این آر سی مسلم مخالف ہی نہیں غریب، دلت اور خاتون مخالف بھی ہے!

سابق آئی اے ایس افسر کنن گوپی ناتھن کا کہنا ہے کہ ’’اگر ملک این آر سی کے راستے پر چل نکلا تو ہم ایسے مقام پر پہنچ جائیں گے جہاں سے واپس آنا مشکل ہوگا۔ آخر میں ہم ناکام جمہوریت ثابت ہو جائیں گے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

کنن گوپی ناتھن

کنن گوپی ناتھن

ہندوستانی ہونے کے ناطے کیوں ہمیں کشمیر کے حالات پر فکرمند ہونا چاہیے؟ کیوں ہمیں کشمیر کے اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے؟ کیوں ہمیں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے اور کیوں ہمیں عدم اتفاق کا اظہار کرنا چاہیے؟ کیوں کہ میرے لیے عدم اتفاق کی آواز جمہوریت کی بنیاد ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اس پر زیادہ تر لوگوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اسی لیے حال ہی میں آئی اے ایس کی ملازمت سے استعفیٰ دینے کے بعد میں نے گھوم گھوم کر لوگوں کو اپنی آواز کو سامنے رکھنے کے لیے راغب کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنئی میں ایسی ہی ایک میٹنگ ہو رہی تھی تبھی 23 سال کی ایک لڑکی نے مجھ سے پوچھا کہ ’’آخر ہم کون سے بنیادی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کی بات کر رہے ہیں... آج میں ہندوستانی شہری ہوں، ہو سکتا ہے کل نہ رہوں۔‘‘ میرا دھیان کشمیر پر تھا، لہٰذا اس ہندو لڑکی کے سوال کا جواب نہیں دے سکا۔ لیکن اس کے سوال مجھے جھنجھوڑتے رہے۔

واپس ممبئی آنے پر میں نے اس واقعہ کا تذکرہ اپنے دوستوں سے کیا۔ ان میں ایک مسلمان تھا اور واقعہ سنتے ہی وہ سسک سسک کر رونے لگا۔ میں حیرت میں پڑ گیا۔ وجہ پوچھا تو اس نے کہا کہ ’’میری پوری فیملی اپنے دادا جی کے وقت کے کاغذات تلاش کر رہی ہے، لیکن اب تک کچھ حاصل نہیں ہو سکا ہے۔‘‘ اس کے لیے یہ ثابت کرنا مشکل تھا کہ اس کے دادا جی 1947 سے پہلے بھی یہیں تھے۔ انھوں نے کہا کہ سارے مسلمان ایسے ہی کاغذات تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ میرے پاس بھی تو 30-20 سال پرانے کاغذات بھی نہیں۔ ہندوستان میں میرے جیسے تمام ہندو ہیں جن کے پاس اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے ضروری کاغذات نہیں، لیکن پھر بھی میں ایک طرح سے سکون کے ماحول میں ہوں۔ میں نے محسوس کیا کہ این آر سی کے بارے میں جو سیاسی مشورہ چل رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے ایک ہندو ہونے کے ناطے میں بہت پریشان نہیں، لیکن مسلم طبقہ کے لوگ پریشان ہیں۔ این آر سی کے بارے میں یہی سیاسی پیغام دیا گیا ہے کہ اگر آپ مسلم چھوڑ کر کسی بھی مذہب کے ہوں تو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہ مسئلہ شہریت ترمیمی بل سے ختم ہو جائے گا۔ اگر کوئی ہندو اپنی شہریت نہیں بھی ثابت کر پائے تو اسے پناہ گزین مان لیا جائے گا اور پھر اسے شہریت دے دی جائے گی۔ یہ ضرور ہے کہ حکومت کھل کر یہ نہیں کہہ رہی ہے، لیکن پیغام یہی دیا جا رہا ہے کہ ہندوؤں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

