سیاسی

مودی کی بی جے پی سےاپنے بھی بیزار

مگرموجودہ بی جے پی کے لوگ اس تنقید کو بھی واہ واہی سمجھ رہے ہیں تو وائے ہو ایسی سمجھدانی پرجو تنقید اور تعریف میں فرق نہ کرپائے۔

تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کے 5 سالہ دور اقتدار میں ترقی کے لحاظ سے ملک میں خواہ کوئی پیشرفت نہ ہوئی ہو مگر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پوری طرح بدل گئی ہے۔ 2014 سے پہلے تک آر ایس ایس کی سیاسی یونٹ کہی جانے والی بی جے پی اب نریندر مودی اور امت شاہ کے اردگرد گھومتی نظر آرہی ہے۔ پارٹی کے بانی تقریباً تمام لیڈروں کو حاشیے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے اٹل بہاری واجپئی، پھر ارون شوری، مرلی منوہر جوشی، ایل کے اڈوانی اور اب سمترا مہاجن جیسے قد آور لیڈر ’مودی کی بی جے پی‘ کے برتاؤ سے عاجز آکر شدید بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ 2002 میں راج دھرم نہ نبھا نے کو لے کر آنجہانی باجپئی کے ذریعہ سخت ناراضگی کا سامنا کرنے کے باوجود نریندر مودی نے کوئی سبق نہیں لیا جس کا نتیجہ اب کھل کر سامنے آنے لگا ہے۔ تقریباً ہر روز کسی نہ کسی لیڈر کو یہ کہتے سنا جا رہا ہے کہ بی جے پی میں اب سینئر لیڈروں کی کوئی قدر نہیں ہے۔

بی جے پی کے بانیوں میں سے ایک ایل کے اڈوانی کی طرف سے حالیہ دنوں لکھے گئے بلا گ کو نریندر مودی پر ڈھکی چھپی تنقید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بلاگ میں 91 سالہ اڈوانی نے لکھا کہ تنوع کا احترام اور آزادی اظہار رائے ہندوستانی جمہوریت کی روح ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے آغاز سے بی جے پی نے سیاسی طور پرعدم اتفاق کرنے والوں کو کبھی دشمن نہیں مانا بلکہ ہمیشہ مخالف سمجھا ہے۔ اسی طرح ہمارے قوم پرستی کے تصور میں ہم نے سیاسی طور پرعدم اتفاق کرنے والوں کو کبھی غدار اور ملک دشمن نہیں سمجھا۔ نریندر مودی اور ان کے حامی اکثر بی جے پی کے مخالفوں کو ملک دشمن قرار دیتے رہے ہیں اور ان پر پاکستان کے لئے کام کرنے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ بدھ کو بھی ایک ریلی میں مودی نے کہا تھا کہ حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس ملک کوغیر مستحکم کرنے کی سازش کر رہی ہے اور اس کا انتخابی منشور پاکستانی سازشوں کا مسودہ تھا۔

ایل کے اڈوانی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ آنے والے انتخابات میں بی جے پی کے ان رہنماؤں کی جانب سے نظرانداز کیے جانے پر خوش نہیں ہیں جنھیں ایک زمانے میں وہ خود آگے لائے تھے۔ بی جے پی نے اڈوانی کو انتخابات میں گجرات سے ٹکٹ نہ دے کرامت شاہ کوامید وار بنا د یا ہے جبکہ اڈوانی گجرات سے 6 مرتبہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہو چکے ہیں۔ اڈوانی کا بلاگ نریندرمودی اورامت شاہ پر براہِ راست حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں کو ماضی اورمستقبل پرغور کرنے کے علاوہ خود اپنے اند ر جھانکنے کی بھی نصیحت دی ہے۔ حالانکہ اڈوانی کی اس نصیحت کواب خود غرصی کہا جاسکتا ہے کیونکہ لوک سبھا کا ٹکٹ کٹنے کے بعد انہوں نے اپنی خاموشی توڑی ہے۔ یہی ناراضگی اگر2014 میں بی جے پی کی حکومت بننے اورپھر انہیں ’مارگ درشک منڈل‘ میں ڈا لے جانے کے بعد ظاہر کی ہوتی تو ممکن ہے کہ سب سے پہلے باجپئی جی نے ان کے آنسو پوچھے ہوتے مگراب اڈوانی کے زخم پرمرہم رکھنے والا کوئی نہیں سامنے آئے گا کیونکہ موجودہ وقت ’مودی کی بی جے پی‘ کا ہے۔

