ذاتیات کی مضبوطی کرناٹک چناؤ کی بنیاد... مرنال پانڈے

ہندوستان میں اصل دھارا بن کر بہنے کے ضابطے بار بار ٹوٹنے والے جنتا دل (یو، ایس یا آر جے ڈی وغیرہ) کے گروپ نے سیکھے ہی نہیں۔

’بھکتی آندولن‘ یعنی بھکتی تحریک کو اپنے یہاں منوادی ذاتی نظام کے خلاف پہلا بڑا انقلاب بتایا جاتا رہا ہے۔ لیکن بدھ اور مہاویر سمیت کئی بڑے مفکر اسے پہلے بھی سخت چیلنج پیش کر چکے تھے جو کچھ صدیوں تک کامیاب رہے پھر دھیرے دھیرے غائب ہو گئے اور شنکراچاریہ سناتن مذہب کو اصل دھارا بنانے میں پھر کامیاب ہو گئے۔

تقریباً 6 صدیوں تک چلے بھکتی تحریک کا بھی یہی حشر ہوا۔ حالانکہ اس بار اس کے تحت کرناٹک نے واسونّا جیسے عظیم شاعر، مفکر، حکمراں کو جنم دیا۔ 18ویں صدی (انگریزوں کے آنے تک) تک اس ذاتی نظام مخالف نااتفاقی کی لہروں کا جال پوری طرح ایسا غائب ہوا کہ ان کو ہمارے یہاں ذات پات کے بندھن اور بھی سخت اور جکڑن بھرے ملے؟ کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلے مسلم سامنتوں نے (اور ان کے بعد انگریزوں نے بھی) راجپوت رَجواڑوں اور برہمن نظام کے ٹھیکیداروں سے سمجھوتہ کر کے وجود کا ایک غیر تحریری معاہدہ کر لیا تھا جو دونوں کو پسند آتا رہا؟

جب تبدیلی کی مجبوری ہی نہیں بنی تو یقینی تھا کہ بھکتی تحریک کے ذریعہ نسلی نظام کو توڑتے ہوئے ایک سمتا وادی یعنی برابری والے سماج کو بنانے اور دلتوں و عورتوں کی حالت میں ضروری تبدیلی کے جو امکانات واسونّا سامنے لائے تھے، اس کو سرفہرست طاقتور گروپوں کی موقع پرست، لیکن اوپر سے سہل دوستی نگل جائے۔

کچھ سوال بھی اٹھتے ہیں۔ واسونّا، اَکّ مہادیوی اور الّاما پربھو کی معرفت کرناٹک میں برہمن واد کے خلاف جس جنگجو کنڑ ادب اور شیو واد نے لنگایت طبقہ کا چولہا الگ کروا کر ان کو سیاست کے بڑے مقام تک پہنچایا، وہ 14ویں صدی تک آتے آتے وجے نگر سامراج میں دوبارہ اصل دھارے کے سناتنی ہندوتوا اور سنسکرت لکھنے کی جانب کیوں مڑ گیا؟

اپنی بالادستی کے دنوں میں بھی کیوں وہ پڑوسی ریاست تمل ناڈو تک بھی نہیں پھیلا جسے سناتن مذہب کو چیلنج دینے کے لیے 20ویں صدی تک انتظار کرنا پڑا؟ شمالی کرناٹک میں، مہاراشٹر میں بھی اسی طرح گیانیشور سے یویُتسو شیواجی مہاراج تک اور پنجاب میں نانک سے گرو گووند سنگھ کی ذات سے متعلق نظام کے خلاف جدوجہد کا سبق عوام تک پہنچانے میں صدیاں کیوں لگ گئیں؟

اگر ہم ضد پر مبنی تعصبات کو چھوڑ کر ایمان سے دیکھیں تو انگریزوں کے تمام قوانین اور عدالتی قیام، اصلاحی تحریکوں اور بیسویں صدی کے منڈل ازم کے عروج کے بعد بھی ذاتی نظام کے صدیوں سے غیر متبدل رہنے کی وجوہات ہم کو بھکتی تحریک کے اندر ہی نظر آتی ہیں۔

ہمارے زیادہ تر مصلحین نے جب ذات پرستی کے خلاف مہم شروع کی تو وہ خود بھی ایک نیا پنتھ یعنی عقیدہ اور روایت بناتے ہوئے نظر آتے ہیں جنھوں نے سیدھے سناتن مذہب پر حملہ نہیں کیا۔ اصل دھارا بھی بہتی رہی اور غیر متفق غیر سناتنی اصلاحی دھارا بھی۔ گزرے دور میں ان عقیدں کے اندر بھی اسی طرح کے مٹھ، اکھاڑے اور سلسلوں سے جڑے اصول نئی کونپلوں کی طرح ویسے ہی بڑھنے لگیں جیسے اصل دھارا کی سناتنی شاخوں اور ذیلی شاخوں میں تھیں۔ سب کے اپنے چمٹے، اپنے ترشول اور اپنی دھونیاں۔

