طنزومزاح: حلوہ بناؤ... تقدیس نقوی

میر صاحب فرمانے لگے ’’بجٹ سے پہلے اس منظر کوعوام کو دکھانے کے پیچھے ضرور کوئی دانشمندانہ اقتصادی مصلحت رہی ہوگی کیونکہ حلوہ مانڈہ اچھی معاشی حالت کی علامت مانا جاتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تقدیس نقوی

ہمارے میرصاحب میٹھا بولنے میں تو یقین نہیں رکھتے مگرمیٹھا کھانا بہت پسند کرتے ہیں۔ کھانے کے معاملہ میں وہ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ والے جملہ پرعمل پیرا رہتے ہیں اس لئے سب کے ساتھ سب کا کھانا پسند کرتے ہیں جس کے سبب انھیں اپنے گھر سے زیادہ دوسروں کے یہاں بلائے یا بن بلائے کھانا بہت پسند ہے۔ کیونکہ انھیں میٹھے کھانوں میں حلوہ بہت پسند ہے اس لئے اس دن وہ ہمیں بہت زیادہ یاد آئے جس دن ہم نے ٹی وی پراپنے کچھ سیاسی لیڈران کوحلوہ کھاتے ہوئے دیکھا۔

ہوا یوں کہ کچھ دن قبل ہم نےٹی وی پراک زود اشتہا اورمنہ میں پانی لانے والی خبر دیکھی۔ نیوزمیں ہمارے ملک کی وزیر خزانہ جو ملک کی معیشیت کی اتنی بھاری بھرکم ذمہ داری سنبھالتے ہوئے بھی اک گرہستن خاتون نظر آرہی تھیں اپنے مصاحبین کو اپنے ہاتھ سے تیارکردہ حلوہ کھلاتے ہوئی دکھائی جا رہی تھیں۔ ممکن ہے یہ دیکھ کر کچھ لوگوں کی حیرت سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی ہوں مگر ہماری طرح ملک کے کروڑوں بھوکےعوام کا تو یہ منظر دیکھ کر منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ہوگا جس طرح حال ہی میں پیش کیے گئے قومی بجٹ کو دیکھ کر رہ گیا ہے۔

میر صاحب ہمارے یاد کرنے پر فوری دوڑے چلے آئے۔

اس خبر کے حوالے سے ہم نے میر صاحب سے مودبانہ سوال کیا ’’جناب والا ملک میں آج کل چل رہی اس فلک بوس مہنگائی کے دور میں جہاں غریب اناج کے ایک دانہ کو دیکھنے کے لئے ترس رہا ہے وہاں ان کے سامنے ذائقہ دار حلوہ دکھانے کا منظر کتنا باعث تسکین بھوک رہا ہوگا؟ کیا یہ غریب جنتا کے لئے بجٹ لانے سے قبل کوئی معنی خیز اشارہ تھا‘‘

میر صاحب فرمانے لگے ’’بجٹ سے پہلے اس منظر کوعوام کو دکھانے کے پیچھے ضرور کوئی دانشمندانہ اقتصادی مصلحت رہی ہوگی کیونکہ حلوہ مانڈہ اچھی معاشی حالت کی علامت مانا جاتا ہے۔ قومی بجٹ کا بھلا غریبوں سے کیا لینا دینا۔ مگر یہ بات مصدقہ ہے کہ اس سے بیرون ملک خصوصا ’انٹرنیشنل مونیٹیری فنڈ IMF ورلڈ بنک‘ یونایٹڈ نیشنز اور یوروپین یونین جو آج کل صرف ہمارے ملک کی بگڑتی ہوئی معیشیت کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے میں رات دن مصروف ہیں، کو تو یہ ہماری حکومت کی جانب سے منہ توڑجواب مل گیا ہوگا، دیکھیں جب ہماری وزیر اپنے مصاحبین کے ساتھ اتنا لذیذ حلوہ کھا رہی ہیں تو کیا وہ جنتا کو ایسے ہی بھوکے مرنے دینگی‘‘۔

میر صاحب اپنے موقف کی دلیل میں مزید فرمانے لگے ’’دراصل یہ بیرونی اقتصادی اور سیاسی ایجینسیاں ہمارے ملک کی روز افزوں معاشی ترقی سے جلتی ہیں اس لئے ایسے الٹے سیدھے اعداد و شمار ہماری قابل رشک معیشیت کے متعلق پوری دنیا کے سامنے لاتی رہتی ہیں۔ اب بھلا بتائیے جب ملک کی وزیر خزانہ نے پیش کیے گئے بجٹ میں ملک کے غریب عوام کو یہ اطمینان دلا دیا ہے کہ گرتی ہوئی جی ڈی پی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری سے ہرگز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، فی الحال حلوہ بناؤ۔ تو پھر یہ IMF کی کسی ماہر اقتصادیات کو کیوں ہماری گرتی ہوئی جی ڈی پی کی اتنی فکر لاحق ہو رہی ہے؟ ان عقل کے اندھوں کو کوئی سمجھائے کہ میاں یہ جی ڈی پی کیا کہیں بھاگی جارہی ہے، یا یہ مہنگائی ہمارے ملک میں پہلی بار آئی ہے جو اتنے بوکھلائے ہوئے ہو۔ ہم بجٹ میں دس پندرہ سال آگے کی باتیں کر رہے ہیں اور تم لوگ آج کے حالات کا رونا رو رہے ہو۔ جہاں اتنا صبر کیا ہے وہاں دس بیس سال اور کر لوگے تو تم مر نہیں جاؤ گے۔ یوں بھی ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری اپوزیشن کے ذریعہ کی جا رہی سازشوں کا نتیجہ ہے۔ اس سے ہماری حکومت کا کچھ لینا دیا نہیں ہے۔ حکومت پہلے مہنگائی اور بے روزگاری سے بھی اہم اور ارجنٹ مسائل جیسے سی اے اے اور این آر سی سے نپٹ لے جن کے بغیر ملک ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکتا پھر جی ڈی پی کو کنٹرول کرنا ہمارے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ بائیں ہاتھ ہم اس لئے نہیں کہہ رہے کیونکہ آج کل ہماری حکومت بائیں ہاتھ والوں سے بہت ناراض ہے‘‘۔

