہی دباؤ ڈال کرعتیق کو میدان میں اتارا ہے، حالانکہ عتیق کے خیمے سے اس کی سختی سے تردید کی جارہی ہے۔ حالات یہ ہیں کی تیرہ فیصد مسلم ووٹ جس کی طرف ایک طرفہ طور سے جھک جائیں وہ امیدوار کامیاب ہو سکتا ہے بشرطیکہ اسے اپنی ذات کے ووٹ بھی پورے کے پورے مل جائیں ، مثلاً کانگریس کے منیش شرما کو اگر ان کی برادری برہمن کے سب 15 فیصدی ووٹ مل جائیں تو 13 فیصد مسلم ووٹ مل کر ان کو کامیاب کر سکتے ہیں ، کانگریس اسی ا سٹریٹجی پر کام بھی کر رہی ہے ۔

دیگرلوگوں کے علاوہ اس نے یو پی یوتھ کانگریس کے سابق صدر اور کچھوچھہ شریف و جائس کے صوفی خانوادہ کے فرد ندیم اشرف جائسی اور کانگریس دانشور شعبه کے ریاستی صدر سمپورنانندمشرا کو وہاں مستقل ڈیرہ ڈالنے کی ہدایت دی ہے ، یہ لوگ اپنی اپنی برادری کے ووٹروں کو کتنا متاثر کر سکتے ہیں اور بدلے ہوئے سیاسی ماحول اور سیاسی ریاضی میں کیا کردار ادا کرپائیں گے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے ، لیکن اس سے یہ صاف ظاہر ہو رہا کہ کانگریس ان ضمنی انتخابات کو بہت سنجیدگی سے لڑ رہی ہے۔گجرات کے بعد راجستھان اور مدھیہ پردیش کے ضمنی اور بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کی اچّھی کارکردگی سے بھی کارکنوں میں جوش ہے ، حالانکہ شمال مشرق کے نتائج نے بی جے پی کارکنوں کے حوصلوں کو بھی ساتویں آسمان پر پہنچا دیا ہے۔

ان ضمنی انتخابات کا نتیجہ کچھ بھی نکلے ، لیکن آئندہ عام انتخابات کے لئے اگر اتر پردیش میں مہا گٹھ بندھن جو کانگریس سماج وادی پارٹی بہوجن سماج پارٹی اور اجیت سنگھ کے لوک دل پر مشتمل ہو ، بن جاتا ہے تو یہ ہندستانی سیاست میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا اور دلی پر دوبارہ راج کرنے کے بی جے پی کے سپنوں کو ملیا میٹ کر سکتا ہے ۔

سیاسی مبصّرین کا خیال ہے کہ کانگریس پر دب کر سمجھوتہ کرنے کا دباؤ ڈالنے کے لئے ہی ضمنی انتخابات کے لئے گٹھ بندھن سے اسے الگ رکھا گیا ہے ، ان لوگوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کی آئندہ عام انتخابات میں سماجوادی پارٹی 35 بی ایس پی 30 اور کانگریس کے لئے 15 سیٹیں چھوڑنے کا فارمولہ پیش کیا گیا تھا۔ جس پر کانگریس نے نا پسنددیدگی ظاہر کی ہے، اس کے علاوہ مایاوتی نےکانگریس پر مدھیہ پردیش میں کچھ سیٹیں انھیں دینے کا دباؤ ڈال رہی ہیں ۔ اسےبھی کانگریس نے فی الحال ٹال دیا ہے ، ابھی تک اس سلسلہ میں کانگریس کی طرف سے کوئی واضح بات نہیں کہی گئی ہے ، اس لئے ان تمام باتوں کو قیاس آرائی ہی کہا جا سکتا ہے ۔

لیکن جو سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے اس سے ایک بات تو واضح ہے کہ سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی میں جو دوریاں تھیں اور جنھیں کل تک ناقابل عبور سمجھا جا رہا تھا وہ دوری ختم ہو چکی ہے اور عام انتخابات کے آتے آتے اترپردیش میں بی جے پی کے خلاف بہار طرز کا کوئی بڑا سیاسی گٹھ بندھن ضرور حتمی شکل لے لے گا۔ یہ بی جے پی کے لئے ایک بد شگن ثابت ہو سکتا ، کیونکہ اول تو ووٹوں کا بکھراؤ کافی حد تک رک جاےگا دوم2014جیسی سیاسی فضا نہ ہونے سے آنکھ بند کر کے مودی کے نام پر ووٹ ملنا اب مشکل ہے ،حالانکہ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ اس کے لئے حزب مخالف خاص کر کانگریس کو اپنے پتے بڑی ہوشیاری سے کھیلنے ہوں گے، کیونکہ اتر پردیش میں اسے اگر با عزت حصّہ سیٹوں کے بٹوارے میں نہ ملا تو اس کے کارکنوں کا حوصلہ پست ہوجائےگا، دوسرے مرکز میں اگر اسے حکومت سازی کا موقع ملا تو اس کی طاقت کافی کمزور ہوگی اس لئے اس مدت میں اسے اپنی طاقت بڑھانے پر خاصی توجہ دینی ہوگی جس کے لئے عوامی مسائل کو لے کر سڑک پر اترنے ،مودی حکومت کی معاشی ناکامیوں، بدعنوانی کے پے در پے واقعات خاص کر بینک فراڈ کے معاملات کو لے کر ویسی ہی جارحانہ روش اختیار کرنی ہوگی جیسی بی جے پی اپوزیشن میں رہتے کرتی تھی ۔اس کے ساتھ ہی ساتھ نہ صرف کانگریس بلکہ اپوزیشن کی سبھی پارٹیوں کو میڈیا کی طرف خاص توجہ دینی ہوگی کیونکہ میڈیا خاص کر الیکٹرانک میڈیا بے حیائی کی حد تک بی جے پی کی حمایت کرتی ہے ، ان کے اینکر صحافی کے بجائے پارٹی کے ترجمان بن جاتے ہیں۔

ادھر شیو سینا کے بعد اب اندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائڈو نے بھی مودی حکومت کی حمایت واپس لینے کا اعلان کر کے ، بی جے پی کے مستقبل کے منصوبوں پر ضرب لگا دی ہے ، حالانکہ چندربابو نائڈو ، نتیش کمار کی طرح زیادہ قابل اعتماد لیڈر نہیں ہیں ، وفا داریاں بدلنے میں انھیں بھی ایک منٹ نہیں لگتا دوسرے وہ کانگریس کی قیادت والے کسی محاذ میں شامل ہوں گے یہ بھی نا ممکن ہے ،لیکن فی الحال وہ بی جے پی کے لئے مسئلہ بن گئے ہیں اور یہ پیغام دے دیا ہے کہ بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے میں شگاف پڑ رہا ہے ۔

بہار میں اگر چہ نتیش کمار کا ساتھ بی جے پی کو مل گیا ہے ، لیکن وہ خود سیاسی طور پربےحد کمزور ہو چکے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ نتیش کمار کا سیاسی کیریئر ختم ہو چکا ہے ، جبکہ جیل میں ہونے کے باوجود لالو پرساد یادو کی سیاسی طاقت برقرار ہے ۔ان کے بیٹے تجسوی یادونے باپ کی گدی بحسن و خوبی سنبھال لی ہے، سیاسی موسم کی بے مثال شناخت رکھنے والے رام ولاس پاسوان اور کشواہا کب این ڈی اے سے علاحدگی کا فیصلہ کر لیں کہا نہیں جا سکتا۔ جیتن رام مانجھی پہلے ہی نکل لئے ہیں اس لئے دو بڑی ریاستیں اتر پردیش اور بہار ہی نہیں مہاراشٹر اور اندھرا پردیش بھی بی جے پی کے لئے خطرہ کی گھنٹی بن گئی ہے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کی سنگھ پریوار کے ترکش میں ابھی بہت تیر ہیں اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون سا تیر کب اور کہاں چلانا ہے ۔اس لئے 2019میں زبردست مقابلہ ہونے والا الیکشن ہوگا، لیکن یقینی طور سے پچھلی بار کی طرح بی جے پی کو واک اوور تو نہیں ملےگا۔