آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا مقصد صرف سیاسی فائدہ اٹھانا ہے

امت شاہ نے تین شعبوں کی خود مختاری کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گویا امت شاہ کا آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا فیصلہ ایک ایسے مرے ہوئے قانون کا سر کاٹنا ہے جس کی موجودگی برائے نام تھی۔

تصویر سوشل میڈیا 
تصویر سوشل میڈیا

اعظم شہاب

اعظم شہاب

جموں و کشمیر کی خود مختاریت ختم ہونے پر بی جے پی و اس کے نظریات سے وابستہ تنظیموں کا جشن یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ یہ فیصلہ ایک سیاسی شعبدے بازی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ فیصلہ نہ تو کشمیر کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ملک کے مفاد میں۔ کیونکہ اگر یہ کشمیر کے مفاد میں ہوتا تو کشمیری عوام کو اعتماد میں لئے بغیر ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا جو وادی کے مستقبل کو غیریقینی صورت حال کا شکار بنادے اور اگر ملک کے مفاد میں ہوتا توتقسیم ریاست کی ایک ایسی روایت نہیں شروع کی جاتی جو ملک کی ہر اس ریاست پر تقسیم کی تلوار ٹانگ دے جو مرکز میں برسرِ اقتدار پارٹی کے قبضے میں نہ ہو۔ یہ جشن، اس کی سیاسی مارکیٹنگ، قومی میڈیا کے ذریعے اسے ایک تاریخی اور انقلابی فیصلے کے طور پر پیش کرنا اس بات کا علانیہ ثبوت ہے کہ وزیر داخلہ کا یہ فیصلہ خالص سیاسی مفاد کے حصول کے لئے ہے جس کا استعمال آئندہ اسمبلی ودیگر انتخابات میں ووٹوں کے پولرائزیشن کے لئے کیا جائے گا۔

ملک میں ایسی کئی ریاستیں ہیں جنہیں خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔ انہیں ریاستوں میں سے ایک ناگالینڈ بھی ہے جہاں آرٹیکل 371(اے) کے تحت ملک کے آئین کے ساتھ ریاست کا ایک متوازی دستور بھی نافذ ہے۔ ملک کی کسی ریاست کا شہری بغیر ناگالینڈ حکومت کی اجازت کے وہاں داخل تک نہیں ہوسکتا اور وہ بھی بغیر پاسپورٹ کے۔ جموں و کشمیر کی ہی طرح وہاں کا پرچم بھی علیحدہ ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ناگالینڈ کو خصوصی ریاست کا درجہ انہیں پردھان سیوک نے دیا ہے جن کے وزیرداخلہ کو کشمیر کی خودمختاری ملک کے وفاق کے لئے خطرہ محسوس ہورہی تھی۔ یہی کچھ صورت حال اروناچل پردیش کا بھی ہے جہاں بغیر پاسپورٹ کے داخلہ ممنوع ہے۔ ملک کے کسی بھی ریاست کا شہری نہ وہاں زمین جائیداد خرید سکتا ہے اور نہ ہی وہاں کی شہریت حاصل کرسکتا ہے۔ ہماچل پردیش کو بھی خصوصی مراعات حاصل ہیں۔ لیکن چونکہ ان ریاستوں کی خودمختاری کو ختم کرنے سے بی جے پی کو مطلوبہ سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا تھا، اس لئے وہاں کے داخلی معاملات دخل اندازی کے بارے میں شاہ صاحب سوچیں گے بھی نہیں۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ ہندوستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے اپنی کچھ ریاستوں کو خصوصی درجہ اور اختیارات دیئے ہوں۔ پڑوسی ملک چین جسے ہندوستان سے زیادہ جابر وغیر جمہوری قرار دیا جاتا ہے، اس نے بھی ہانگ کانگ کو خصوصی ریاست کا درجہ دے رکھا ہے اور اس خصوصی درجے سے چین کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے۔ کشمیر کے بارے میں ایک استثناء یہ ہے کہ یہ سورش زدہ علاقہ ہے جہاں پڑوسی ملک پاکستان سے دراندازی ہوتی رہتی ہے اور جہاں کے عوام جزوی خود مختاری کے بجائے کلی خود مختاری کے خواہاں ہیں۔ اس مطالبے کا خمیازہ وہاں کے عوام گزشتہ 70 برسوں سے بھگت رہے ہیں، ایک جانب ہندوستانی فوجیوں کے جوتوں کی دھمک اور دوسری جانب پاکستان حمایتی ملی ٹنٹ تنظیمیوں کی قتل وغارت گری نے وہاں کے لوگوں کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔ ایسی صورت میں بہترین لائحہ عمل یہ ہوسکتا تھا کہ جموں کشمیر کی خود مختاریت میں کوئی دخل دینے کے بجائے وہاں کے عوام کو وشواش میں لیا جاتا، جس کا نعرہ خود پردھان سیوک نے ہی دیا تھا اور استصواب کے ذریعے انہیں کلی طور پر ہندوستان میں ضم کیا جاتا، لیکن ایسا کرنے میں غالباً شیاما پرساد مکھرجی کی روح کچھ نالاں رہتی۔

