اب مہاراشٹر میں جمہوریت کا قتل! ... نواب اختر

ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے جب ملک کے وزیراعظم نے ہزاروں کروڑ روپے گھپلے کے ملزم کے نام کے آگے ’جی‘ لگا کر نئے بنے نائب وزیراعلیٰ کو مبارکباد دی ہو۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

اقتدار کی حوس انسان کو کس سطح تک لے جاسکتی ہے اس کا تازہ ثبوت مہاراشٹر میں سامنے آیا ہے جہاں ایک طرف کانگریس اور این سی پی کے موقف کے آگے گھٹنے ٹیکنے اور فرقہ پرست سیاست کو خیرباد کہہ کر سیکولرزم کا ’کلمہ‘ پڑھنے کے لئے تیار شیوسینا کی طرف سے جمہوری طرز کی مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لئے گفت وشنید اپنے منطقی انجام تک پہنچنے والی تھی، وہیں دوسری طرف آئین اورجمہوریت کے محافظ کا ڈھنڈورا پیٹنے والی بی جے پی نے جبراً اقتدار ہتھیانے کے لئے ایسا پنجہ مارا کہ جمہوریت بری طرح زخمی ہوگئی، یا اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ بی جے پی نے اپنے سیاسی خونیں پنجے سے رات کے اندھیرے میں جمہوریت کا قتل کر دیا۔ حیرت اس وقت زیادہ ہوئی جب کرسی کے لئے کی گئی ’ڈاکہ زنی‘ پر ملک کے وزیراعظم نریندرمودی قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کو مبارکباد دیتے نظر آئے۔

حالانکہ اس بار’ہندوتوا‘ کی ارتھی جھولے میں رکھ کر سیاسی گلیاروں کے چکر لگانے اور حسب ضرورت اس ارتھی کوسر پر اٹھاکر ’راشٹرواد‘ کے بہانے سیاست کے ’سورگ‘ کا سفر کرنے میں ماہر بی جے پی کے’مراٹھا منصوبہ‘ کا کامیاب ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آرہا ہے۔ کیونکہ اس بار بی جے پی نے قانون وآئین کی انگلی پکڑ کر چلنے میں یقین رکھنے والی کانگریس، این سی پی کو ہی نہیں بلکہ ہندوتوا کا خمیر چاٹ کر پلی بڑھی اپنی سابق اتحادی شیوسینا کو بھی چیلنج کردیا ہے۔ یاد رہے کہ مہاراشٹر میں سالوں تک اپنی جگہ بنانے کی جدوجہد کرنے والی بی جے پی کو شیوسینا نے ہی سہارا دیا تھا اور ’جگاڑبازی‘ نے اسے مسند اقتدار تک پہنچایا تھا۔ یہ جگاڑ بازی تقریباً 30 سالوں تک چلتی رہی اور جس طرح ہر چیز کا خاتمہ یقینی ہے اسی طرح بی جے پی کی مبینہ وعدہ خلافی کے سبب گزشتہ ہفتے اس جگاڑ بازی کی موت ہوگئی۔

گزشتہ مہینے مہاراشٹر میں ہوئے اسمبلی انتخابات اور نتائج کے اعلان کے بعد صورتحال جس تیزی سے بدلی ہے اس سے ایسا لگا کہ کانگریس کی قیادت میں ملک کی سیاست کو ایک نیا موڑ دینے کا کام کیا جارہا ہے۔ یہ بھی کہا جانے لگا کہ مہاراشٹر کا تجربہ اگر کامیاب ہوتا ہے تو ملک میں سیاسی جماعتوں کی از سر نو صف بندی بھی ہوسکتی ہے۔ این ڈی اے میں شامل جماعتیں اپنے لئے نئے حلیف تلاش کرنے کی خود میں ہمت بھی پیدا کرسکتی ہیں۔ اس ساری صورتحال میں ایک بات طے ہے کہ بی جے پی کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جو اس کے لئے انتہائی غیر متوقع کہی جاسکتی ہے۔ مہاراشٹر میں بی جے پی کا ہندوتوا کارڈ اس لئے فیل ہوگیا کیونکہ اس کے سامنے شیوسینا اور این سی پی کا مراٹھا کارڈ بھاری پڑگیا اور کانگریس نے اسے تقویت پہنچائی۔ اس صورتحال سے بی جے پی عملاً بوکھلا گئی اور وہ این سی پی اور کانگریس کے ساتھ شیوسینا کو بھی تنقیدوں کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کر رہی ہے۔