جس طرح سے آج کرناٹک میں مختلف پارٹیوں نے ووکیلیگا، لنگایت اور ویرشیو گروپوں کی تشریح اور استعمال کی مہم شروع کی ہے اس سے ظاہر ہے کہ کبھی سناتن مذہب سے بغاوت کر کے الگ ہوئے ان عقیدوں کے گروؤں کو بھی ہندو مذہب کے اصل دھارے کی بڑی پارٹیوں کے ساتھ بہنے میں کوئی بڑا اعتراض نہیں ہے۔ بشرطیکہ ریزرویشن کی ریوڑیوں کا ایک حصہ ان کو بھی مل جائے اور مثلث اسمبلی بنی تو ان کے کسی خاندانی شخص کو اعلیٰ عہدہ بھی۔ ان کے سابقہ گروؤں و سنتوں کی بغاوت اس طرح مناسب اور انصاف پر مبنی ہونے کی وجہ سے اتنی خاص نہیں جتنی ان کی جوڑ توڑ کی بہترین صلاحیت سے سامنے آ رہی ہیں۔

زمینی فارمولہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اوسط پسماندہ کے لیے اس کی ذات کی زنجیریں توڑنے کی جگہ ریزرویشن کا ملمع چڑھا کر فائدہ مند بنا دیا جائے۔ چمتکاری سرپرستوں جیسے رہنماؤں کے لیے تو روحانی آزادی کی راہ ہر لمحہ کھلی ہوئی ہے ہی۔ یہ شرمناک ہے کہ میسور ریاست جو جنوب میں ہمیشہ سے تعلیم اور کھلی نظریات ولا رہا ہے، وہاں ان دنوں زہریلی انتخابی تشہیر ہو رہی ہے۔ مثلاً وہاں ذات پر مبنی مردم شماری کے اعداد و شمار افشا کیے گئے، لنگایت سماج کے لیے ریزرویشن کو 50 کی جگہ 70 فیصد کرنے جیسے ایشوز سے متعلق بات اٹھائی جا رہی ہے۔ ان سب سے واضح ہے کہ پسماندہ ذاتوں کے لیے اصلاحی اقدام کرتے ہوئے انھیں خودمختار بنانا نہیں بلکہ ذات پرستی کی مضبوطی ہی اس انتخاب کی ریڑھ ہے۔

اس سے بھی پہلے سے رام سینے جیسے ہندوتوادی جنگجو گروپ عورتوں، ادیبوں، دانشوروں کو پیٹ پاٹ کر ختم ہوتے نظریات کے لیے ایک حفاظتی دائرہ تیار کر چکے ہیں جسے اپنے مختصر دورہ سے یوگی آدتیہ ناتھ کھاد اور پانی دے گئے۔ واضح ہے کہ اس طرح کے ماحول میں یہ انتخاب جو بھی جیتے گا اس کے لیے پیدائشی عظمت پر مبنی نظام کو مستقل طور سے منہدم کر اہلیت پر مبنی نظام کھڑا کرنا ناممکن ہوگا۔

کرن اور ایکلویہ کے ملک میں نئی پسماندہ پارٹیوں کے لیے ریزرویشن کا دائرہ عدالت کی طے مدت سے پرے پھیلانے کے وعدے کرنا، ملک کی تاریخ کو سر کے بل کھڑا کرنا نہیں۔ ہمارے یہاں وہ نظام تھا ہی کب جس میں نظر انداز ذاتوں کی اہلیت کو کھلے دل سے تعریف و توصیف شامل ہو؟ کرن کو کبھی ’سوت پُتر‘ کہہ کر پھٹکارا گیا تو کبھی کشتریہ ہونے کے لیے بددعا ملی۔ شیشو پال کی 99 گالیوں میں بھی کرشن کی ذات کا مذاق بار بار اڑایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں اصل دھارا بن کر بہنے کے قانون بار بار ٹوٹنے والے جنتا دل (یو، ایس یا آر جے ڈی وغیرہ) کے گروپ نے سیکھے ہی نہیں۔ اسی لیے ان کو جیب میں رکھنے کے اتنے زیادہ طریقے بہار سے کرناٹک میں آزمائے جا رہے ہیں۔

اب اس تجزیہ کے ضمن میں آپ کو مئی ماہ کے کرناٹک انتخابات کے نتائج کا انتظار کرنا چاہیے کیونکہ اگلے برس یہی فارمولہ قومی انتخابات میں بھی سیاست کے میکانک اور ٹھیکیدار اپنانے جا رہے ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول