یو پی میں متحد اپوزیشن کو 52 اور بی جے پی کو 28سیٹیں ہی ملیں گی!

متعدد جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ یو پی اے کی چیر پرسن سونیا گاندھی

وقت رہتے اپوزیشن جماعتیں اتحاد کر لیں تو 2019 کے عام انتخابات میں بی جے پی کو اسی طرح نقصان پہنچایا جا سکتا ہے جس طرح 2015 کے بہار اسمبلی انتخابات میں عظیم اتحاد نے بی جے پی کو شکست دی تھی۔

تین مارچ کو بی جے پی نے تریپورہ اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور ناگالینڈ تک اپنی توسیع کا جشن منایا۔ اسی دن اتر پردیش سے ، جہاں لوک سبھا میں سب سے زیادہ نشستیں موجود ہیں، ایک ایسی خبر منظر عام پر آئی جس نے بی جے پی کے زمینی سطح پر کئے گئے کاموں اور دیگر منصوبوں کو غرق آب کر دیا۔ بہوجن سماج پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ سماجوای پارٹی کو گورکھپور اور پھولپور پارلیمانی انتخابات میں حمایت کری گی ۔

بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے اگلے ہی دن اس خبر کی تصدیق کر دی۔ کچھ کانگریس رہنماؤں نے ان دو سیٹوں پر اپنے امیدوار میدان میں ہونے کے باوجود اس خیال کا خیرمقدم کیا۔ اجیت سنگھ کے راشٹریہ لوک دل نے بھی حمایت کا فوری طور پر اعلان کر دیا۔

ایس پی نے اس سے پہلے نشاد اور پیس پارٹی کو اپنے ساتھ آنے کے لئے راضی کر لیا تھا۔ اس عظیم اتحاد نے ان دونوں نشستوں سے متعلق امکانات تبدیل کر دئے اور اگر یہ عظیم اتحاد 2019 کے عام انتخابات تک قائم رہا تو ممکن ہے کہ یہ اتر پردیش کے ساتھ ساتھ ہندوستان کا انتخابی نقشہ بھی تبدیل کر دے ۔

ہم نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ آنے والے عام انتخابات میں اگر بی ایس پی، ایس پی اور کانگریس کا عظیم اتحاد قائم ہوتا ہے تو اترپردیش کا پارلیمانی انتخابی نقشہ کیسا ہوگا۔ ہم نے 2017 میں ہوئے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے پارٹیوں (بی جے پی، اپنا دل، سہیل دیو ، بھارتیہ سماج پارٹی) کے مشترکہ ووٹوں اور بی ایس پی، ایس پی اور کانگریس کے مشترکہ ووٹوں (اسمبلی انتخابات میں ایس پی اور کانگریس اتحاد میں تھیں) کو اتر پردیش لوک سبھا کے انتخابی نقشے پر دکھایا ہے اور اس کے نتائج حیرت انگیز ہیں۔

اس اندازہ کے مطابق ایس پی، کانگریس اور بی ایس پی مشترکہ طور پر 52 نشستیں جیت سکتی ہیں اور بی جے پی صرف 28 نشستیں جیت پائے گی، جو 2014 کے پارلیمانی انتخابات سے 43 نشستیں کم ہیں۔ 2019 میں حزب اختلاف کے اتحاد کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ آیا مایاوتی اس میں شامل ہوتی ہیں یا نہیں۔ اتر پردیش کے ہمارے از سر نو تخلیق شدہ انتخابی نقشے (مندرجہ ذیل پیش کئے گئے اتر پردیش 2014 اور 2017 کے گرافکس ملاحظہ فرمائیں) سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔

تصویر

ہم نے ایک اور بڑی ریاست مہاراشٹر پر بھی غور کیا ، جہاں 2014 کے بعد سے کافی سیاسی تبدیلی آئی ہیں۔ کانگریس اور این سی پی (نیشنلسٹ کانگریس پارٹی) کی بات کریں تو دونوں پارٹیاں آئندہ لوک سبھا انتخابات اور اسمبلی انتخابات ایک ساتھ لڑنے کی پیشگی مذاکرات کر رہی ہیں۔

شیوسینا گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ تھی اور اس نے مہاراشٹر اسمبلی کے انتخابات کے پہلے ہی اپنا ہاتھ این ڈی اے سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ دریں اثنا شیو سینا نے اعلان کیا ہے کہ مستقبل میں وہ بی جے پی کے ساتھ انتخابات نہیں لڑے گی۔ ارکان پارلیمنٹ کی تعداد کے حساب سے اتر پردیش کے بعد مہاراشٹر دوسری بڑی ریاست ہے جہاں 48 نشستیں موجود ہیں۔

