وارانسی کو طلاق، مودی ’پُری‘ سے لڑیں گے اگلا انتخاب!

شمالی ہند میں گرفت کمزور پڑنے کے اندیشہ کے بعد بی جے پی نے اگلا ٹھکانہ مشرق میں بنانے کی پالیسی پر کام شروع کر دیا ہے۔ خبر گرم ہے کہ بی ایس پی-ایس پی اتحاد سے بھی بی جے پی گھبرا گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سرور احمد

ابھی 25 مئی کو وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی حکومت کے 4 سال مکمل ہونے کے ایک دن قبل جھارکھنڈ، بنگال اور اڈیشہ کا دورہ کیا۔ عام انتخابات میں اب ایک سال کا بھی وقت نہیں بچا ہے۔ ایسے میں بی جے پی نے اپنا پورا زور مشرقی ہندوستان کی ریاستوں بہار، جھارکھنڈ، بنگال اور اڈیشہ پر مرکوز کر دیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی مغربی بنگال واقع شانتی نکیتن میں وشو بھارتی یونیورسٹی میں موجودگی کو محض خانہ پری کی شکل میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس تقریب میں بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد بھی شامل ہوئی تھیں۔ اس تقریب میں مودی کی موجودگی میں سیاسی معانی پنہاں ہیں۔

اگلے ہی دن وہ اڈیشہ کے کٹک میں تھے اور اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد پر حملہ آور تھے۔ یہاں انھوں نے اڈیشہ کی نوین پٹنایک حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ریاست کے لوگوں کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ جھارکھنڈ میں تو بی جے پی کی حکومت ہے اور بہار میں وہ جنتا دل یو کے ساتھ برسراقتدار ہے، لیکن بنگال اور اڈیشہ میں اس کی حیثیت کچھ خاص نہیں ہے۔ 2014 کی مودی لہر میں بھی بنگال اور ادیشہ مضبوطی سے جمے رہے تھے اور یہاں بی جے پی کے حصے میں بالترتیب 2 اور 1 سیٹیں ہی آئی تھیں۔ دوسری طرف ترنمول کانگریس نے 42 میں سے 34 اور نوین پٹنایک کی بی جے ڈی نے 21 میں سے 20 سیٹیں حاصل کی تھیں۔ اتنا ہی نہیں، بی جے ڈی نے لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ہی ہوئے اسمبلی انتخابات میں بھی 147 میں سے 114 سیٹیں جیتی تھیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے ڈی اور ترنمول کانگریس، دونوں ہی پہلے این ڈی اے کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ممتا نے 2004 میں این ڈی اے کی شکست کے بعد اس سے رشتہ توڑا تھا تو بی جے ڈی نے 2008 میں بڑے پیمانے پر ہوئی عیسائی مخالفت کے بعد اس سے رشتہ منقطع کیا تھا۔ این ڈی اے سے الگ ہونے کے بعد بی جے ڈی مزید طاقت کے ساتھ ابھری ہے۔

اندر ہی اندر یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی آئندہ لوک سبھا انتخاب وارانسی کی جگہ اڈیشہ کے پُری سے لڑ سکتے ہیں۔ اس بحث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد نے ان پر سکتہ طاری کر دیا ہے۔ خصوصاً اتر پردیش میں ایس پی، بی ایس پی اور آر ایل ڈی کے ایک گروہ بن جانے کے سبب اتر پردیش میں بی جے پی کے امکانات کو دھچکا لگا ہے۔

فی الحال ملک کی 21 ریاستوں میں یا تو بی جے پی کی اپنی حکومت ہے یا وہ اتحاد میں شامل ہے۔ ایسے میں 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اقتدار مخالف لہر کا نقصان بھی بی جے پی کو ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی اپوزیشن اتحاد کی دوہری مار بھی اس پر پڑ رہی ہے۔ ایسے میں بی جے پی نے شمالی اور مغربی ہند میں ہونے والے نقصان کی بھرپائی کسی دوسری جگہ سے کرنے کی پالیسی بنائی ہے۔ جنوب میں تو اسے کوئی امید ہے نہیں اور کرناٹک میں منھ کی کھانے کے بعد تو جنوب کے دروازے اس کے لیے بند ہی سمجھو۔

اس لیے بی جے پی کی توجہ اب مشرقی ہند، خصوصاً بنگال اور اڈیشہ پر مرکوز ہے۔ بھلے ہی ان دونوں ریاستوں میں کل ملا کر صرف 63 لوک سبھا سیٹیں ہیں، لیکن بی جے پی اس جگہ اپنی جڑیں جما سکتی ہے جو بنگال میں لیفٹ نے اور اڈیشہ میں کانگریس نے خالی کی ہے۔

بنگال میں بی جے پی، بایاں مھاذ کے ان کارکنان کو اپنے ساتھ لانے کی کوشش میں ہے جو ترنمول میں چلے گئے ہیں۔ ساتھ ہی وہ ترنمول اور بی جے ڈی دونوں سے دوسری پائیدان کے لیڈروں کو توڑنے کی بھی کوشش میں ہے۔

اڈیشہ میں مینڈیٹ بڑھانے کے لیے بی جے پی نے ایک نئی پالیسی بنائی ہے۔ خبروں کے مطابق نریندر مودی 2019 میں وارانسی کی جگہ اڈیشہ کی مذہبی نگری پُری کو اپنا انتخابی حلقہ بنا سکتے ہیں۔ اس سے اڈیشہ میں بی جے پی کے انتخابی امکانات مضبوط ہو سکتے ہیں۔ لیکن وارانسی سے پُری منتقل ہونے کا قدم اس بات کا ثبوت ہوگا کہ اتر پردیش میں ایس پی-بی ایس پی اور آر ایل ڈی کے ایک ساتھ آ جانے سے بی جے پی گھبرا گئی ہے۔

اُدھر جھارکھنڈ میں بی جے پی کو اقتدار ہاتھ سے جانے کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ ایسے میں اس نے بہار میں اپنی سیٹیں بڑھانے کی پالیسی پر کام شروع کر دیا ہے۔ جھارکھنڈ میں بی جے پی کی فکر بے وجہ نہیں ہے، کیونکہ اگر اپوزیشن پارٹیاں ایک ساتھ آ گئیں تو اس کے لیے راستہ بچنے کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ جھارکھنڈ وِکاس مورچہ (پرجاتانترک) اور بایاں محاذ پارٹیوں نے گومیا اور سلّی ضمنی انتخاب میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کو حمایت دی ہے۔ اور 2019 میں اگر کانگریس، جے وی ایم اور جے ایم ایم ایک ساتھ آ گئے تو ب ی جے پی صرف شہری سیٹوں تک ہی محدود ہو کر رہ جائے گی۔

بہار میں حالات تھوڑے الگ ہیں۔ پچھلی بار بی جے پی نے 40 میں سے 22 سیٹیں جیتی تھیں اور اس کی ساتھی ایل جے پی اور آر ایل ایس پی کو 6 اور 3 سیٹیں ملی تھیں۔ ظاہر ہے بی جے پی بہار میں اپنی سیٹیں بڑھانا چاہے گی، لیکن 2014 میں اس سے الگ انتخاب لڑنے والی جنتا دل یو اب اس کی پارٹنر ہے، ایسے میں کیا نتیش کمار بی جے پی کے لیے کچھ سیٹوں کی قربانی دے گی۔

ویسے یہ بات بھی عام ہے کہ بی جے پی میں بہت سے لوگ نتیش کمار پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں۔ انھیں ہمیشہ یہ خوف رہتا ہے کہ عین موقع پر نتیش کمار پر پارٹی بدل کر اپوزیشن خیمہ میں نہ جا بیٹھیں۔ ایسے میں بی جے پی کسی قیمت پر نہیں چاہے گی کہ نتیش مضبوط ہوں۔ ایسے میں بی جے پی، بہار میں جنتا دل یو کی قیمت پر اپنا مینڈیٹ بڑھانے کی فراق میں ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ جب سیٹوں کی تقسیم ہو تو جنتا دل یو کے حصے میں درجن بھر سیٹیں بھی نہ آئیں۔ نتیش کو اس سب کا اندازہ ہے، اس لیے انھوں نے بی جے پی کے ساتھ اپنی تکلیف ظاہر کرنی بھی شروع کر دی ہے۔

حال میں جب مودی حکومت کے 4 سال کی حکمرانی کی حصولیابیوں پر ان سے سوال پوچھے گئے تو انھوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، بلکہ انھوں نے یہ کہا کہ بینکوں کے کردار کی وجہ سے نوٹ بندی کا خواہش کے مطابق فائدہ نہیں مل پایا۔

اب جب کہ جنگ کی حدیں طے ہونے کا وقت آ گیا ہے، بی جے پی کے وجود کے لیے مشرقی ہندوستان اہم کردار نبھانے والا ہے، اور آئندہ دنوں میں ملک کے اس حصے میں ہمیں کافی سیاسی سرگرمیوں کے درمیان کئی وی آئی پی کے ہیلی کاپٹر اُڑتے نظر آئیں گے۔ اور ہو سکتا ہے ہم یہ بھی سنیں کہ ’’نہ مجھے کسی نے بھیجا ہے، نہ میں خود آیا ہوں، مجھے تو بھگوان جگناتھ نے خود ہی بلایا ہے۔‘‘