نیا بھارت، نئے خواب اور نئی حقیقت... اعظم شہاب

مودی جی کے نئے بھارت میں مسلمان ہونے کے شبہ میں اب بزرگوں کو بھی پیٹ پیٹ کر مار ڈالا جا رہا ہے اور عدالتیں فوارے اور شیولنگ میں فرق تک نہیں کر پا رہی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی / یو این آئی
وزیر اعظم نریندر مودی / یو این آئی
user

اعظم شہاب

دوماہ قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ’من کی بات‘ میں کہا کہ ’’نیا بھارت صرف بڑے خواب دیکھتا ہی نہیں بلکہ اپنے مقصد تک پہنچنے کی ہمت بھی دکھاتا ہے‘‘۔ یہ خواب کون سا ہے اور اس کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی خاطر کیسے ہمت دکھائی جاتی ہے اس کا مظاہرہ پچھلے دنوں مدھیہ پردیش میں ہوا جہاں ڈبل انجن سرکار ہے۔ مدھیہ پردیش کے رتلام ضلع کی سب سے بزرگ سرپنچ پستا بائی چتّر کے بڑے بیٹے بھنور لال جین کو مسلمان ہونے کے شبہ میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ایک 60 سالہ دماغی طور بزرگ شخص کو بی جے پی کے لیڈر نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔

سرپنچ کا خاندان 15 مئی کو بھیروجی کی پوجا کرنے چتوڑ گڑھ گیا تھا، 16 مئی کو پوجا کے بعد بھنور لال لاپتہ ہو گئے۔ جمعرات کو ان کی لاش مناسا میں پولیس تھانے سے نصف کلومیٹر دور رامپورہ روڈ پر ملی اور اس کے بعد بھنور لال کو بی جے پی لیڈر دنیش کشواہا کے ذریعہ پیٹنے کی ویڈیو سامنے آگئی۔ اس ویڈیو میں بھنور لال اپنا نام محمد بتاتا ہے اس کے باوجود دنیش بار بار آدھار کارڈ دکھانے پر اصرار کرتے ہوئے پیٹتا ہے۔ بھنور لال اگر اپنا اصلی نام بتاتا اور دنیش اس کو محمد کہہ کر آدھار مانگتا تب تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ بھنورلال کو مسلمان سمجھ کر مار دیا گیا لیکن وہ تو خود اپنے کو محمد ہونے کا اعتراف کر رہا ہے اس کے باوجود آدھار کارڈ مانگنے کا کیا مطلب؟ اس سوال کا جواب تلاش کیا جانا چاہیے۔


پولیس نے مناسا (رتلام) کے دنیش کشواہا پر ایف آئی آر درج کر کے اسے گرفتار تو کر لیا لیکن اسے بچانے کی خاطر یہ کہا جا رہا ہے کہ ممکن ہے بھنور لال اگلے دن تک بھوکا رہنے کے سبب مرگیا ہو اور چونکہ مارنے والا مودی جی کے نئے بھارت میں بی جے پی کا رہنما ہے اس لیے بعید نہیں کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ موت کی وجہ بھوک بتا دی جائے، تاکہ پولیس کو دنیش کشواہا کو رہا کرنے میں آسانی ہو جائے اور جو عدالت فوارے اور شیولنگ میں فرق نہیں کرسکتی وہ دنیش کو آزاد کر دے۔ اس کے بعد بی جے پی والے گاجے باجے کے ساتھ اس کے استقبال کے لیے پہنچ جائیں۔ اس کے گلے میں ہار ڈال کر فخریہ تصویریں کھنچوائیں اور سوشل میڈیا پر شیئر کریں، کیونکہ نیو انڈیا میں یہی ہوتا ہے۔ جھارکھنڈ سے لے کر ہریانہ تک زعفرانی بھیڑیوں کی اسی طرح عزت افزائی کی جاتی ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اگر اپنے گھر پر حملہ کرنے والوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تو بھنور لال کے پسماندگان کس کھیت کی مولی ہیں۔ دنیش کشواہا چونکہ بی جے پی یوتھ وِنگ میں عہدہ دار رہا ہے اور اس کی بیوی مناسا میونسپل کارپوریشن میں وارڈ نمبر 3 سے بی جے پی کی کونسلر رہی ہے۔ اس لیے وزیر داخلہ نروتم مشرا مہلوک کے اہل خانہ سے جھوٹ بول کر لوگوں کا غصہ کم کر رہے ہیں جب کہ بھنورلال کے بھائی راجیش چتّر نے اس کی تردید کر دی ہے۔

بھنورلال کے بھتیجے وکاس وہورا کے مطابق وہ بچپن سے ہی ذہنی پریشانی کا شکار تھے لیکن کوئی دنیش کشواہا کے بارے میں یہ نہیں بتاتا کہ اس کا دماغ کس نے خراب کیا تھا؟ یہ دراصل مذہب کی شراب ہے جس کو پی کر انسان جانور بن جاتا ہے۔ وہ اپنے باپ کی عمر کے کمزور و لاغر آدمی پر طمانچے برساتا ہے۔ اس کی ویڈیو بنوا کر تشہیر کرواتا ہے اس لیے کہ اسے یقین ہے اس حرکت پر ’سردار خوش ہوگا شاباشی دے گا‘۔ مدھیہ پردیش میں بہت جلد صوبائی انتخاب ہونے والے ہیں بعید نہیں کہ اس طرح کی ہمت دکھانے پر اس کو نیمچ سے پارٹی ٹکٹ مل جائے اور اندھ بھگت اس کی دلیری سے خوش ہوکر کامیابی سے نواز دیں۔ جس ریاست میں کمل تھام کر پرگیہ ٹھاکر گاندھی کے قاتل گوڈسے کی تعریف کرکے انتخاب جیت سکتی ہیں وہاں پر بھنور لال کو قتل کرنے والے دنیش کی کامیابی پر تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ اس نئے انڈیا میں مودی ہے تو کچھ بھی ممکن ہے۔


نیمچ پولیس کی جانب سے جاری کردہ لاش کی تصویر کو دیکھنے کے بعد ان کی لاش کو نیمچ سے رتلام لاگیا اور جب شمشان گھاٹ میں آخری رسومات چل رہی تھیں تو اس وقت مار پیٹ کا ویڈیو سامنے آیا۔ ان لوگوں نے نیمچ جاکر مقامی پولیس اسٹیشن کو ویڈیو دکھایا تو انہوں نے پہلے کچھ نہیں کیا۔ ظاہر ہے بی جے پی رہنما اگر قاتل بھی ہو تو اس کے خلاف کارروائی کیونکر ممکن ہے؟ پھر گاؤں سے مزید لوگ پہنچے اور پولیس پر دباؤ ڈالا، تب جاکر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ سوشل میڈیا سے دباؤ بڑھا تو بادلِ نخواستہ دنیش کو گرفتار تو کرلیا گیا لیکن اب بھنورلال کے اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ یہ پتہ لگاکر کہ دنیش کے علاوہ اور جو لوگ بھی انھیں مارنے میں شامل تھے انہیں بھی گرفتار کیا جائے۔ اس صورتحال میں مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے لیڈر جیتو پٹواری نے بجا طور پر سوال کیا ہے کہ ’’منسا (نیمچ) قتل۔ بھنور لال جین بعد میں مردہ پائے گئے۔ قاتل دنیش ہے، جو بی جے پی کے سابق کونسلر کا شوہر ہے۔ نریندر مودی، شیوراج سنگھ چوہان، پہلے دلت، پھر مسلم، آدیواسی (قبائلی) اور اب جین! اس زہر، جان لیوا نفرت کی بھٹی کو بی جے پی نے جلایا ہے۔ وزیر داخلہ کچھ بھی کہیں گے؟‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