سیاسی

مودی نے نہیں کی اپنے ہی الفاظ کی پاسداری

بی جے پی کے قدآور رہنما بی ایس یدی یورپا نے کہا کہ پاکستان پر ہندوستانی فضائیہ کے حملے سے ان کی پارٹی آئندہ عام انتخابات میں دو درجن سے زیادہ سیٹیں حاصل کرے گی۔

تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

گزشتہ لوک سبھا یعنی 2014 کے انتخابات سے پہلے تک ہندوستانی فوج کو بلا امتیاز شہریوں کی حفاظت کے نام سے جانا جاتا تھا مگر بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے کی موجودہ حکومت کے دور میں اس مثالی سیکولر شعبہ کو بھی نسل پرست بنانے کی کوششیں شروع ہوئیں، مگر کئی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنے کے باوجود ہمارے جوانوں میں ذات برا دری، ہندو، مسلم ذہنیت دراندازی نہیں کرسکی اور جوانوں کے دل اور دماغ میں انسانی ہمدردی کا جذبہ موجزن رہا۔

ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا اورسنا گیا تھا کہ دشمن کو جواب دینے اور اسے دو قومی نظریات کا پابند رہنے کا سبق پڑھانے والی ہندوستانی فوج کے کارناموں کے لئے حکومت نے اپنی پیٹھ تھپتھپائی ہو، مگر ملک کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد سے این ڈی اے حکومت نے کچھ ایسا ہی رویہ اختیار کیا جس سے سرحد پردن رات گولیوں کے سائے میں اپنی جان کی بازی لگا کر برادران وطن کی حفاظت پر ڈٹے رہنے والے جوانوں کی بہادری کوحکومت کی کارکردگی بتا یا جا ئے۔ یہ سچ ہے کہ ہمارے ملک کی فوج مرکزی حکومت کے تابع ہوتی ہے مگریہ بھی سچ ہے کہ فوجیوں کی قربانی کوہتھیانے کی کوشش کرنا بے ایمانی اور سراسرغلط ہے۔

جب کسی سیاست دان کے منہ سے سچ نکل جائے تو اسے زبان کی لغزش کہا جا سکتا ہے۔ کچھ اسی طرح کی حرکت گزشتہ ہفتے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سرکردہ رہنما سے سر زد ہو گئی۔ کرناٹک کے سابق وزیراعلیٰ اور بی جے پی کے قدآور رہنما بی ایس یدی یورپا نے کہا کہ پا کستان پرہندوستانی فضائیہ کے حملے سے ان کی پارٹی آئندہ عام انتخابات میں دو درجن سے زیادہ سیٹیں حاصل کرے گی۔ یدی یورپا کی یہ بات حیران کن طور پر صاف گوئی پر مبنی تھی لیکن ان کے اس بیان نے سیاسی طوفان کھڑا کردیا کیونکہ یہ ایسا وقت تھا جب پلوامہ حملے میں 49 جوانوں کی شہادت پرملک اشکبار تھا اور مکمل حزب اختلاف سیاست سے بالاتر ہوکر حکومت کے ساتھ آکر جوانوں کے خا ندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ملک کی حفاظت اور سالمیت کے لئے اسے ہرممکن تعاون دینے کا وعدہ کیا۔ ایسی صورت میں یدی یورپا کے بیان پر تنازعہ ہونا لازمی تھا۔ حزب اختلاف نے فوراً ہی یدی یورپا کے بیان کو لپک لیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بی جے پی کی طرف سے کھلا اعتراف ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے صرف ایک ماہ قبل وہ اپنے ہمسایہ ملک سے کشیدگی بڑھا رہی ہے۔

یدی یورپا کی صاف گوئی نے بی جے پی کو بھی شرمند گی سے دوچار کر دیا۔ پارٹی کا دفاع کرتے ہوئے مرکز میں وزیرمملکت جنرل (ریٹائرڈ) وی کے سنگھ کو اس بارے میں ایک بیان دینا پڑا جس میں کہا گیا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کے خلاف فضائی حملہ ملک کے دفاع اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے کیا گیا تھا نہ کہ انتخابات میں چند سیٹیں جیتنے کے لئے۔ کوئی سیاسی پارٹی یہ اعتراف کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ وہ جنگ کی سی کیفیت پیدا کر کے انتخابی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔

جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی، اس وقت بھی نریندر مودی بہت اطمینان سے اپنے معمولات میں مشغول تھے۔ ہندوستانی فضائیہ کے بالاکوٹ پر حملے کے چند گھنٹوں بعد ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف اب بے بسی کا شکار نہیں ہوگا۔