اڈوانی خود بھی ایک متنازع شخصیت ہیں۔ 1990 میں ان کی ملک بھر میں یاترا کا مقصد بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کے لئے حمایت حاصل کرنا تھا۔ اسی یاترا کے دو برس بعد مشتعل ہجوم نے مسجد کو شہید کر دیا تھا۔

2017 میں ان پر بابری مسجد کے انہدام کے حوالے سے مجرمانہ سازش رچنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔ جب 1806 دنوں کے بعد اڈوانی نے بلاگ لکھا تو ایسا کچھ نہیں لکھا۔ بس اتنا لکھا کہ ہندوستانی قوم پرستی کی ہماری جو سمجھ ہے اس میں ہم سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو ملک دشمن نہیں مانتے ہیں۔ خیالات کی آزادی اور تنوع کا احترام کرنا ہی ہندوستانی جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ اس کے بعد اڈوانی نے بی جے پی کو میڈیا سے لے کر اداروں کے احترام اور جانبداری کا احترام کرنے والی پارٹی بھی بتایا۔ بی جے پی نے ان کے مضمون کے اس حصے کو پکڑ لیا اور پہلے حصے کو چھوڑ دیا کہ ہم کسی سیاسی مخالف کو ملک دشمن نہیں مانتے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے فوراً بلاگ کی حمایت میں ٹوئٹ کر دیا اور اس طرح پیش کیا جیسے اڈوانی نے آج کی سیاست پر مہر لگا دی ہو۔

اب آپ ہی یاد کریں، کیا آپ نے بالکل ہی کبھی نہیں سنا کہ بی جے پی کے لیڈروں نے اختلاف رکھنے والوں یا مخالفین کو ملک دشمن، پاکستان کا حامی کبھی نہیں کہا؟۔ مخالف کے جیتنے پر پاکستان میں دیوالی منانے کی بات، پاکستان کو خوش کرنے والی بات آپ نے سنی ہی نہیں؟۔ اڈوانی جی نے اتنے دنوں بعد بلاگ لکھا تو کم از کم صاف صاف لکھنا چاہیے تھا۔ بولناچاہیے تھا کہ کس نے کب کہا اور انہیں کیوں اعتراض ہے مگر اڈوانی اڈوانی ہیں۔ لیکن ہم آپ کویاد دلا دیتے ہیں کہ’مودی کی بی جے پی‘ کا کانگریس کے انتخابی منشور کو ملک دشمن بولنا کیا ہے۔ منشور سے بی جے پی غیرمتفق ہو سکتی ہے لیکن اس کو ملک دشمن بتانا، پاکستان میں سازش کی منصوبہ بندی بتانا، شاید اڈوانی نے بلاگ لکھتے وقت گوگل کاسہارا نہیں لیا ہوگا۔ یادانستہ طور پر ان حقائق کودبا بیٹھے کیونکہ اگرکھل کرساری باتیں کہہ دیتے تو ’مارگ درشک منڈل‘ سے بھی نکال کرپھینک دیئے جاتے۔

ایسے متعدد بیان مل جائیں گے جہاں بات بات میں اختلاف رکھنے والوں اورناقدین کوغدار کہا گیا ہے، پاکستان کا حامی کہا گیا۔ اڈوانی کے بلاگ کا استعمال بی جے پی کے لیڈر سرٹیفکیٹ کے طور پر کر رہے ہیں تو کانگریس کا کہنا ہے کہ اڈوانی نے بی جے پی کو آئینہ دکھایا ہے۔ سیاست میں بہت سی باتیں لکھنے اور کہنے کی محتاج نہیں ہوتی ہیں، انہیں صرف سمجھا جاسکتا ہے۔ مگرموجودہ بی جے پی کے لوگ اس تنقید کو بھی واہ واہی سمجھ رہے ہیں تو وائے ہو ایسی سمجھدانی پرجو تنقید اور تعریف میں بھی فرق نہ کر پائے۔

Published: 7 Apr 2019, 7:10 PM