مودی کی لوک سبھا تقریر: نہ مواد، نہ مقصد، نہ دلیل

لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر کے دوران یہ بھی لحاظ نہیں رکھا کہ وہ پارلیمنٹ میں بول رہے ہیں اورعزت مآب اسپیکر سے مخاطب ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی نے صدر جمہوریہ کے خطاب سے متعلق شکریہ کی تجویز پر ہوئی بحث کے آخر میں آج (بدھ) لوک سبھا میں اپنی رائے ظاہر کی۔ انھوں نے اس درمیان ایسے بولے کہ نہ تو پارلیمنٹ کی تہذیب کا خیال رکھا، نہ ہی پارلیمانی نظام اور طریقہ کار کا، نہ ہی جمہوری اقدار کا اور نہ ہی اپنے عہدے کے وقار کا۔ تقریباً 90 منٹ کی تقریر میں وزیر اعظم نے گزشتہ حکومتوں پر یکے بعد دیگرے کئی حملے کیے، حالانکہ ان کے حملوں کا مرکز کانگریس اور اس کی قیادت والی یو پی اے حکومت ہی تھی۔

مودی نے تقریر کے آغاز میں کہا کہ ’’صدر جمہوریہ کی تقریر کسی پارٹی کی نہیں ہوتی اور اس کی عزت کی جانی چاہیے۔‘‘ یہ درست ہے، لیکن وزیر اعظم شاید یہ بھول گئے کہ وزیر اعظم بھی کسی پارٹی کا نہیں ہوتا، وہ ملک کا وزیر اعظم ہوتا ہے۔ اپنی تقریر میں وزیر اعظم کانگریس کی قیادت والی حکومتوں اور اس کے لیڈروں پر حملے کرتے وقت بالکل بھول گئے کہ وہ پارلیمنٹ میں بول رہے ہیں نہ کہ کسی انتخابی جلسہ میں۔

جس جمہوری عمل سے منتخب ہو کر وہ وزیر اعظم بنے ہیں اس پر ہی انھوں نے سوالیہ نشان لگا دیا۔ کانگریس پر حملہ کرنے میں وہ اتنا بہہ گئے کہ برطانوی دور کی حکومت کو بھی جمہوری حکومت کہہ بیٹھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہندوستان کی جمہوریت پنڈت نہرو اور کانگریس کی عطا کردہ نہیں ہے، ملک کا وجود اس سے بھی پہلے سے تھا۔ جمہوریت ہماری نسوں میں ہے، ہماری روایت میں ہے۔ یہ کسی خاص پارٹی کی عطا کردہ نہیں ہے۔‘‘

وزیر اعظم کی اس بات سے واضح ہے کہ انھیں نہ تو تاریخ کا علم ہے اور نہ ہی آزادی حاصل کرنے کے بعد ملک کی تعمیر کے دوران پیش آئے چیلنجز کا۔ وزیر اعظم مودی حملہ آور رخ دکھانے میں اتنے کھو گئے کہ وہ پرجوش نظر آنے لگے اور بھول گئے کہ جمہوریت کے جس مندر میں وہ کھڑے ہیں اسی مندر میں کھڑے ہو کر ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے دنیا کو اپنے جمہوری اقدار کا پیغام دیا تھا۔ وزیر اعظم مودی کو شاید یاد نہیں کہ اسی ایوان میں دیے گئے پنڈت نہرو کے ’ٹرائسٹ وِدھ ڈیسٹنی‘ تقریر کی آج بھی پوری دنیا میں تذکرہ ہوتا ہے۔

آزادی سے پہلے کے دور کو جمہوری کہنے والے وزیر اعظم شاید اس جانب اشارہ کر رہے تھے کہ کس طرح آر ایس ایس کے بانیوں اور ہندو مہاسبھا سے منسلک لوگوں نے انگریزوں کا ساتھ دے کر ملک کے ساتھ دھوکہ کیا تھا اور معافی نامہ لکھ کر دیا تھا۔ شاید انگریزوں کی اسی مہربانی کو وزیر اعظم مودی جمہوریت کہہ رہے ہیں۔

وزیر اعظم ملک کی تعمیر میں جواہر لال نہرو کے تعاون کو صفر قرار دیتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ مئی 2014 میں جب انھوں نے وزیر اعظم عہدہ کا حلف لیتے ہوئے جس آئین کی حفاظت کی قسم کھائی تھی، وہ آئین جواہر لال نہرو کے دور میں ہی تیار ہوا اور اسی آئین کے تحت آج ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بنی ہے۔ وزیر اعظم بھول گئے کہ جس نہرو-گاندھی فیملی پر وہ الزام لگا رہے ہیں اس فیملی کے لوگوں نے اپنی زندگی اسی ملک پر قربان کی ہے۔

پارلیمانی نظام اور روایت ہے کہ ایوان میں جب بھی کوئی رکن، وہ چاہے وزیر اعظم ہو یا کوئی وزیر ہو یا حزب اختلاف کا کوئی رکن، ہمیشہ اپنی بات اسپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتا ہے۔ لیکن وزیر اعظم جذبات میں بہہ کر بھول گئے کہ وہ جب لگاتار ’آپ کے گناہ، آپ کا عمل‘ کہہ رہے تھے تو وہ کس سے مخاطب ہیں۔ پارلیمانی تاریخ میں وزیر اعظم مودی کی یہ تقریر طویل مدت تک یاد کی جائے گی۔ اس لیے نہیں کہ انھوں نے حزب اختلاف پر تلخ حملے کیے، بلکہ اس لیے یاد کی جائے گی کہ کس طرح ایک وزیر اعظم کی تقریر کے دوران حزب اختلاف لگاتار نعرے بازی کرتا رہا، ان کے ہر جملے کو ترکی بہ ترکی جواب دیتا رہا۔ بھلے ہی پارلیمنٹ میں لگے ٹی وی کیمروں نے اسے نہ دکھایا ہو اور روایت کے مطابق وزیر اعظم کی تقریر کے علاوہ بقیہ کسی رکن کی بات ریکارڈ بھی نہیں کی جاتی ہے، لیکن وزیر اعظم مودی کی تقریر کے دوران لگاتار گونجتے نعرے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خود وزیر اعظم نے اس عہدہ کے وقار کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے۔

پوری تقریر کے دوران وزیر اعظم الفاظ کے ساتھ کھیلتے رہے اور انہوں نے اپنی تقریری صلاحیت کاخوب مظاہرہ کیا، لیکن اس تقریر میں ضروری عنصر موجود ہی نہیں تھا۔ پوری تقریر کے دوران وزیر اعظم کے انداز سے بے چینی صاف جھلکتی رہی اور وہ یہاں تک کہہ گئے کہ کانگریس کے پاس دوراندیشی نہیں تھی۔ انھوں نے اس معاملے میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کا نام لیا۔ لیکن وہ بھول گئے کہ اگر دوراندیشی نہیں ہوتی تو نہ تو ملک میں آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم جیسے تعلیمی ادارے ہوتے، نہ انفراسٹرکچر اتنا مضبوط ہوتا، نہ سڑکیں ہوتیں اور نہ ریل ٹرانسپورٹیشن۔

وزیر اعظم جس ’ہوائی چپل سے ہوائی جہاز‘ کی بات کرتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ ملک میں پہلی ائیر لائن شروع کرنے کے لیے پنڈت جواہر لال نہرو نے ہی پیش قدمی کی تھی۔ مودی جی’اُجولا یوجنا‘ کی مثال دیتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ ’بھاکھڑا نانگل‘ جیسے منصوبوں کی شروعات جواہر لال نہرو نے ہی کی تھی۔ اپنی حصولیابیوں کا شمار کراتے ہوئے وزیر اعظم نے جس سب سے بڑے پل اور سب سے بڑی سرنگ کی بات کی، اس کے بارے میں بھول گئے کہ ان دونوں کے منصوبوں کی بنیاد کس نے رکھی تھی اور اسے کس نے یہاں تک پہنچایا کہ وہ وزیر اعظم بنتے ہی اس کا افتتاح کرنے پہنچ گئے۔

وزیر اعظم نے کشمیر ایشو پر سردار ولبھ بھائی پٹیل کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر سردار ولبھ بھائی پٹیل ملک کے پہلے وزیر اعظم ہوتے تو پورا کشمیر ہمارا ہوتا۔‘‘ لیکن وہ بھول گئے کہ جب سے وہ مرکز میں برسراقتدار ہوئے ہیں، کشمیر کے حالات کیسے ہو گئے ہیں۔ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جتنے واقعات گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں پیش آئے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔

وزیر اعظم کی لوک سبھا میں اس تقریر سے یہ بھی واضح ہوا کہ نریندر مودی کے لیے نہ تو ان کی حکومت اور نہ ہی ان کی پارٹی بی جے پی کا کوئی وجود ہے۔ ان کی ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر میں کچھ مواقع کو چھوڑ دیں تو انھوں نے یہی کہا کہ ’’میں نے ایسا کیا، میں نے ویسا کیا، مودی یہ کرتا ہے، مودی وہ کرتا ہے...‘‘۔ ان کے اس انداز پر بھلے ہی ’بھکت‘ تالی بجاتے نہ تھکتے ہوں، پارٹی اور بی جے پی کے سینئر لیڈروں کو ان کی خودستائی پسند نہیں آئی، اور شاید یہی وجہ تھی کہ لوک سبھا میں ٹھیک ان کے بغل میں بیٹھے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ہاتھ باندھے صرف مسکرا کر اپنا رد عمل ظاہر کر رہے تھے۔

ملک میں جن لیڈروں کی تقریری صلاحیت کا تذکرہ ہوتا رہا ہے، ان میں اٹل بہاری واجپئی کا نام عزت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ انھوں نے کئی بار جذبات میں بہہ کر بھی تقریریں کیں، لیکن کبھی بھی زبان کی حد پار نہیں کی اور پارلیمانی روایت کے وقار کو نقصان نہیں پہنچایا۔ لیکن مودی تو مودی ہیں۔ انھیں’میں، میرا، مجھ‘ وغیرہ کے آگے کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ اسی لیے جب انھوں نے لال قلع سے اپنی تقریر کا تذکرہ کیا تو ان کے منھ سے یہ الفاظ نکلے ’’یہ نریندر مودی نے لال قلع سے ہمیشہ کہا ہے کہ ملک آج جہاں ہے اس میں گزشتہ سبھی حکومتوں کا تعاون ہے۔‘‘

مجموعی طور پر مودی کی لوک سبھا میں کی گئی تقریر بھلے ہی ان کے مطلب کی ہو، لیکن اس میں نہ تو کوئی عنصر موجود تھا اور نہ ہی وزیر اعظم کے عہدہ کا وقار۔

سب سے زیادہ مقبول