نہیں شاہ جی، اتنا کافی نہیں ہے؟... سہیل انجم

امت شاہ نے جو کہا کہ این پی آر میں کوئی کاغذ دکھانے کی ضرورت نہیں، تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ شروع سے ہی کہا جا رہا تھا کہ این پی آر میں کوئی کاغذ نہیں مانگا جائے گا، صرف معلومات حاصل کی جائیں گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سہیل انجم

آج کل پارلیمنٹ میں دیا گیا وزیر داخلہ امت شاہ کا ایک بیان خوب چرچا میں ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ امت شاہ پیچھے ہٹ رہے ہیں تو کوئی ان کے بیان کا خیرمقدم کر رہا ہے۔ زیادہ تر لوگ ان کی تعریف کر رہے ہیں۔ لیکن راقم الحروف کو اس میں تعریف کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔ امت شاہ نے دہلی فسادات پر تقریر کرتے ہوئے این پی آر کا ذکر کیا اور کہا کہ کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ این پی آر میں کوئی کاغذ نہیں مانگا جائے گا۔

امت شاہ نے جو یہ کہا کہ این پی آر میں کوئی کاغذ دکھانے کی ضرورت نہیں ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ شروع سے ہی کہا جا رہا تھا کہ این پی آر میں کوئی کاغذ نہیں مانگا جائے گا۔ صرف معلومات حاصل کی جائیں گی، وہ بھی لازمی نہیں ہوں گی۔ کوئی چاہے تو بتائے اور چاہے تو نہ بتائے۔ اس لیے ان کی اس بات کا کوئی مطلب نہیں ہے کہ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور یہ کہ کوئی کاغذ نہیں مانگا جائے گا۔

ہاں انھوں نے یہ جو بات کہی کہ این پی آر میں کسی کے نام کے آگے D نہیں لکھا جائے گا یعنی کسی کو D Voter یا مشکوک ووٹر نہیں مانا جائے گا، یہ ضرور نئی بات ہے۔ اور اسی کی وجہ سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ امت شاہ نے ایک قدم پیچھے ہٹا لیا ہے۔ اخبارات اور یو ٹیوب چینلز یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک میں سی اے اے کے خلاف جو احتجاج چل رہا ہے اس سے گھبرا کر امت شاہ نے یہ بیان دیا ہے جو کہ ان کے پیچھے ہٹنے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

حالانکہ اتنا کہنا بھی کافی نہیں ہے۔ صرف D ووٹر نہ لکھے جانے سے اور یہ کہہ دینے سے کہ کاغذ نہیں مانگا جائے گا، لوگوں کے اندیشے ختم نہیں ہوں گے۔ اندیشے اس وقت ختم ہوں گے جب وہ تمام اضافی شقیں ہٹا لی جائیں گی جو نئے این پی آر میں شامل کر دی گئی ہیں۔ این پی آر پرانے فارمولے اور ضابطے کے مطابق کرائے جانے کا اعلان کیا جانا چاہیے۔ اس سے والدین کی تاریخ و جائے پیدائش کا کالم تو ہر حال میں ختم ہونا چاہیے۔ اکثریتی طبقے کے پاس اپنی سند پیدائش نہیں ہے تو وہ والدین کی کہاں سے لائے گا۔

ابھی جب دہلی اسمبلی میں ایک تجویز پیش کرکے دہلی میں این پی آر نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے معزز ارکان سے ہاتھ اٹھوا کر پوچھا کہ کس کس کے پاس حکومت کی جاری کردہ سند پیدائش یا جنم پتری ہے تو 70 میں سے 9 ارکان نے ہی ہاتھ اٹھائے۔ یعنی 61 ممبران کے پاس جنم پتری نہیں ہے۔ پوری دہلی کابینہ میں کسی کے پاس نہیں ہے۔

ایک آر ٹی آئی میں یہ واضح ہوا ہے کہ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ کے پاس اپنی شہریت ثابت کرنے کا کوئی کاغذ نہیں ہے۔ بہت سے لوگ خود وزیر اعظم مودی سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا ان کے پاس اپنی جنم پتری اور والدین کی جنم پتری ہے۔ لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آر ہا ہے۔ لہٰذا جو نئے کالم بنائے گئے ہیں موجودہ این پی آر سے ان کا خاتمہ ضروری ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے رام لیلا میدان میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ این آر سی پر کوئی چرچا ہی نہیں ہوئی ہے۔ لیکن اس سے قبل امت شاہ بار بار اعلان کر چکے تھے کہ سی اے اے کے بعد این آر سی آئے گا۔ اس کے علاوہ جب 2019 کے انتخابات کے بعد نئی حکومت بنی تو صدر نے اپنے خطبے میں کہا تھا کہ پورے ملک میں این آر سی کرایا جائے گا۔

حکومت نے کم از کم 9 مرتبہ کہا ہے کہ این پی آر این آر سی کا پہلا قدم ہے۔ وزارت داخلہ نے بھی اسے مانا ہے۔ اس لیے امت شاہ نے جو بیان دیا وہ کافی نہیں ہے۔ ان کو اعلان کرنا چاہیے تھا کہ این پی آر اور این آر سی دونوں نہیں ہوں گے۔ اور اگر این پی آر ہوگا تو پرانے فارمیٹ پر ہوگا۔ ملک میں جتنے بھی تعلیم یافتہ اور سنجیدہ لوگ ہیں وہ سب کہہ رہے ہیں ملک گیر این آر سی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ آئین میں یہ بات لکھی ہے کہ جو ہندوستان میں پیدا ہوا وہ یہاں کا شہری ہے۔ لہٰذا این آر سی کروا کر یہ پتا لگانا کہ کون یہاں کا شہری ہے کون نہیں ہے، عقلمندی نہیں ہے۔

لیکن حکومت این آر سی کرانے پر اڑی ہوئی ہے۔ اگر چہ وہ اب کھل کر نہیں کہہ رہی ہے۔ لیکن وہ یہ بھی نہیں کہہ رہی ہے کہ این آر سی نہیں ہوگا۔ اب وہ صرف یہ کہہ رہی ہے کہ ابھی این آر سی پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے اور ابھی اس کا مسودہ ہی نہیں آیا ہے تو اس پر ہنگامہ کیوں کیا جا رہا ہے۔ لیکن ابھی نہیں کا مطلب کبھی نہیں، نہیں ہوتا۔ این آر سی ہوگا اور اس کا مسودہ آئے گا۔ جب مسودہ آجائے گا تب کوئی کیا کر لے گا۔ تب تو ملک گیر این آر سی شروع ہی ہو جائے گا۔

اس لیے وزیر داخلہ امت شاہ کے اس بیان پر بہت زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ این پی آر میں کوئی کاغذ نہیں مانگا جائے گا اور کسی کے نام کے آگے D نہیں لکھا جائے گا۔ ہاں یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے خلاف پورے ملک میں جو احتجاج چل رہا ہے اس کی وجہ سے حکومت خاموش ہے۔ لیکن چونکہ یہ حکومت یہ دکھانا نہیں چاہتی کہ وہ ڈر گئی ہے یا اس نے اپنے قدم پیچھے ہٹا لیے ہیں یا اس نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا ہے اس لیے وہ کھل کو بولنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ لیکن بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک گیر مظاہروں نے تو اپنا اثر ضرور دکھایا ہے۔

next