کسانی سے خوف کھانے والا سماج... مرنال پانڈے

ملک کے وزیر زراعت یا کوئی وزیر اعلیٰ بھلے ہی آج کی کسان تحریک کو چھوٹے کسانوں کا اپوزیشن کے ذریعہ اسپانسر ڈرامہ قرار دیں، لیکن خطرہ بہت بڑا، ملک گیر اور کثیر رخی بن گیا ہے۔

آج کے ہندوستانی حکمراں اس بات کا اعتراف کریں یا نہ کریں، لیکن خوردنی اشیاء کی پیداوار کے معاملے میں ہندوستان کا خود مختار بن جانا بیسویں صدی کے سب سے بڑے واقعات اور ہماری قومی حصولیابیوں میں سے شمار ہے۔ لیکن آج کم لوگوں کو یاد ہے کہ سبز انقلاب کے روح رواں نارمن بورلاگ نے نوبل انعام لیتے وقت کی گئی تقریر میں دو باتیں واضح طور پر نشان زد کی تھیں، ایک یہ کہ سبز انقلاب کوئی امر ہونے والی دوا پی کر نہیں آیا۔ اسے بنائے رکھنے اور زرخیز علاقوں سے الگ پورے ملک میں پھیلانے کے لیے ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں کو لگاتار زرعی سائنسدانوں کی مدد لے کر زمین، سماج اور گھریلو صارفین طبقہ کو نظر میں رکھتے ہوئے اچھی زراعت کے لیے نئی کوششیں کرنی ہوں گی اور زراعت کا رقبہ بڑھانا ہوگا۔ دوسرا یہ کہ صدیوں سے اناج کی کمی کے شکار ممالک کو اناج کی فراہمی کے ساتھ اس سے پیدا ہونے والے نئے دردِ سر کو بھی صحیح طریقے سے سمجھنا ہوگا تاکہ وقت پر ان کو جھیلنے کی صلاحیت تیار کی جا سکے۔

مثلاً پیداوار بڑھی تو اس سے فصلوں کی قیمتیں کم ہوں گی، ساتھ ہی نئے بیج، پمپ اور فرٹیلائیزر کا استعمال کرنے سے کسانی لاگت بڑھے گی، ساتھ ہی پانی اور بجلی کا خرچ بھی بڑھے گا۔ اس حالت میں کسانی کو مفید اور خوشحالی کا ذریعہ بنائے رکھنے کے دو ہی راستے ہوں گے، ایک یہ کہ حکومتیں برآمدگی کے لیے باہر نئے بازار تلاش کریں اور ضرورت کے مطابق سبسیڈی دے کر اناج کی قیمت اتنے اونچے رکھیں کہ کسانوں اور منڈیوں کا دیوالہ نہ نکلے۔ ایک خطرہ اور انھوں نے نشان زد کیا تھا، کہ بڑے کسان سرمایہ دار بن کر دھیرے دھیرے بازار پر قبضہ کر لیں گے اور چھوٹے کسانوں کے ساتھ ساتھ ہرواہوں کا زوال ہو جائے گا۔

بورلاگ کا یہ اندیشہ 1968 میں ہی اس وقت تنجاور ضلع کے اراضی مالکان اور ہرواہوں کسانوں کے خونی تصادم سے صحیح ہوتا ہوا نظر آیا جب 43 لوگ مارے گئے۔ کوئی دستکار یا کاریگر ہو تو وہ گاؤں چھوڑ کر شہر میں چار روٹی کما بھی لے، لیکن چھوٹے کسان زمین چھوڑ کر کہاں جائیں گے، کیسے جئیں گے؟

2018 تک اناج انقلاب کے لاتعداد نئے اقتصادی، سیاسی اور سماجی نتیجے سامنے آ چکے ہیں۔ خوشحال ریاستوں کے گاؤں کی ساہوکاری بڑے کسانوں کے لیے ناکافی ہو گئی تو بینکوں نے داخلہ لیا۔ بیما کمپنیاں آئیں اور ان سب کو سرکاری سبسیڈی بھی دی گئی۔ لیکن اب بھی بڑی تعداد میں بارش پر منحصر ہندوستان میں فصل کا بیمہ کرنے کا مطلب ہے موسم کا بیمہ۔ چار سال خشک سالی، دو سال سیلاب، اس پر گلوبل گرماہٹ سے غیر یقینی موسم کی حالت، وقت پر قرض ادائیگی حلق کا کانٹا بن گیا۔

زراعت ریاستوں کا موضوع ہے، اس لیے مرکز منصوبہ بند مشورے دے سکتا ہے، ریاستی فنڈ میں خسارے کا خطرہ اٹھا کر ریاستوں کو اضافی رقم مہیا کر سکتا ہے، لیکن بنیادی طور پر صحیح استعمال تو ان ریاستی حکومتوں کو ہی کرنا ہوتا ہے۔ ان پر انتخابی مفادات کا دباؤ ہوتا ہے کہ ٹیکس کا 85 فیصد حصہ تنخواہ، پنشن اور کسانی بینک قرض و بجلی پر اعلان کردہ سبسیڈی کے بل بھرنے میں ہو تاکہ کسانی ووٹ بینک بنا رہے۔ لیکن ساتھ ہی اب تک اتنے ہی بڑے ہو چکے شہری ووٹ بینک کا بھی دباؤ ہوتا ہے کہ چیزیں مہنگی نہ ہوں، نئے شہری مشنری کھلتے رہیں، پانی و بجلی کی کمی نہ ہو۔

شہروں میں کھانے پینے کا انداز بدلا ہے جس سے اجناس کی طلب گھٹی ہے اور الگ الگ طرح کے پھلوں و سبزیوں کا استعمال بڑھا ہے۔ اس سے کسان زیادہ پھل اور سبزی کی پیداوار کرنے لگے ہیں، لیکن اسٹوریج اور شہروں تک مال ڈھلائی کے انتظام میں کوئی قابل ذکر ترقی نہیں ہوئی اور نہ ہی زراعتی مصنوعات مارکیٹ کمیٹیاں، بچولیوں کے ان خفیہ معاملوں پر روک لگا پا رہی ہیں جو ہر مرتبہ موسم آنے پر قیمت کریش کر دیتے ہیں، اور پھر ٹماٹر، پیاز، آلو یا لہسن جیسی سبزیوں کی فصل کسان سے مٹی مول خرید کر خود اسے بھاری منافع پر دور دراز لے جا کر فروخت کر رہے ہیں۔

انتخاب در انتخاب ذات، مذہب اور شہر بنام گاؤں کی بنیاد پر ووٹ لینے کی وجہ سے ترقی کا کوئی مناسب خاکہ نہیں بن سکا ہے اور یہ جمہوری ہندوستان کا سب سے بڑا سیاسی دردِ سر بن گیا ہے کہ شہر خوش رکھو تو گاؤں ناخوش، گاؤں کو خوش کرو تو شہروں میں اجناس مہنگے، وہاں کی مشنری کے لیے ضروری بجلی، پانی، زمین میں تخفیف سے متوسط طبقہ کی ناراضگی کا سامنا کرو۔

ملک کے وزیر زراعت یا کوئی وزیر اعلیٰ بھلے ہی آج کی کسان تحریک کو چھوٹے کسانوں کا اپوزیشن کے ذریعہ اسپانسر ڈرامہ قرار دیں لیکن خطرہ بہت بڑا، ملک گیر اور کثیر رخی بن گیا ہے اور سبسیڈی اور کم از کم حمایتی قیمت یعنی ایم ایس پی کا اضافہ، پٹرولیم مصنوعات پر چند پیسے کم کرنے یا دالیں درآمد کرنے کے پرانے ہتھیاروں-وعدوں سے یہ پیدا ہونے والے نئے چیلنجز بہت دور تک نہیں نمٹائے جا سکتے۔

سب سے زیادہ مقبول