ندائے حق: کب تک خاموش رہے گی ہماری دینی و سیاسی قیادت... اسد مرزا

’’ملک کے موجودہ سیاسی ماحول میں ہمارے دینی پیشوا و اکابرین ، سیاسی رہنماؤں کی بہ نسبت زیادہ فعال کردار ادا کرسکتے ہیں،کیونکہ آج بھی 98 فی صد مسلمان اپنی دینی قیادت پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔‘‘

دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقدہ سیمینار کا منظر / قومی آواز / وپن
دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقدہ سیمینار کا منظر / قومی آواز / وپن
user

اسد مرزا

ہندوستان بھر میں مختلف مسلم لیڈروں اور تنظیموں کی جانب سے حالیہ عرصے میں چند کوششیں اور سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔ ان سب کا پس منظر ملک کے موجودہ سیاسی حالات اور مسلمانوں کے سیاسی اور دینی حالات سے کس طرح نبرد آزما ہوا جائے اس پر کوئی حکمت عملی بنانے کے بجائے، یہ رہنما اور تنظیمیں مسلمانوں کو مختلف فرقوں اور گروہوں میں مزید تقسیم کرنے پر کام کرتے ہوئے نظر آئے۔

ذاتی بیانات اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی خبروں پر مبنی رپورٹس کے مطابق، ملک بھر کے ہندوستانی مسلمان ملک میں اپنے اور اپنی آنے والی نسل کے مستقبل کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند ہیں۔ مجموعی طور پر آج ہندوستانی مسلمان ایک محاصراتی ذہنیت کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آگے کیسے بڑھا جائے۔ اس ذہنی تناؤ کا ایک مثبت نتیجہ یہ ہے کہ اب عام ہندوستانی مسلمان سڑکوں پر نکل کر اپنے حقوق مانگنے اور کسی قیادت کی عدم موجودگی میں حکومتِ وقت کے خلاف کھڑے ہوتے نظر آرہے ہیں۔


عام ہندوستانی مسلمانوں میں یہ تبدیلی 2019 میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) کو حتمی شکل دینے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ دہلی کے شاہین باغ سے شروع ہونے والا احتجاج جلد ہی کئی دوسرے شہروں میں بھی پھیل گئے اور ان میں سے زیادہ تر مظاہروں کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ ان مظاہروں میں مسلم خواتین سب سے آگے نظر آئیں اور ہمارے نام نہاد سیاسی اور دینی رہنما دور دور تک سڑکوں پر عوام کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آئے، بلکہ وہ صرف اپنے دفتروں میں بیٹھے ہوئے اپنی کوششوں کے بارے میں بیانات جاری کرتے رہے۔

ابھی حال ہی میں ہندوستان کی بعض ریاستوں میں بلڈوزر کی سیاست شروع ہونے کے بعد کئی شہروں میں مسلمان ایک مرتبہ پھر حکومتِ وقت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے نظر آئے۔ تاہم، ایک متضاد حقیقت، جو ان پیش رفت سے ابھر کر سامنے آئی ہے، وہ یہ ہے کہ آج ہمارے پاس کوئی بھی ایسا دینی یا سیاسی مسلم رہنما نہیں ہے جس کی ایک آواز پر ملک بھر کے مسلمان لبیک کہہ سکیں، کیوں کہ آج جو لوگ ہماری قیادت کرنے کا دم بھرتے ہیں، وہ ذہنی اور عملی دونوں طور پر پستہ قد ہیں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ اس سے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ 1947 اور خصوصاً 1967 کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کو ان کے اپنے لیڈروں مذہبی اور سیاسی دونوں نے ہی دھوکہ دیا ہے۔