اس ضمن کے مدنظر میں نے محسوس کیا کہ پالیسی تیار کرنے میں ڈائیلاگ کی کتنی اہمیت ہے۔ سیاسی ڈائیلاگ بالکل آسان ہے، کیا غیر قانونی مہاجروں کو کھدیڑ کر باہر کرنا چاہیے؟ اب غیر قانونی مہاجر بھی دو طرح کے ہوتے ہیں، پناہ گزین اور درانداز۔ یہاں آنے والے سبھی غیر مسلم پناہ گزین ہیں تو مسلم درانداز۔ اس ضمن میں بالکل سیدھا سوال کیا جاتا ہے- کیا ہمیں دراندازوں کو باہر کرنا چاہیے؟ ہر آدمی اس کا جواب ’ہاں‘ میں دے گا۔ میں نے بھی جہاں جہاں یہ سوال کیا، جواب ’ہاں‘ میں ہی ملا۔ میں نے لوگوں سے یہ بھی پوچھا کہ کیا کالا دھن کو ختم کیا جانا چاہیے؟ اس کا جواب بھی امید کے مطابق ’ہاں‘ میں ملا۔ سارے مسئلہ کا جڑ یہی ہے۔ یہ سب سیاسی سوال ہیں جو بڑے اور بنیادی مسائل کا خاتمہ آسان کر دیتے ہیں۔ میں لوگوں کو یہی سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ بڑے مسائل کو آسان سوال میں بدل دینا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ کالے دھن کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جب یہ پوچھا گیا کہ کالا دھن ختم ہونا چاہیے یا نہیں، اور سبھی نے ایک آواز میں کہہ دیا ’ہاں‘، تو اس کے نتیجہ کار نوٹ بندی کا تباہ کن فیصلہ لے لیا گیا۔ دقت یہ ہے کہ لوگ ان سوالوں پر پلٹ کر سوال نہیں کرتے۔ لوگوں کو یہ پوچھنا چاہیے تھا کہ آخر کالا دھن ہوتا کیا ہے۔ اگر کسی خاتون نے 20 ہزار روپے باورچی خانہ کے کسی برتن میں چھپا کر رکھا ہے تو یہ وہی پیسہ ہے جسے کوئی ریہڑی پٹری والا، کوئی رکشہ والا، کوئی چھوٹا دکاندار روز خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ کالا دھن ہے؟ اگر ہم نے پلٹ کر سوال کیا ہوتا تو کالے دھن کی دو تعریفیں نکل کر آتی، غیر قانونی طریقے سے جمع کی گئی دولت اور ویسی رقم جس پر کوئی ٹیکس نہیں دیا گیا۔ لیکن آسان سوال کا بغیر سوچے سمجھے جواب دے دینے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کو ایک تباہ کن حل تھما دیا جاتا ہے۔ عام سوچ یہ ہے کہ کالا دھن بدعنوانی سے جمع کیا گیا وہ پیسہ ہے جسے سوئس بینکوں میں رکھا گیا ہے۔

یہی حال این آر سی کا ہے۔ میں لوگوں سے یہ پوچھنے کو کہتا ہوں کہ غیر قانونی مہاجر کون ہیں اور ان کی پہچان کیسے ہوگی؟ اگر ہم یہ سوال نہیں کریں گے تو ہمیں نوٹ بندی کی طرح ہی ایک نہایت ہی بکواس اور تباہ کن حل تھما دیا جائے گا۔ لیکن جب ہم یہ سوال کریں گے تو ہمیں احساس ہوگا کہ حکومت غیر قانونی مہاجروں کی پہچان کاغذات کی بنیاد پر کرے گی۔ اس کا مطلب ہوا کہ جن کے پاس ضروری کاغذات نہیں ہوں گے، وہ غیر قانونی مہاجر ہوں گے۔ اب اگر اس مرحلہ میں کوئی آپ سے پہلا سوال پوچھے تو ظاہر ہے کہ آپ کا جواب ’نہیں‘ ہوگا کیونکہ تب آپ کو پتہ ہوگا کہ ایسے تمام لوگ ہیں جن کے پاس اس طرح کے کاغذات نہیں ہیں۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سرکاری کاموں میں کاغذات کس طرح تیار ہوتے ہیں۔ میرے اپنے معاملے میں ایک دستاویز میں میرے نام میں ’کنن‘ ہے تو ایک میں ’کانن‘۔ ایک میں کنن گوپی نایر ہے تو ایک میں کنن گوپی ناتھن۔ یہ حالت بہت عام ہے۔ اب اگر کوئی سرکاری ملازم کاغذ کی جانچ کرے گا تو فطری امر ہے کہ وہ سوال کرے گا کہ الگ الگ دستاویزوں میں نام الگ الگ کیوں ہیں۔ اسے اندیشہ ہوگا کہ آپ نے کاغذات میں ہیرا پھیری کی ہے اور پھر آپ کی شہریت کو مشتبہ قرار دے دیا جائے گا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کن لوگوں کے پاس کاغذات نہیں ملیں گے۔ جواب آسان ہے... غریب، دلت، قبائلی، خواتین اور بے زمین۔ جن کے پاس کاغذات ہیں، ان میں سے بھی کافی لوگوں کے پاس یہ مھفوظ نہیں رہ پاتے۔ قدرتی آفات کے متاثر لوگوں کے پاس کاغذات کہاں سے ملیں گے؟ کیرالہ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بینک تک تو اپنے کاغذات محفوظ رکھ نہیں پاتے، عام آدمی کی کیا بساط؟ جیسا کہ اس ملک میں یہ ایک عام بات ہے، رابطہ والے بااثر لوگ اپنی دفاع کے طریقے کر لیں گے اور جن کے پاس وسائل نہیں، وہ غریب پھنس جائیں گے، جیسا کہ نوٹ بندی کے معاملے میں ہوا۔ یعنی این آر سی کے بارے میں سیاسی طور پر کچھ بھی کہا جائے، حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مسلم مخالف نہیں بلکہ غریب مخالف، دلت مخالف، خاتون مخالف ہے۔

ہم نریندر مودی اور امت شاہ کو ’سرکار‘ مان لیتے ہیں۔ لیکن حقیقی معنوں میں ’سرکار‘ تو وہ آخری شخص ہوتا ہے جو آپ کے گھر دستاویزوں کی جانچ کے لیے آتا ہے۔ اور ’دراندازوں‘ کو کھدیڑ کر بھگانے پر اتفاق ظاہر کر کے ہم ’سرکار‘ کے اسی آخری شخص کو یہ طے کرنے کا اختیار دیتے ہیں کہ ہم ملک کے شہری ہیں یا نہیں۔ آسام میں محض تین کروڑ لوگوں کی شہریت طے کرنے میں 50 ہزار ملازمین کو 6 سال لگ گئے اور اس قواعد میں 1600 کروڑ خرچ ہونے کے بعد آج ہر کوئی اسے کوڑے کے ڈبے میں ڈالنے کو بے تاب ہے تو 130 کروڑ لوگوں کی شہریت طے کرنے کے کام میں کتنا وقت اور پیسہ لگے گا، اس کا بہ آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس میں لوگوں کو جو ذہنی تکلیف پہنچے گی، وہ تو الگ ہے۔ غور کریں تو آپ پائیں گے کہ این اار سی ایسا عمل ہے جس میں کسی کی شہریت ثابت کرنے کی اپنی ذمہ داری کو حکومت نے بڑی ہوشیاری سے لوگوں پر ہی ڈال دیا ہے۔ حکومت ایسا اس لیے کر رہی ہے کیونکہ وہ اپنا کام نہیں کرنا چاہتی۔ غیر قانونی شہریوں کی پہچان کرنا، انھیں باہری ثابت کرنا تو حکومت کا کام ہے۔ لیکن حکومت کام چور ہے، اس لیے وہ چاہتی ہے کہ اس کا یہ کام ہم کریں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کوئی سرکار ایسی ہمت کر کیسے سکتی ہے؟ ہم اس ملک میں رہ رہے ہیں، اتنا ہی ثبوت کافی ہے کہ ہم یہاں کے شہری ہیں۔ لیکن اگر سرکار کو ہماری شہریت کو لے کر کوئی شبہ ہے تو اس نے ہمارے ہی ووٹ لے کر حکومت کی کمان اپنے ہاتھ میں کیسے لے لی؟ پھر تو اس کے بھی حکومت میں ہونے کو مشتبہ مانا جانا چاہیے۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ حکومت آج ہے، کل نہیں رہے گی۔ لیکن این آر سی کا منفی اثر آگے بھی بنا رہے گا کیونکہ یہ کام وہ اپنے دور اقتدار میں تو پورا کرنے سے رہی۔ اگر پورے ملک مین این آر سی نافذ ہوتا ہے تو لوگوں کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے اگلے 30-20 سالوں تک سرکاری دفتروں کے آگے لائن میں کھڑے رہنا پڑے گا۔

اس حکومت نے این آر سی کے ایشو پر ملک کی عوام کے سامنے آسان سوال کا ایسا جال پھینکا ہے کہ اگر پلٹ کر سوال نہیں پوچھا تو اس میں پھنس جانا طے ہے۔ اور اس کا خمیازہ لوگوں کو ہی اٹھانا پڑے گا۔ دراصل این آر سی کو لانے کے پیچھے یہی اہم جذبہ ہے کہ لوگوں کو ہمیشہ خوف اور عدم تحفظ کے ماحول میں رکھا جائے۔ ذرا سوچیے، اگر ہماری شہریت پر اندیشہ رہے گا تو کیا ہم اس حکومت کے خلاف منھ کھول پائیں گے؟ کتنے ہندوستانی شہری ضلع مجسٹریٹ کے پاس جا کر کہہ سکتے ہیں کہ ان کے ساتھ غلط ہو رہا ہے؟ بہت کم۔ کیونکہ ایک ملک کے طور پر ہم نے اپنے شہریوں کو اتنا اختیار دیا ہی نہیں۔ اتنا طے ہے کہ اگر ملک این آر سی کے راستے پر چل نکلا تو ہم ایسے مقام پر پہنچ جائیں گے جہاں سے واپس آنا مشکل ہوگا کیونکہ یہ پورا عمل نفرت کے جذبہ سے چلے گا۔ اس راہ پر چلتے چلتے ہم ایک ناکام جمہوریت ثابت ہو جائیں گے۔ مجھے بھروسہ ہے کہ ہم، اس ملک کے لوگ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ ہمیں ایسے تخریب والے فیصلے لینے والوں سے اس ملک کو بچانا ہوگا۔

(ایشلن میتھیو سے بات چیت پر مبنی)

Published: 30 Nov 2019, 6:11 PM