سال 2014 میں مہاراشٹر سے 23 بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ اور 18 شیوسینا کے ارکان پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔ این سی پی اور کانگریس کو صرف 4 اور 2 نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ اس وقت ایک رکن پارلیمنٹ این ڈی اے اتحادی ’سوابھیمانی پکش‘ سے تھا جس نے بعد میں این ڈی اے کو خیر باد کہہ دیا تھا۔

اتر پردیش کے ساتھ ہم نے کانگریس اور این سی پی کی مشترکہ ووٹوں اور شیو سینا اور بی جے پی کی سیٹوں کو علیحدہ رکھتے ہوئے مہاراشٹر کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کو لوک سبھا کے انتخابی نقشے میں دکھایا ہے (مندرجہ ذیل گرافکس میں مہاراشٹر مئی 2014 اور اکتوبر 2014 کو دیکھیں)۔ ہم نے پال گھر اور بھنڈارا-گوندیا سیٹوں کو چھوڑ دیا ہے، جو فی الوقت خالی ہیں۔

ہمیں معلوم چلا کہ بی جے پی نے صرف 18 نشستیں حاصل کی تھیں اور شیو سینا نے 5 نشستیں حاصل کیں۔ کانگریس این سی سی اتحاد نے لوک سبھا میں 23 نشستیں حاصل کیں۔ تاہم، یہ اعداد و شمار بی جے پی کے لئے حتمی نہیں کیوں کہ بی جے پی اگلے عام انتخابات میں ان 18 نشستوں کو شاید ہی بچا پائے۔ دیہی مہاراشٹر میں گزشتہ 3 سالوں میں مقامی بلدیہ کے نتائج کانگریس کے ووٹوں میں اضافہ ظاہر کر رہے ہیں۔ اس نے بی جے پی کو خاص طور پر بڑے شہروں تک ہی محدود کردیا ہے۔

اگر ہم کانگریس این سی پی اور شیو سینا اتحاد سے متعلق ان افواہوں پر غور کریں جو مہاراشٹر میں بی جے پی کو شکست دینے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں، تو پھر بی جے پی کو اور زیادہ خطرہ لاحق ہے۔

آخر میں ہم گجرات پر نظر ڈالیں تو یہاں سے 26 ارکان پارلیمنٹ آتے ہیں اور 2014 میں بی جے پی نے یہاں کی تمام 26 نشستیں جیت لی ہیں۔ ہم نے حال ہی میں گجرات اسمبلی انتخابات کے نتائج کو لوک سبھا کے انتخابی نقشے پر دکھایا ہے۔ اس انتخاب میں کانگریس کی نشستوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی بنیاد پر بی جے پی 8 نشستوں سے محروم ہو جائے گی۔ علاوہ ازیں ہم نے مہاراشٹر میں این سی پی اور کانگریس کے ایک ساتھ آنے کے امکان کے تحت این سی پی کے ساتھ کانگریس کے ووٹوں کو ملا دیا ہے۔

اس کے مطابق بی جے پی پور بندر میں ایک مزید لوک سبھا نشست کھو دے گی، جہاں این سی پی اور کانگریس نے ایک ساتھ مل کر زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں۔ (مندرجہ ذیل گرافکس میں گجرات 2014 اور 2017 دیکھیں)۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مختلف ریاستوں میں پیدا ہونے والے حزب اختلاف کے اتحاد بی جے پی کی موجودہ لوک سبھا سیٹوں کی تعداد کو حد درجہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ صرف مندرجہ بالا پیش کئے اعداد و شمار کے مطابق بی جے پی کی اتر پردیش، گجرات اور مہاراشٹر میں ہی 56 نشستیں کم ہو سکتی ہیں۔ لوک سبھا کے ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد فی الحال بی جے پی کی 273 سیٹیں ہیں، جس میں اسپیکر (8 خالی نشستوں کے ساتھ) شامل ہیں۔

راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور کچھ دیگر ریاستوں میں بی جے پی کی ہونے والی ممکنہ شکست کو نظر انداز بھی کر دیں تو بھی 56 سیٹیں کم ہونے کے بعد بی جے پی کی 217 نشستیں ہی رہ جائیں گی۔

اگر وقت رہتے حزب اختلاف کی جماعتیں اتحاد کر لیتی ہیں تو وہ ان اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ٹھیک اسی طرح بی جے پی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں جس طرح 2015 کے بہار اسمبلی انتخابات میں عظیم اتحاد نے بی جے پی کو شکست کا ذائقہ چكھايا تھا۔

سب سے زیادہ مقبول