اگلے ہی روز پاکستان نے ہندوستانی فوجی کیمپوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر ہر وقت مستعد رہنے والے ہمارے فوجی جوانوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے ناکام بنا دیا، حالانکہ اس دوران دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے ہندوستانی فضائیہ کا ایک مگ 21 جنگی طیارہ پاکستان کی سرحد میں پہنچ گیا، جس کو وہاں کی فوج نے اپنے قبضے میں لے کر اس کے پائلٹ ابھینندن ورتمان کو حراست میں لے لیا۔ اس سلسلے میں حزب اختلاف کا رول بھی کافی اہم رہا، جس نے مشترکہ طور پر اپنے جوان پائلٹ کی پاکستان سے بحفاظت واپسی کے لئے ایسا ماحول تیار کیا کہ دوسرے ہی دن پاکستان کواس پائلٹ کو رہا کرنے پرمجبور ہونا پڑا۔

دریں اثنا نریندر مودی نے سائنسدانوں کے ایک اجلاس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا فضائی حملہ ایک ’پائلٹ پروجیکٹ‘ تھا جو پورا ہوا، ابھی اس طرح کے حملے اور ہوں گے۔ ایک اور موقعے پر خطاب کرتے ہوئے ان کی پارٹی کے سربراہ امت شاہ نے پاکستان پر فضائی حملے میں 250 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کرڈالا جبکہ ملک کے اعلیٰ دفاعی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کہ اس حملے میں کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ملک کے کئی شہروں میں مودی کے فاتحانہ پوسٹر لگائے گئے جن میں انھیں فوجیوں کے درمیان ایک جدید ترین گن اٹھائے ہوئے دکھایا گیا اور پس منظر میں جنگی طیاروں اور زمین سے اٹھتے ہوئے شعلے دکھائے گئے ہیں۔ اس پوسٹرکو سوشل میڈیا پرخوب پھیلا یا جارہا ہے۔ فوجیوں کی تصویریں کو انتخابی پوسٹر اور اسٹیج پر لگی دیکھ کرسوشل میڈیا صارفین پریشان نظر آئے۔ ان پوسٹر پرتبصرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے اکثر صارفین نے کہا کہ اس پر پابندی ہونی چاہیے، کیونکہ وردی کو ووٹ حاصل کرنے کے لئے استعمال کرنے سے وردی کی حرمت پر حرف آتا ہے۔ مودی نے حزب اختلاف کی پارٹیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سرحدوں پر کشیدگی کو سیاست کے لئے استعمال نہ کریں۔ لیکن حزب اختلاف کی پارٹیاں اس بات پر جھنجھلاٹ کا شکار ہیں کہ مودی نے اپنے ہی الفاظ کی پاسداری نہیں کی۔

گزشتہ ہفتے انھوں نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ قومی سلامتی کو چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات سے بالا تر رکھنا چاہیے۔ کیا حالیہ بحران سے مودی کو زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں مدد ملے گی؟ دوسرے لفظوں میں کیا قومی سلامتی انتخابی مہم میں ایک مرکزی نکتہ بن سکتا ہے؟ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مودی اپنی انتخابی مہم قومی سلامتی کے مسئلہ پر ہی چلا ئیں گے۔ گزشتہ ماہ پلوامہ پر دہشت گردانہ حملے میں 49 فوجیوں کی شہادت کے واقع سے قبل مودی سیاسی طور پر کافی کمزور نظر آ رہے تھے۔ ان کی پارٹی (بی جے پی) پانچ ریاستوں کے انتخابات میں سے تین میں شکست سے دوچار ہو گئی تھی۔ اس کے علاوہ ملک میں کسانوں کی حالت اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری، خواتین میں عدم تحفظ کا احساس جیسے اہم مسائل سے حکومت نمٹنے میں ناکام نظر آرہی تھی۔ مگراب بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مودی کے جیتنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، کیونکہ اب وہ ملک کو جذباتی بلیک میل کرکے سرحدوں کے طاقتور محافظ کے طور پر اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں۔ یہ جنگ اور قومی سلامتی کو انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے استعمال کرنے کی بد ترین مثال ہے۔

ہندوستان میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب قومی سلامتی سے متعلق یہ واقعہ عام انتخابات سے صرف چند ہفتوں قبل پیش آیا ہے۔ شہروں میں متوسط طبقے میں اضافے کا مطلب ہے کہ قومی سلامتی کا مسئلہ بہت بڑی آبادی کے لئے بہت اہم ہے، سب سے بڑھ کر یہ بات اہم ہے کہ مرکز میں کس پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ دائیں بازو کی پارٹی ہمیشہ سے ہی کانگریس کے مقابلے میں قومی سلامتی کے معاملات میں سخت گیر موقف کی حامل رہی ہے۔ کیونکہ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس سے عوام کو آسانی سے’جذباتی بلیک میل‘ کیا جا سکتا ہے اور وطن کی محبت میں کوئی شخص اس سے انکار بھی نہیں کرسکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی قومی سلامتی کا سہرا فوج کے سر باندھتا ہے تو کوئی فوج کے کارنامے کو اتنی شدت سے اٹھاتا ہے کہ آخرمیں اسے اپنی بہادری اورجرآت کا نام دے دیتا ہے۔ اپنی تحریر کے آخر میں یہی کہوں گا کہ اب فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ زبانی جمع خرچ سے متاثر ہوتی ہے یا عملی طور پر کارکردگی سے متاثر ہوتی ہے۔