میر صاحب ہماری خاموشی کو رضامندی سمجھتے ہوئے اپنی بات کی وضاحت کرنے لگے ’’دوسرا پیغام وزیر خزانہ عوام کو یہ بھی دینا چاہتی ہوں گی کہ گزشتہ پانچ چھ برسوں کے دوران جب جب ہماری حکومت کی کارکردگی کے خلاف ان بھوکے ننگے عوام نے واویلا مچائی ہے ہم نے انہیں کھانے، پینے کی اشیاء کا لالچ دے کر ہی خاموش کردیا ہے۔ کبھی چائے، کبھی پکوڑے اور اب حلوہ کے ذریعہ ان کی بھوک کا مداوہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ بھوک سے تڑپتے لوگوں کا تو ان مزیدار کھانوں کا ذکر سن کر ہی کافی پیٹ بھر جاتا ہوگا۔ وہ سیدھی سادی عوام جو چند پرکشش نعروں اور جملوں کی لولی پاپ سے بہل جاتی ہو وہ بھلا وزیر خزانہ کے حلوہ دکھانے سے نہ بہلے گی۔ ہماری حکومت بھوک جیسے پیچیدہ مسئلہ کو سستے اور ٹکاؤ حل دینے میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے‘‘۔

میر صاحب کی غذائیات سے بھرپور تقریر سن کر ہمیں بھی شدید بھوک لگنے لگی۔ گفتگو کو تمام کرنے کی خاطر ہم نے میر صاحب سے آخری سوال کیا ’’جیسا کہ پیش ہوئے بجٹ سے صاف نظر آرہا ہے مہنگائی اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل آپ سے حل ہونا مشکل ہیں۔ تو آپ بھی کیا اک دن اس بابا کی طرح ڈنڈا کمنڈل اٹھاکر چلتے بنیں گے جسے اک ملک والوں نے اپنا راجہ بنالیا تھا‘‘۔

’’آپ کس راجہ کی بات کررہے ہیں‘‘ میر صاحب حیرت سے پوچھنے لگے۔

’’جناب اک بار اک راجہ کی کوتاہیوں کے سبب اس کا ملک تباہی کے دہانے پر آگیا۔ پرجا نے تنگ آکر اپنے نااہل راجہ کو معزول کر دیا۔ اس کے بعد کئی راجہ بدلے گئے مگر ملک کے حالات کسی طرح نہ سدھرے۔ آخرکار سب نے مل کر یہ طے کیا کہ اک فقیر کو راجہ بنا دیا جائے، کیونکہ ملک سے اس کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہ ہوگا۔ اس کا نہ کوئی خاندان ہوگا اور نہ کوئی وارث جس کے لئے وہ کچھ لالچ کرے گا۔ اک فقیر تلاش کر کے اسے راجہ بنادیا گیا۔ پرجا نے نئے راجہ سے کہا ’’مہاراج اپنا پہلا شاہی فرمان جاری کیجیے‘‘

فقیر نے تخت شاہی پر کروٹ لیتے ہوئے کہا ’’حلوہ بناؤ‘‘

پرجا نے تعمیل کی۔ نئے راجہ سے پھر گزارش کی گئی: ’’حضور عوام بھوکوں مر رہی ہے کیا حکم ہے؟‘‘

فقیر نے حکم دیا ’’حلوہ بناؤ‘‘

تعمیل حکم کردی گئی۔ کچھ دن بعد ساری عوام گھبرائی ہوئی راجہ کے پاس آئی اور گڑ گڑا کر کہا ’’حضور پڑوسی ملک نے ہمارے ملک پر حملہ کردیا ہے، کیا حکم ہے؟‘‘

فقیر راجہ نے پھر وہی جواب دیا ’’حلوہ بناؤ‘‘

اگلے دن ساری جنتا شاہی محل میں گھس آئی اورکہا ’’حضور اب تو کچھ تدبیر کیجیے، دشمن شاہی قلعہ میں داخل ہو رہا ہے‘‘

فقیر راجہ بڑے اطمینان کے ساتھ آٹھا اور اپنے مصاحب سے کہا ’’لاؤ بھئی ہمارا ڈنڈا اور کمنڈل ہم تو چلے‘‘

میر صاحب ہماری کہانی سن کر پیر پٹختے ہوئے باہر چلے گئے، معلوم نہیں انھیں فقیر برا لگا یا وہ حلوہ جس کا پورے ملک کو نئے بجٹ کے بعد انتظار ہے۔