بی جے پی کے لیڈر و مرکزی وزیر نتن گڈکری نے دو روز قبل کہا کہ شیوسینا۔ این سی پی اور کانگریس کا اتحاد موقع پرستانہ ہے اور اگر یہ جماعتیں مہاراشٹر میں حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو یہ حکومت 6 تا8 ماہ سے زیادہ چلنے والی نہیں ہے۔ حکومت کے استحکام پر اس کے قیام سے قبل اندیشے ظاہر کرنا بی جے پی کی سیاسی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہی کہا جاسکتا ہے تاہم اس اتحاد کو موقع پرستانہ قرار دینا یہ بی جے پی کی دوغلی پالیسی کہی جائے گی کیونکہ اس کے دوہرے معیارات ہیں۔ بی جے پی کو مہاراشٹر کے اتحاد پر تبصرہ کرنے سے قبل ہریانہ کے تعلق سے غور کرلینے کی ضرورت ہے جہاں جے جے پی اور بی جے پی نے ایک دوسرے کے خلاف انتہائی شدت سے انتخابی مہم چلائی تھی۔ الزامات و جوابی الزامات کا سلسلہ چل پڑا تھا۔ تاہم نتائج کے بعد جب بی جے پی کو تائید کی ضرورت تھی فوراً سے پیشتر جے جے پی کی تائید حاصل کرلی گئی اورنائب وزیراعلیٰ کا عہدہ دے کرحکومت قائم کرلی ۔اس طرح اگرہریانہ میں مخالفت میں انتخاب لڑنے والی پارٹیاں انتخابی نتائج کے بعد اتحاد کرتے ہوئے حکومت بناتی ہیں تو وہ اگر درست ہوسکتا ہے تو مہاراشٹر میں اس پر تنقید کرنے کا بی جے پی کو کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔

مہاراشٹر میں جو صورتحال پیدا ہوئی وہ بھی صرف بی جے پی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہی ہوئی ہے۔ بی جے پی کی جانب سے اپنے مخالفین کے بعد اب اپنی حلیف پارٹیوں کو بھی نیچا دکھانے کی حکمت عملی اور ان پر اجارہ داری چلانے کی پالیسی کی وجہ سے شیوسینا نے اپنے لئے علیحدہ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سیاسی پارٹیاں اگر اپنے فائدہ یا مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے اتحاد کرتی ہیں تو اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ موقع پرستی ہوتی ہے لیکن اس پر تنقید کرنے کا اس پارٹی کو کوئی حق نہیں ہوتا جو خود ایک سے زیادہ ریاستوں میں ایک سے زیادہ مواقع پر موقع پرستانہ اتحاد کرچکی ہے اور اسی موقع پرستی کے ذریعہ وہ ریاستوں میں حکومت بھی کر رہی ہے۔ اس کی مثالیں ہریانہ کے علاوہ کئی اور ریاستوں میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں جہاں بی جے پی چھوٹی پارٹی ہونے کے باوجود علاقائی پارٹیوں کو اپنے حلقہ اثر میں لے کر حکومت بنا چکی ہے۔ بعض ریاستوں میں تو اس کے ارکان اسمبلی کی تعداد دو ہندسے بھی نہیں ہیں لیکن وہ حکومت میں یا تو حصہ دار ہے یا پھر حکومت کی قیادت بھی کرتی نظر آر ہی ہے۔ یہ اتحاد بھی موقع پرستانہ ہے۔

جہاں تک مہاراشٹر کا سوال ہے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شیوسینا کو این سی پی اور کانگریس کی جو تائید مل رہی ہے وہ غیر روایتی ہی ہے۔ تاہم جس طرح سے بی جے پی نے شیوسینا کو دبانے اور خود کی بالادستی کو اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی اس کو شیوسینا نے قبول نہیں کیا اور این سی پی و کانگریس نے اس موقع کو غنیمت جان کر اقل ترین مشترکہ پروگرام کی بنیاد پر مخلوط حکومت تشکیل دینے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔ اس سے ریاست میں ایک عوامی منتخبہ حکومت قائم ہونے کا راستہ ہوگیا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ بی جے پی کو صدر راج کے ذریعہ اپنی من مانی کرنے کا موقع نہیں ملے گا جیسا کہ اس نے کشمیر میں کیا تھا۔ اب جبکہ ریاست میں ایک مخلوط حکومت کا قیام اپنے منطقی انجام کو پہنچنے ہی والا تھا کہ بی جے پی نے عوامی رائے کی توہین کرتے ہوئے ایسا داؤ چلا کہ دنیائے سیاست انگشت بدنداں رہ گئی۔

رات کے اندھیرے میں95000 کروڑ روپئے کے بدعنوانی کے ملزم اجیت پوار کو چچا (شردپوار) سے بغاوت کرکے گورنر صاحب کے دربار میں پیش کیا جاتا ہے، انہیں دویندر فڑنویس کے ساتھ حلف دلا دیا جاتا ہے۔ جس فڑنویس نے محکمہ آبپاشی میں70000 کروڑ کے گھپلے کو اٹھا کر اپنی سیاسی شناخت قائم کی، وہ اسی شخص کو نائب وزیراعلیٰ بنا دیتے ہیں۔ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے جب ملک کے وزیراعظم نے ہزاروں کروڑ کے گھپلے کے ملزم کے نام کے آگے’جی‘ لگا کر نائب وزیراعلیٰ بننے پرمبارکباد دی ہو۔ بدعنوانی کے خلاف انتخابات لڑ کر اقتدارمیں آئے نریندر مودی کروڑوں روپئے کے بدعنوانی کے ملزم کا خیرمقدم کر رہے ہیں، ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ مبارکباد دے رہے ہیں، مخصوص میڈیا اسے ماسٹر اسٹروک بتا رہا ہے۔ این سی پی کوفطرتاً بدعنوان پارٹی کہنے کے بعد ممبران اسمبلی کی ’ایمانداری خرید کر‘ سرکار بنانے کے فن میں ماہر لوگ ہی بتا سکتے ہیں کہ جب پوری پارٹی کو ہی فطرتاً بدعنوان کہا تھا تو اس کے ایک درجن ایم ایل اے کیسے ایماندار بن گئے۔