مظفرنگر: سنجیو بالیان نے چودھری اجیت سنگھ کی راہ آسان کر دی

ان عام انتخابات میں 2014 جیسی کوئی مودی ہوا نہیں ہے، لوگ بنیادی مسائل سے پریشان ہیں اور مودی کے رکن پارلیمنٹ اپنے حلقہ میں عوام کے دلوں میں جگہ بنانے میں بھی ناکام رہے ہیں۔

قومی آواز گرافکس / عمران خان
قومی آواز گرافکس / عمران خان
user

سید خرم رضا

ابھی مظفر نگر شہر میں داخل نہیں ہوئے تھے سوچا پہلے ہائی وے پر ایک ایک کپ چائے ہو جائے اس لئے فلائی اوور سے اترتے ہی ایک بھوجنالیہ پرگاڑی رکوالی اس کا نام ہے گووردھن بھوجنالیہ۔ اتر پردیش کے ہائی وے پر اتنے صاف ستھرے ڈھابے کم ہی ہوتے ہیں اس لئے یہاں رکنے میں اچھا لگا۔ چائے آرڈر کے ساتھ ڈھابہ مالک سے اس کے ڈھابہ کی تعریف بھی کر دی۔ ڈھابہ مالک نے بتایا کہ ابھی دو ماہ پہلے ہی کھولا ہے اور یہ سب اس کی ہی زمین ہے۔ ہماری تعریف سے وہ اتنا خوش ہوا کہ اس نے پھر اپنےخاندان کے بارے میں کچھ باتیں ہمارے ساتھ شیئر کیں۔ اس دوران ڈھابہ مالک کو یہ تاثر رہا کہ ہم چار لوگوں میں کوئی مسلمان نہیں ہے کیونکہ ہمارے ڈرائیور کا نام دنیش تھا، ویڈیو ایڈ یٹر روی راج اور ہمارے سینئر ایڈیٹر اتم سین گپتا تھے، گفتگو کے دوران ایسا اتفاق ہوا کہ ان تین لوگوں کے نام ہی کا ذکر ہوتا رہا۔ اس بات کا ذکر کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ آج کل لوگ جب بات کرتے ہیں تو اس بات کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ سامنے والے کا مذہب کیا ہے، سامنے والے کی ذات کیا ہے اور اس کا سیاسی جھکاؤ کس کی طرف ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ سچ نہیں بولتے بلکہ سامنے والے کو خوش رکھنے کے نام پر بے وقوف بنانے کو ہی سمجھداری سمجھتے ہیں۔

ڈھابہ مالک کا نام سبودھ بالیان تھا، اس کا لہجہ اس بیلٹ کے حساب سے کافی شائستہ تھا۔ باتوں باتوں میں عام انتخابات کی باتیں بھی شروع ہو گئیں، سبودھ کو بھی انتخابات کی باتیں کرنے میں مزہ آنے لگا۔ سبودھ نے بتایا کہ کل سے کچھ ایسا محسوس ہوا کہ زمین پر انتخابی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں۔ جب اس سے پوچھا کہ ان کو ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے تو سبودھ نے بتایا ’’یہاں کے ممبر پارلیمنٹ سنجیو بالیان میرے قریبی ہیں۔ ہم دونوں نے چھٹی جماعت تک ایک ہی ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کی ہے۔ میرے والد انگریزی کے ٹیچر تھے اور سنجیو میرا بہت قریبی دوست تھا۔ کل وہ میرے گھر آیا تھا اور تھوڑا وقت دینے کے لئے کہا۔ اس کے آنے سے تھوڑا محسوس ہوا کہ زمین پر انتخابی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں‘‘۔ سبودھ کی ان باتوں کی تصدیق اس علاقے میں دورہ کے دوران بھی ہوئی۔ اخبار، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر تو بہت دنوں سے انتخابی سرگرمی نظر آرہی تھی لیکن زمین پر ایسا بالکل محسوس نہیں ہو رہا تھا۔

سبودھ بالیان نے اپنے دوست سنجیو بالیان کو جو جواب دیا وہ کافی دلچسپ تھا انہوں نے سنجیو بالیان سے کہا ’’بھائی میں نے کبھی اپنے کسی کام کے لئے تجھ سے کچھ کہا نہیں اور ایک دو مرتبہ کسی کے لئے کہا بھی تو اس پر تو نے کچھ دھیان نہیں دیا، ویسے بھی چودھری اجیت سنگھ ہم چودھریوں کی عزت ہیں اس لئے اس مرتبہ تو چودھری صاحب کو ہی جتانا ہے‘‘۔ سبودھ کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ چودھری چرن سنگھ کے خاندان کی جاٹ برادری میں بہت عزت ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سنجیو بالیان کے کام کرنے کے طریقہ نے بھی ان کی عزت کو مزید بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

ہمارے انتخابی دورہ کا یہ پہلا پڑاؤ تھا، جس نے اشارہ تو دے دیا تھا کہ ان انتخابات میں 2014 جیسی کوئی مودی ہوا نہیں ہے۔ لوگ بنیادی مدوں سے پریشان ہیں اور مودی کے رکن پارلیمنٹ اپنے حلقہ میں عوام کے دلوں میں جگہ بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ شائد ان ارکان پارلیمنٹ کو یہ احساس تھا کہ مودی کے رہتے عوام کا خیال رکھنا اتنا اہم نہیں ہے جتنا مودی کی تعریف کرنا ہے۔ اب یہ تو23 مئی کو ہی پتہ لگے گا کہ عوام کو مودی کی تعریف پسند ہے یا انہیں اپنے مدے اور مسائل زیادہ عزیز ہیں۔

اگلی رپورٹ میں اگلے پڑاؤ کی بات کریں گے اور قومی آواز کے قارئین کو بتائیں گے کہ وہاں کے لوگ ان انتخابات کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 26 Mar 2019, 3:09 PM