حالیہ مسلم کاوشیں

گزشتہ ہفتہ ایسی ہی ایک کانفرنس حیدرآباد، تلنگانہ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے مرکزی منتظمین اور مقررین مسلم مخالف بیانیے اور کارروائیوں کا محاسبہ کرنے کے بجائے اور اس سے نپٹنے کے لیے کوئی مربوط اور عملی منصوبہ پیش کرنے کے بجائے مسلم قوم کے درمیان مزید تقسیم پیدا کرنے کے لیے زیادہ پرعزم نظر آئے۔ رپورٹوں کے مطابق کانفرنس کے زیادہ تر مقررین کا مقصد مختلف بین الاقوامی تنظیموں جیسے اخوان المسلمین، القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس کو ہندوستانی مسلمانوں کی موجودہ حالت زار کے لیے مورد الزام ٹھہرانا تھا، جو کہ بہت غیر مناسب اور غیر فطری نظر آتا ہے۔

میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ علمی شخصیتیں بین الاقوامی تنظیموں اور ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان کوئی بھی تعلق یا جڑاؤ کس بنیاد پر ظاہر کرسکتی ہیں۔ جب کہ ان تنظیموں کے ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کا کوئی بھی بظاہر تعلق جوڑنا ہندوستانی مسلمانوں کو مزید غیر محفوظ بنانا اور دیگر کو تنقید کا نشانہ بنانے کا سبب بن سکتا ہے۔ درحقیقت ہندوستانی مسلمانوں کو ان تنظیموں سے ہمدردی تو ہو سکتی ہے لیکن وہ کبھی عملی طور پر ان سے وابستہ نہیں رہے ہیں اور نہ ہی رہیں گے۔ ابھی تک کوئی بھی شواہد اور ثبوتوں پر مبنی مطالعہ یا رپورٹ ان دونوں کو جوڑنے میں کامیاب نظر نہیں آئی ہے۔ چنانچہ مسلم کاز کی خدمت کے نام پر ان رہنماؤں کی جانب سے اس خیال کو منظر عام پر لانا بھی ہندوستانی مسلمانوں کو مزید حملوں کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔


اس کانفرنس میں ایک رہنما تو اس حد تک چلے گئے کہ انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی انھیں اسلام کے صحیح طریقہ کار کے مطابق حکمرانوں اور حکومتِ وقت سے جڑنا چاہیے اور انہیں حکومت کے ساتھ اختلافات اور مظاہروں کے بجائے انہیں اقتدار سے ہٹانے کی نہیں بلکہ ان کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنے کی تلقین کی۔ مجھے امید ہے کہ قارئین پر اس بیان کی عدم مطابقت بہت حد تک ظاہر ہوسکتی ہے۔ ایک اور مقرر نے یوسف قرضاوی، حسن البنا، سید قطب اور ابوالاعلیٰ مودودی جیسے اسلام پسند مبلغین کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے خوارجی دہشت گردوں کی خصوصیات اور نمونوں کے بارے میں بات کی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک ہندوستان میں اس طریقے کی سوچ کا مظاہرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

اب آتے ہیں ان میں سے ایک اور نام نہاد ’مسلم کانفرنس‘ کی طرف، جو 12 مئی کو ممبئی میں منعقد ہوئی اور تقریباً 35 مسلم مذہبی، سماجی اور سیاسی رہنماؤں نے اس سے خطاب کیا۔ دن بھر جاری رہنے والی کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے ایک بیان جاری کیا، جس کا ایک نکتہ یہ تھا: ''مسلم کمیونٹی کی قیادت کا اجلاس فاشسٹ طاقتوں کے مذموم عزائم کے خلاف مزاحمت کرنے اور بڑے پیمانے پر سازشیں کروانے کے ان کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے مقامی مسلم رہنماؤں کی ہمت کو سراہتا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف تشدد یہ دیکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کا اپنی جان و مال کے دفاع کے لیے خود کو منظم کرنا ایک مثبت علامت ہے…‘‘ یعنی کہ درحقیقت یہ رہنما اپنی جانب سے کوئی بھی پیش رفت یا حکمت عملی دکھانے کے بجائے عام ہندوستانی مسلمان کو سڑکوں پر اترنے اور مزاحمتی تحریکیں شروع کرنے کی تلقین کرتے نظر آئے۔ یعنی کہ وہ خود اپنا کام کرنے میں نااہل ہونے کے ساتھ ساتھ عام مسلمان کو اور زیادہ مصیبتوں میں گھرنے کے لیے اکساتے نظر آئے اور احتجاجی سیاست کی طرف راغب کرتے ہوئے نظر آئے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دو اور کل ہند مسلم کانفرنسیں20-21 مئی کو دہلی میں منعقد ہوئی، جس میں حسب توقع کوئی بھی جامع منصوبہ بندی یا حکمت عملی کی بابت کوئی بات سامنے نہیں آئی بلکہ دوسرے دن کا اجلاس تو بند کمرے میں ہوا اور بعد میں منتظمین نے دیگر سیکولر جماعتوں کے ساتھ مل کر مسلم مسائل حل کرنے کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کی، جو کہ موجودہ ماحول میں بالکل بے سود اور بے معنی بات لگتی ہے۔


چوتھی کانفرنس 29مئی کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس حد تک کوئی عملی اور بامعنیٰ بات کہنے میں کامیاب ہوتی نظر آتی ہیں یا وہ بھی دیگر کانفرنسوں کی طرح صرف اپنے بیانات جاری کرنے، اپنے لیڈران کے فوٹو شائع کروانے اور مختلف ٹی وی چینلز پر اپنا چہرہ دکھانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ میں نے ماضی میں بھی کئی بار لکھا ہے اور مختلف میٹنگوں میں متعدد مرتبہ کہا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے خلاف کسی بھی مہم کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جذباتی اور فوری رد عمل نہیں، بلکہ ایک فعال حکمت عملی کے تحت اپنا ردِ عمل اور موقف ظاہر کرنا ہوگا۔ ایسے نظام کی تعمیر اور انتظام کرنے کے لیے، جو حملہ آوروں کی منصوبہ بندی پر نظر رکھے اور جوابی حکمت عملی بنائے، ملک کے آئینی فریم ورک اور عدلیہ کے نظام کے تحت۔ اس کے لیے اپنے مخالفین کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں نگرانی، تحقیق اور میڈیا ٹیموں کو قائم کرنا ہوگا، ریاستی اور قومی سطحوں پر جو کہ کسی بھی سیاسی اور دینی مسائل پر ہمارا موقف بااثر اور با وزن طریقے سے دنیا کے سامنے لاسکے۔

لیکن افسوس کہ ہمارا کوئی بھی لیڈر ایسا رویہ اختیار کرنے کو نظر نہیں آتا اور سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ اگر ہندوستانی مسلمان ایسی حکمت عملی اپنانے پر راضی ہو بھی جائیں تو اس کی قیادت نام نہاد مذہبی رہنماؤں کو ہی کرنی پڑے گی جو اپنے مذہبی فرقہ وارانہ اختلافات میں الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جبکہ انھیں ایک مسلم اُمہ کے طور پر عمل اور برتاؤ کرتے ہوئے نظرآنا چاہیے، جیسا کہ دوسرے آپ کو دیکھتے ہیں، نہ کہ دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث وغیرہ کے طور پر۔


ماضی کے تجربات کو دیکھیں تو یہ مطالبہ کوئی زیادہ امید افزا نہیں نظر آتا اور نہ ہی ہمارے دینی و سیاسی پیشوا ایسا کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ درحقیقت حیدرآباد اور ممبئی کی کانفرنسوں میں جو کچھ ہوا، اس کے بجائے، وہ مختلف مذہبی فرقوں کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کرنے اور ایک دوسرے پر اپنی برتری کا دعویٰ کرنے کے لیے زیادہ سرگرم نظر آتے ہیں۔ انہی سب کی بنیاد پر آج ہندوستان کا مسلمان خوف اور محاصراتی سوچ کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے، کیونکہ اس کے دینی اور سیاسی دونوں رہنماؤں نے اس کو بڑی حد تک دھوکا دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