لاک ڈاؤن کے نام پر سرکاری دہشت گَردی!... نواب علی اختر

حکومت کی طرف سے خاص کر وزیراعظم مودی نے اب تک تین مرتبہ قوم سے خطاب کرتے ہوئے صرف سطحی باتیں کی ہیں۔ بنیادی طور پر معاشی پیکیج کا دور دور تک پتہ نہیں ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

عالمگیر وبا ’کووڈ۔19‘ سے نبرد آزما ہندوستان میں سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ہی عوام کی اکثریت نے جہاں خامیوں اور مبینہ لاپرواہیوں کے باوجود دیر سے ہی سہی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی من وعن حمایت کی مگر ملک میں وباء کے پھیلنے کے لیے حکومت نواز طبقہ لگاتار عوام بالخصوص مسلمانوں کے ایک طبقہ کو ملزم گردان کر برسر اقتدار بڑبولے لیڈروں کو کلین چٹ دینے کی روش اختیار کیے ہوئے ہے جس سے عام لوگ خود کو ٹھگا سا محسوس کر رہے ہیں۔ وباء سے نپٹنے کے لیے حکومت نے ملک میں تالہ بندی کر کے سبھی کو جو جہاں پر ہے وہیں پر’مقید‘ کر دیا۔ جنہیں بآسانی ضروریات زندگی دستیاب ہیں وہ تو کسی طرح خاموش ہیں مگر جن کے پاس جینے کے لیے ضروری سامان نہیں ہے وہ جب اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے باہر نکلتے ہیں تو انہیں ’سرکاری دہشت گردی‘ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان لوگوں کو پولس دوڑا دوڑا کر ایسے پیٹتی نظر آرہی ہے گویا انھوں نے کوئی بڑا جرم کیا ہے، متاثرہ افراد رحم کی بھیک مانگتے ہیں مگر ’محافظین‘ کا دل نہیں پسیجتا ہے۔

گزشتہ 24 مارچ کے بعد سے محض 19 روز بعد ہی حکومت اور ضلع انتظامیہ کے تمام تر دعوے کھوکھلے نظر آنے لگے ہیں جبکہ ابھی 21 روز کے لاک ڈاؤن کی اتنی مدت گزرنے کے با وجود حکومت کی جانب سے غریب مزدور کے لئے کھانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے، ایسے میں جبکہ مکمل لاک ڈاؤن کے سب ملک بھر کے تمام مزدور اپنے اپنے گھروں میں قید ہیں اور ان کے سامنے روزی روٹی کا مسئلہ کھڑا ہوا ہے۔ جب کہ مرکز کی مودی اور اتر پردیش کی یوگی حکومت کی جانب سے کسی کو بھی کھانے کی کوئی کمی نہ ہونے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن بیشترغریب مزدور اپنے پاس موجود کھانے کا راشن و جمع پیسے خرچ کر نے کے بعد اب حکومت کی جانب مدد کی غرض سے دیکھنے کو مجبور ہیں اور ابھی تک حکومت کی جانب سے کسی طرح کے مؤثر اقدامات نہیں کیے ھئے ہیں۔ اترپردیش کے کئی مقامات پر کھانے کے انتظامات کے لیے لوگ در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں مگران کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، ستم بالائے ستم یہ کہ اے سی گاڑیوں میں پولس اہلکار ایسے لوگوں کو دیکھتے ہی جھپٹ پڑتے ہیں اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جسے دیکھ کرسینے میں دل رکھنے والے ہر شحص کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے۔

لاک ڈاوؤن سے سب سے زیادہ دن بھر محنت ومزدوری کرکے اپنے کنبے کے لیے رات کے کھانے کا بندوبست کرنے والے غریب لوگ پریشان ہیں، ان کے پاس راشن ختم ہوچکا ہے اور اب ان کے بچوں کا سہارا صرف امداد پر ہی منحصر ہے۔ موجودہ وقت میں کچھ فرشتہ صفت انسان ہیں جو ضرورت مندوں کے لیے کچھ کھانے کا سامان دستیاب کرا رہے ہیں جس سے زیادہ تر مزدور و دیگر افراد کا کام چل رہا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے حکومت دعوؤں اور وعدوں سے باہرنکل کر عملی طور پر میدان میں آئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ امداد پر منحصر افراد اپنی خودداری کی حفاظت کے لیے خودکشی پر مجبور ہوجائیں۔ یوپی ہی نہیں ملک کے مختلف حصوں میں لوگوں کو اب کھانے پینے کی اشیاء کی ضرورت پیش آنے لگی ہے مگرحکومت کی جانب سے امداد موصول نہ ہونے سے غریبوں کے مسائل میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کچھ لوگ اس قدر خود دار ہیں کہ وہ دن میں مدد لینے کے لیے سامنے نہیں آتے ہیں، لیکن مخیر حضرات کی جانب سے خاموشی سے رات کے وقت ایسے لوگوں کے دروازے پر سامان کے پیکیٹ بنا کر رکھ دیئے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حکومت کو چاہیے کہ کوئی مؤثر اقدامات کرے تاکہ لوگ حکومت کے لاک ڈاؤن کے حکم کو عزت کے ساتھ پورا کر سکیں۔

ان سب حالات کے لیے مرکز کی بی جے پی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے جس کے پاس شہریوں کو فضول باتوں میں الجھا کر رکھنے کے سواء کوئی تدبیر یا حکمت نہیں آتی ہے۔ کورونا وائرس کے اثرات کو کم کرنے اور لاک ڈاؤن سے ہونے والی پریشانیوں اور معاشی ابتری کو روکنے کی تدابیر کرنے کے بجائے عوام کو تالی تھالی اور دیپ جلا کر خوش رہنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکومت اپنی خامیوں پر تبلیغی جماعت کے واقعہ کا پردہ ڈال کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا خوب ہنر رکھتی ہے۔ مودی حکومت کی ہر خرابی پر واہ واہ کرنے والا الیکٹرانک میڈیا بھی عوام کو معاشی سنگینیوں سے بے خبر رکھنے کے لیے جماعت کے ارکان کے کورونا وائرس پھیلانے کا ہی ماتم کر رہا ہے۔ نظام الدین مرکز پر کوستے اور لتاڑتے ہوئے لاک ڈاؤن کی تمام خرابیوں اور تباہیوں کو نظر انداز کر دینا بہت بڑی غلطی ہے۔ حکومت کی طرف سے خاص کر وزیراعظم مودی نے اب تک تین مرتبہ قوم سے خطاب کرتے ہوئے صرف سطحی باتیں کی ہیں۔ بنیادی طور پر معاشی پیکیج کا دور دور تک پتہ نہیں ہے۔

معاشی ابتری کی دکھائی دینے والی خرابی کو چھپا کر مسلمانوں اور مرکز کے خلاف من گھڑت کہانیوں کے ذریعہ عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم نے کورونا کی وباء پھوٹ پڑنے کے بعد 19 مارچ کو قوم سے کیے گئے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ ان کی حکومت کورونا وائرس وباء کے باعث معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو دور کرنے کے لئے ٹاسک فورس تشکیل دے گی۔ اس کے تقریباً ایک ہفتہ بعد حکومت نے معاشی راحت پیکیج کا اعلان کیا جس کی مثبت شروعات نہیں ہوسکی۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے قوم سے جب بھی خطاب کیا، اس میں صرف دلاسہ اور بھروسہ ہی دیا ہے۔ اب لاک ڈاؤن کے 21 دن پورے ہونے جارہے ہیں اور یہ لاک ڈاؤن مزید 15 دن تک جاری رکھنے پر غور ہو رہا ہے لیکن معیشت کی تباہی کو روکنے اور اس تباہی سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی ہے۔ ملک کی معیشت پہلے ہی آئی سی یو میں چلی گئی تھی اور اس زوال پذیر معیشت کو بڑی مشکل سے انتہائی نگہداشت والے کمرے سے باہر نکالنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔

حکومت کی کار کردگی اور ادارتی گروپ کی سرگرمیوں سے ایسا تو نہیں معلوم ہوتا کہ یہ حکومت کچھ کرپائے گی۔ ملک کے غریب عوام کے دکھ درد کا ذکر کرکے ہمیشہ سینہ پیٹنے والی حکومت غریب عوام کو لاک ڈاؤن کی مار سے بچانے کی بھی اہل نظر نہیں آرہی ہے۔ عالمی سطح سے تیل کی قیمت تاریخ کے سب سے کم ترین سطح پر آ گئی ہے لیکن حکومت اس ارزاں تیل کے ثمرات بھی عوام کو منتقل کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد کی صورتحال تو اس سے زیادہ بھیانک ہوسکتی ہے۔ لوگ جب سڑکوں پر آئیں گے اور جیب میں پیسہ نہ ہوگا تو اندازہ کیجئے کہ عوام کا کیا حال ہوگا۔ چھوٹے بیوپاریوں، کرایہ کی دکانوں میں کاروبار کرنے والوں اور دیگر چھوٹی اوردرمیانی صنعتوں سے وابستہ افراد کا کون پرسان حال ہوگا۔ یہ تمام باتیں حکومت کے لئے بے معنی معلوم ہوتی ہیں کیونکہ حکومت نے اب تک ان امور پر توجہ نہیں دی ہے اور نہ ہی کسی بڑے معاشی راحتی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔

Published: 12 Apr 2020, 7:11 PM
next