وقت بے وقت: ہندوؤں کومتحد کرنے کا پرانا حربہ اپنا رہی بی جے پی

وزیراعظم سے لے کر مختلف وزراء اور رہنماؤں کی طرف سے ہندوؤں کو ایسا سمجھانے کی کوشش ہو رہی ہے کہ ہندوستان میں ہندو حکومت قائم ہو چکی ہے، بھلے کوئی بھی نقصان ہو، آپ کو خاموش رہنا ہو گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اپوروانند

کیا کیرانہ ضمنی انتخاب میں ہندو -مسلم کے درمیان ووٹروں کو بانٹنے کا حربہ کام کرے گا ؟، کرے نہ کرے ، عادت سے مجبور بی جے پی اس کی ہر چند کوشش کر رہی ہے ۔ بی جے پی کی پوری کوشش ہے کہ وہ ہندوؤں کو مسلمانوں سے ڈراکر اپنے ارد گرد جمع کر لے۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کیرانہ ضمنی انتخاب کے لئے تشہیر کرتے ہوئے مظفرنگر کے پانچ سال پرانے فساد کی یاد دلائی۔ انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ نے ووٹروں کو خبردار کیا کہ وہ ’سماج دشمن عناصر‘ کو مغربی اتر پردیش میں فساد بھڑکانے کا موقع نہ دیں۔

وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر میں 3 بار سچن اور گورو کا نام لیا جنہوں نے کوال کے رہائشی شاہنواز کا ذاتی تنازعہ کے بعد قتل کر دیا تھا اور بعد میں ان دونوں کا بھی قتل ہو گیا تھا۔ بعد ازاں وہاں پنچایت اور مہاپنچایتوں کا سلسلہ شروع ہوا ، نتیجہ میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے خلاف تشدد کیا گیا۔ قتل، عصمت دری، لوٹ مار کے شکار مسلمانوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا۔ مسلمانوں کے گاؤں کے گاؤں خالی ہو گئے لیکن سماجوادی پارٹی نہ تو مسلمانوں کی نقل مکانی روک پائی اور نہ ہی انہیں واپس اپنے گاؤں واپس بھیج سکی۔

اچانک بی جے پی کے رہنما حکم سنگھ نے راگ الاپنا شروع کیا کہ کیرانہ میں مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی ہے اور ہندوؤں کے خلاف جرائم بڑھ رہے ہیں لہذا ہندؤں کو نقل مکانی کرنی پڑ رہی ہے۔اس سفید جھوٹ کے بعد بی جے پی کے حامی اخباروں اور ٹی وی چینلوں نے طوفان کھڑا کر دیا۔ جسے صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے کیرانہ جاکر اس جھوٹ کا پردہ فاش کیا۔

بی جے پی کا کردار اسی سے اجاگر ہو جاتا ہے کہ پردہ فاش ہو جانےکے بعد بھی نقل مکانی کی تشہیر جاری رکھی اور ’کیرانہ کو کشمیر نہیں بننے دیں گے‘ جیسے نعرے لگاتے رہے۔ انتخابی مقصد حاصل کرنے میں جھوٹ آج کل ہتھیار کا کام کر رہا ہے اور اس پر الیکشن کمیشن کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اگر ایک ضمنی انتخاب میں وزیر اعلیٰ یوگی 2013 میں ہوئےتشدد کی یاددلا رہےہیں تو ہمیں اس پر بات کرنی چاہیے۔ یہ ٹھیک ہے کہ دیگر سیاسی جماعتیں اس مسئلہ پر بات نہیں کریں گی لیکن کیا ہندوستان میں ہمیں محض اس لئے ڈر کر رہنا چاہیے کہ ہندو ووٹر ناراض ہو جائیں گے؟

یہ دلچسپ بات ہے کہ بی جے پی دوسری جماعتوں پر پولرائزیشن کا الزام لگا رہی ہے جبکہ وہ یہ کام خودکر رہی ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی نے اپنی انتخابی تقریر میں کہا، ’’پولرازیشن پہلے ہی کیا جا چکا ہے، ایک طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے مظفرنگر اور مغربی یوپی میں فساد بھڑکایا، سچن اور گورو جیسے نوجوانوں کا قتل کر دیا گیا۔ اس وقت کوئی پارٹی نہیں بولی، صرف بی جے پی کے کارکنان نے آواز اٹھائی۔ سریش رانا اور سنجیو بالیان پر مقدمہ ہوا، حکم سنگھ کو لوگوں کے لئے انصاف مانگنے سے روکا گیا۔‘‘

2013 میں رانا اور بالیان وہ رہنما تھے جنہوں نے تشدد بھڑکانے کی قیادت کی تھی ۔ اس کا انعام انہیں ریاست اور مرکز میں وزیر بناکر دیا گیا۔ کچھ وقت پہلے اتر پردیش حکومت نے ان کے ساتھ اور بھی لوگوں پر لگے مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ لوٹ، آگ زنی، عصمت دری اور قتل کے واقعات تو پیش آئے لیکن ان کا مجرم کوئی نہیں تھا۔

ہندوؤں کو یہ سمجھانا کہ مجرم چونکہ ہندو ہیں اس لئے ان پر کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا ، بی جے پی کا ہندوؤں کو متحد کرنے کا یہ پرانا طریقہ ہے۔ اتر پردیش ، گجرات، جھارکھنڈ اور جموں جیسی ریاستوں میں وہ اس طریقہ کو آزما چکی ہے۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی نے ہندو ووٹر کو یہ کہہ کر ڈرایا کہ اگر ان کا بس چلے تو وہ ’کانوڑ یاترا ‘ بھی روک دیں۔ وزیر اعلیٰ کو نہ جانے یہ کس نے بتا دیا کہ کانوڑیوں کو مائک، شنکھ اور ڈھول بجانے سے روکا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’اگر کچھ لوگوں کو ہمارے تہوار برے لگتے ہیں تو ہمیں دوسرے کے تہوار کیوں اچھے لگتے ہیں؟‘ ‘ وزیر اعلیٰ یوگی نے اپنی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت نے کانوڑیوں پر عائد پابندیاں ختم کر دیں اور ان پر ہیلی کاپٹر سے پھولوں کی بارش کروائی۔

وزیر اعلیٰ یوگی نے پوچھا ’’آخر یہ سب کچھ اب نہیں ہوگا تو کب ہوگا؟‘‘ ایسے سوال گزشتہ 4 برسوں سے بار بار کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم سے لے کر مختلف وزراء اور رہنماوؤں کے منہ سے سنا جا چکا ہے۔ ایسا سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہندو حکومت قائم ہو چکی ہے ، بھلے ہی آپ کی نوکری چھین لی گئی ہو، کاروبار تباہ ہو گیا ہو، کھیتی برباد ہو گئی ہو، آپ کو اس لئے خاموش رہنا چاہیے کیوں کہ آپ ہندو ہو اور آپ کی حکومت قائم ہو چکی ہے ۔

ہندو ووٹر تیار کرنے کی یہ ترکیب اب پرانی ہو چکی ہے، لیکن ابھی تک کارگر بنی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بی جے پی ہندو ووٹروں کو لاعلم اور بیوقوف مانتی ہے۔ وہ مانتی ہے کہ ان کے لئے اطلاع کا محض ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ ہے بی جے پی اور سنگھ۔ اس میں ہندی کے اخبارات اور ٹی وی چینلز اس کے معاوین ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ جب جب جھوٹ بولا جائے تب تب مزحمت کی جائے ، ہم یہ نہ مان لیں کہ گزشتہ مہینے ہم نے اس معاملہ میں سچ کہہ دیا تھا اس لئے اب اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

جھوٹ بار بار بول کر، دہرا-دہراكر سچ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے،تو پھر سچ کو دہرانے میں تھکاوٹ اور بوریت کیوں؟ یہ بھی ٹھیک ہے کہ اتر پردیش کے وزیراعلی یوگی یاہندوستان کے وزیر اعظم مودی جیسے شخص عام حالت میں کسی مہذب بحث میں حصہ لینے کے قابل نہ مانے جائیں ، لیکن ہندوستان کی بدقسمتی ہے کہ وہ اہم آئینی عہدوں پر فائز ہیں ۔ اس لئے بھی ہر بار جھوٹ اور ہندوستان کے لوگوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلانے کی ان کی ہر حرکت کو افشاکرنا اور اس کی تنقید کرنا جمہوری فرض ہے۔لیکن یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ لوگ اب اس بات سے گریز کرنے لگے ہیں۔

اتر پردیش میں اب وزیر اعلی یوگی کی طرف سے جس طرح مسلمانوں کے خلاف شکوک و شبہات اور نفرت پھیلائی جا رہی ہے، اس پر الیکشن کمیشن کی توجہ جائے نہ جائے، ہماری اور آپ کی توجہ جانا ضروری ہے، اسی طرح جمہوریت کو سانس لینے بھر آکسیجن دی جا سکتی ہے

(یہ مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں، قومی آواز کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

next