کیا پرسنل لاء بورڈ بی جے پی کے لیے کام کر رہا ہے!

اس اعلان کے بعد کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ہر ضلع میں شرعی عدالتیں قائم کرے گا، فرقہ پرست قوتوں کو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کا ایک اور مدا مل گیا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنی 15 جولائی کو ہونے والی میٹنگ کا ایجنڈہ دانستہ طور پر لیک کر کے میڈیا کی سرخیوں میں رہنے کا راستہ ہموار کر لیا ہے۔ بورڈ کے سینئر رکن ظفر یاب جیلانی نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے جسے ہی یہ کہا کہ ’’ملک کے ہر ضلع میں دارالقضاء یعنی شرعی عدالت کھولنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلم سماج اپنے مسائل کو دیگر عدالتوں میں لے جانے کی جگہ یہیں پر حل کر لیں‘‘، بی جے پی کے کئی رہنماؤں کی جانب سے تنقیدی بیان آ نے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ میناکشی لیکھی نے کہا ’’سیکو لر ملک میں شرعی عدالت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ملک میں صرف ایک ہی عدالت قائم کی جا سکتی ہے ، دو طرح کی عدالتیں نہیں ہو سکتیں‘‘۔

ظاہر ہے ایسے بیان کے بعد ایسا رد عمل آنا فطری تھا ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہونے والی میٹنگ کےایجنڈہ اور اوقات پر غور کیا جائے تو یہ واضح ہو جا تا ہے کہ اس کا فائدہ حکمراں جماعت بی جے پی کو ہونے والا ہے ۔ کیا شرعی عدالتوں کے لئے مسلمانوں کی جانب سے کوئی مطالبہ تھا، یا ہے ؟ کیا شرعی عدالتوں کے لئے مسلمان سڑکوں پر اترے تھے یا ہیں ؟ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے ۔اس لئے شرعی عدالتوں کے قیام کا ایجنڈہ مسلمانوں کی ضرورت اور مطالبہ کی عکاسی نہیں کرتا ۔ اگر مسلمان اس ایجنڈہ کی فوری ضرورت محسوس نہیں کرتے تو پھر ایسے نازک دور میں جب مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت اپنے آخری سال میں داخل ہو رہی ہے تو پھر ایسے متنازعہ ایجنڈہ کی تشہیر کا کیا مطلب سمجھا جائے ۔ ڈاکٹر ذاکر حسین اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر معروف خان کا کہنا ہے کہ ’’مسلمانوں کو ہر ضلع میں شرعی عدالتوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہر ضلع میں ایک اچھے انگلش میڈیم اسکول کی ضرورت ہے ۔ ایسی کوششوں اور بیانات سے ہم صرف فرقہ پرست قوتوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ‘‘۔ ایجنڈہ کا صاف مطلب ہے کہ بی جے پی اس پر خوب زہر اگلے گی اور کہے گی کہ ملک میں شرعی عدالت کا کیا مطلب ہے ، کیا یہاں کوئی الگ ملک بن رہا ہے۔ اس پرمسلم پرسنل لاء بورڈ کا جو رد عمل آئے گا اس سے اس مدے کو مزید تقویت پہنچے گی اور پھر یہ مدا بھی ملک کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے میں کارآمد ثابت ہو گا۔

اجلاس کے اوقات کو لے کر بھی لوگوں میں اس لئے بے چینی ہے کیونکہ یہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے ٹھیک تین دن پہلے ہو نے جا رہا ہے یعنی پارلیمانی اجلاس سے تین دن قبل ٹی وی اور اخباروں میں شرعی عدالت کی خبر اپنے شباب پر ہو گی اور حزب اختلاف کا حکومت مخالف ایجنڈہ اس میں دب کر رہ جائے گا اور شرعی عدالتوں کےایجنڈہ کو ملک کی سلامتی اور یکجہتی کے لئے بڑا خطرہ بتایا جائے گا۔ حزب اختلاف سے پوچھا جائے گا کہ کیا وہ پرسنل لاء بورڈ کے اس مطالبہ کی حمایت کرتے ہیں اور اس مدے پر ان کو گھیر کر حکومت مخالف ایجنڈہ پر ان کو بیک فٹ پر لایا جائے گا یعنی بی جے پی اور فرقہ پرست قوتوں کی چاندی۔

طلاق ثلاثہ معاملہ پر مسلم پرسنل لاء کی وجہ سے مسلمانوں کو کس بے عزتی کا سامنا کرنا پڑا اس کا سب کو علم ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ اس سے کس کو فائدہ ہوا ہے ۔ بورڈ نے پہلے بھی اپنے عمل سے بی جے پی اور فرقہ پرست قوتوں کو فائدہ پہنچایا ہے اور اب ہر ضلع میں شرعی عدالتیں قائم کرنے کے اعلان سے بھی مسلمانوں کا تو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے لیکن بی جے پی اور فرقہ پرست قوتوں کو تقویت ضرور ملے گی ۔کوئی بھی ذی شعور اس کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ان باتوں کو نہیں سمجھتا ، بلکہ سب یہ مانتے ہیں کہ بورڈ درپردہ بی جے پی کی مدد کر رہا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول