اَب ظفر سریش والا رنگ بدلنے کو تیار؟

ظفر سریش والا ہمیشہ نریندر مودی کی تعریف اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی واہ واہی کرتے ہوئے ہی نظر آئے، اس لیے ضمنی انتخابات کا نتیجہ آنے کے بعد کیے گئے ان کے ٹوئٹ سے لوگ حیران ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آواز تجزیہ

وزیر اعظم نریندر مودی کی حمایت میں ہمیشہ ساتھ کھڑے رہنے والے ظفر سریش والا نے پہلی بار ان کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے انھیں آئینہ دکھانے کا کام کیا ہے۔ انھوں نے 4 لوک سبھا سیٹوں اور 10 اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات کے جو نتائج جمعرات کو سامنے آئے اس کے بعد مودی حکومت کے تئیں اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ ’’کیرانہ جیسے فرقہ وارانہ کشیدگی والے علاقے سے تبسم حسن کا بڑے فرق سے فتحیاب ہونا فرقہ وارانہ پولرائزیشن کے اصولوں کو پوری طرح مسترد کرتا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ تقسیم کی سیاست کام نہیں کرے گی۔‘‘

ظفر سریش والا کا یہ ٹوئٹ واقعی حیران کرنے والا ہے کیونکہ ان کا ذکر آتے ہی میر جعفر کی یاد آ جاتی ہے اور یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ گجرات کے مسلمانوں کے خون سے ان کے بھی ہاتھ رنگے ہوئے ہیں، اور ہاتھ رنگے ہونے کا یہ مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے مسلمانوں کا قتل کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ سال 2002 کے مسلم کش فساد کے بعد ظفر سریش والا ان لوگوں کے ساتھ کھڑے نظر آئے جن کے ہاتھ گجرات کے مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔ اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کے ہاتھ گجراتی مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ۔ گجرات سے تعلق رکھنے والے ظفر سریش والا کی وزیر اعظم نریندر مودی سے قربت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور مرکز میں مودی بریگیڈ کے برسراقتدار ہونے کے بعد ظفر سریش والا نے متعدد تقاریب کے ذریعہ مسلمانوں میں مودی حکومت کے تئیں محبت پیدا کرنے کی ہر ممکن کوششیں کیں۔ یہی سبب ہے کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ظفر سریش والا کو نریندر مودی کے حوارین میں ہی شمار کرتا ہے، لیکن میر جعفر تو میر جعفر ہی ہوتا ہے اب ملک میں ہوا بدلتے دیکھ مودی بھکت ظفر سریش والا نے مودی حکومت کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی ہے بلکہ انھیں آئینہ دکھانے کی بھی کوشش کی ہے ۔

جمعہ کے روز ظفر سریش والا نے ایک پرائیویٹ نیوز چینل ’اے بی پی نیوز‘ کا ایک ویڈیو بھی اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر پوسٹ کیا ہے جس میں انھوں نے آر ایل ڈی کی اس بات کے لیے تعریف کی ہے کہ انھوں نے مسلم طبقہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو امیدوار بنایا۔ انھوں نے ’اے بی پی نیوز‘ سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’’کیرانہ جیسے علاقے میں مسلم خاتون کو امیدوار بنانا کوئی چھوٹی بات نہیں تھی جہاں فرقہ واریت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کیرانہ میں مسلمان اکثریت میں نہیں ہیں۔ یہاں ان کی تعداد تقریباً 32 فیصد ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تبسم حسن کو غیر مسلموں نے بھی ووٹ کیا۔ اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ لوگ نفرت کی سیاست کو پسند نہیں کر رہے۔‘‘ ظفر سریش والا نے ساتھ بی جے پی کے اعلیٰ لیڈروں پر یہ طنز بھی کیا کہ ’’میں بی جے پی کو مشورہ دینے والا کون ہوتا ہوں، ان کے پاس تو ایک سے بڑھ کر ایک ماہر لوگ موجود ہیں۔ میں تو صرف زمینی حقیقت کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔‘‘

ظفر سریش والا کا یہ ٹوئٹ کئی معنوں میں اہمیت کا حامل قرار دیا جا سکتا ہے۔ بڑی بات تو یہ ہے کہ انھوں نے اس بات کا واضح طور پر اعتراف کیا ہے کہ بی جے پی حکومت تقسیم کی سیاست کر رہی ہے اور فرقہ واریت کے ذریعہ مذہبی پولرائزیشن کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔جمعہ یعنی یکم جون کو تو انھوں نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی بدتر حکمرانی پر بھی ایک ٹوئٹ کو ری-ٹوئٹ کرتے ہوئے اپنی ناراضگی ظاہر کر دی۔ اس ٹوئٹ میں لکھا گیا ہے کہ اتر پردیش میں بدتر انتظامیہ کا بول بالا ہے اور صاف ستھری شبیہ والے افسروں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

اَب ظفر سریش والا رنگ بدلنے کو تیار؟

بہر حال، چونکہ اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ، مدھیہ پردیش میں شیو راج چوہان، مہاراشٹر میں دیویندر فڑنویس، راجستھان میں وسندھرا راجے سندھیا اور اسی طرح بی جے پی حکمراں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ دراصل وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں ہی اپنی ریاستوں میں مذہبی پولرائزیشن، اقلیتی طبقہ کو ہراساں کرنے اور دلتوں پر مظالم کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں، اس لیے ظفر سریش والا کا ٹوئٹ نریندر مودی کو آئینہ دکھانے والا قرار دیا جا رہا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ضمنی انتخابات کے نتائج نے مسلمانوں کی اہمیت کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ضمنی انتخابات کے نتائج 2019 کے عام انتخابات کے مدنظر اس لیے بھی سبق آموز ہیں کہ جب آپ متحد رہیں گے تو کھڑے رہیں گے اور منتشر ہو ں گے تو ناکام ہو جائیں گے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے مہاراشٹر میں متحد نہیں ہوئے تو شکست ملی اور اتر پردیش میں متحد رہے تو اپوزیشن فتحیاب ہوئی۔‘‘

اپنے ایک ٹوئٹ میں تو ظفر سریش والا نے جوکی ہاٹ اسمبلی سیٹ پر آر جے ڈی امیدوار کے فتحیاب ہونے پر تیجسوی یادو کو بھی مبارکباد پیش کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ضمنی انتخابات کے نتائج یہ بھی سبق دیتے ہیں کہ کسی بھی سیاسی پارٹی یا لیڈر کا مرثیہ نہیں لکھا جانا چاہیے، اور یہ بات لالو یادو جی اور ان کی پارٹی آر جے ڈی پر نافذ ہوتی ہے۔ ویل ڈَن تیجسوی یادو۔‘‘

31 مئی سے یکم جون کے درمیان ظفر سریش والا کے ذریعہ یکے بعد دیگرے کیے گئے ان ٹوئٹس سے سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث بھی شروع ہو گئی ہے اور سیاسی گلیاروں میں گہما گہمی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ مسلمانوں کابد ترین دشمن جو ابھی تک مودی حکومت کی ہر پالیسی کی تعریف کرتے نہیں تھکتا تھا اور ان کی حمایت میں ہمیشہ کھڑا نظر آتا تھا آج ان کے خلاف آوازیں کس طرح اٹھا رہا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا اب مودی کے لئے ان کی ضرورت ختم ہو گئی ہے اور وہ نئی سیاسی زمین تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ؟ لیکن جس شخص نے گجرات کے بے قصور مرنے والے مسلمانوں کے ساتھ وفا نہیں کی اور ان کے قاتلوں کی مدد کی، ان پر اب کون بھروسہ کر سکتا ہے ۔محسوس تو یہی ہو رہا ہے کہ انہوں نے گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