کشمیر میں نافذالعمل آرٹیکل 370 کے تحت اس ریاست کو اس لحاظ سے خصوصی اختیار حاصل تھا کہ مرکزی حکومت چار شعبوں کے علاوہ کسی اور شعبے میں دخل نہیں دے سکتا تھا۔ لیکن اسی کے ساتھ مرکز کو اس بات کا مکمل اختیار بھی حاصل تھا کہ وہ ریاستی حکومت کو اعتماد میں لے کر اپنے دیگر قوانین کو وہاں لاگو کروا سکتی تھی۔ اس کے تحت مختلف قوانین میں پارلیمنٹ کے ذریعے کی جانے والی ترمیمات کو جموں و کشمیر کی منظوری سے وہاں مختلف شعبوں میں نافذ ہوتے رہے۔ کشمیر کی خود مختاری کے دائرے میں 97 شعبے ہیں، جن میں وہ قوانین بنانے اور پالیسی و پروگرام مرتب کرنے میں آزاد تھی۔ لیکن اس کے باوجود ان 97 شعبوں میں سے 94 شعبوں میں مرکزی حکومت کے توثیق کردہ قوانین نافذالعمل تھے۔ گویا 94 شعبوں میں مرکزی حکومت کو اختیار حاصل ہوچکا تھا۔ یہ اختیار کانگریسی دورِ حکومت میں نہایت خاموشی سے ہوا جس سے نہ تو کشمیری عوام ناراض ہوئے اور نہ ہی وہاں کی حکومت نے ان پر کوئی احتجاج کیا۔ لیکن کانگریس کی مرکزی حکومتوں نے ان 94 شعبوں کو اپنے زیرنگیں کرنے کا نہ تو کبھی پرچار کیا اور نہ ہی کبھی کوئی سیاست کی۔ یہاں تک کہ اٹل بہاری واجپئی حکومت نے بھی کبھی اس پر کوئی سیاست کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے برخلاف اٹل بہاری واجپئی نے وہاں کے لوگوں کے دلوں کو جیتنے کے فارمولے کے تحت کام کیا جس کا خاطر خواہ اثر ان کے دورِ حکومت میں دیکھا گیا۔

اس لحاظ سے کشمیرکو جو خود مختاری حاصل تھی وہ محض 3 شعبوں میں تھی اور وزیرداخلہ امت شاہ نے انہیں تین شعبوں کی خود مختاری کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گویا امت شاہ کا آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا فیصلہ ایک ایسے مرے ہوئے قانون کا سر کاٹنا ہے جس کی موجودگی برائے نام تھی۔ لیکن چونکہ گزشتہ پانچ سال قبل ’پہلی بار‘ کی جو بیماری مودی حکومت کو لگی تھی، اس نے ابھی تک ساتھ نہیں چھوڑا ہے، اس لئے اسے بھی ایک بہت بڑی اپلدھی بناکر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ مردہ قانون یا اختیار جموں و کشمیر کو حاصل رہتا تو یہ نہ تو کشمیر کے لئے بہت بڑا سرمایہ ہوتا نہ ہی ملک کے وفاقی ڈھانچے کو اس سے کوئی نقصان پہنچتا۔ اس لئے کشمیر کی برائے نام خودمختاری کو ختم کرنے کا مقصد صرف سیاسی فائدہ اٹھانا ہے۔