شریف پرپاکستان چھوڑنے کا دباؤ

Getty Images
Getty Images

مزمل سہروردی

لاہور: پاکستان میں اقتدار کے بعد جلا وطنی بھی ایک روا یت ہے۔ اس کو کوئی معیوب بات نہیں سمجھا جاتا۔ صرف ذوالفقار علی بھٹو نے جلا وطنی کی بجائے پھانسی کو ترجیح دی تھی۔ اس کے بعد ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے جب بھی حالات ناساز ہوئے جلا وطنی کو ہی ترجیح دی۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف بھی اس وقت جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ خود میاں نواز شریف بھی اس سے پہلے سعودی عرب میں ایک لمبی جلاو طنی کاٹ چکے ہیں۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس بار نواز شریف جلا وطنی کے لئے مان نہیں رہے ہیں۔

نواز شریف پر ان کی پارٹی اور خاندان کی جانب سے بھی دباؤہے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور ملک سے باہر چلے جائیں۔ ان کے دونوں بیٹے اور بیگم اس وقت پہلے ہی ملک سے باہر ہیں۔ صرف وہ اور ان کی بیٹی ملک میں ہیں۔ نواز شریف کے چھوٹے بھائی جو گزشتہ دس سال سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے مضبوط وزیر اعلیٰ ہیں ۔ وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان کے بڑے بھائی سیاسی جماعت کی قیادت اور سیاست ان کے حوالہ کر کے ملک سے چلے جائیں۔

پیرکی صبح روایت کے بر عکس نواز شریف دو دفعہ اپنے چھوٹے بھائی کے گھر گئے اور کئی گھنٹے رہے۔ دونوں بھائیوں میں چھے دن سے ایک ڈیڈ لاک تھا۔کئی دہائیوں کی روایت تو یہی تھی کہ چھوٹا بھائی ہمیشہ بڑے بھائی کے گھر جاتا تھا۔ اکثر اتوار کو نواز شریف لاہور آتے دونوں بھائی دوپہر کا کھانا اکٹھے کھاتے تھے۔ ان کی والدہ بھی اس موقع پر موجودہوتی تھیں۔ لیکن یہ اتنے سالوں میں پہلی اتوار تھی جب شہباز شریف ناراضگی کی وجہ سے نواز شریف کے گھر دوپہر کے کھانے کے لئے نہیں گئے ۔ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے دونوں مل نہیں رہے تھے۔ اس ڈیڈ لاک کو توڑتے ہوئے نواز شریف پیر کو دو دفعہ شہباز شریف کے گھر گئے۔ دو دفعہ جانا یہ ظاہر کر رہا تھا کہ اختلافات شدید تر تھے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی بھی اختلافات ختم ہوتے نظر نہیں آرہے۔

سوال یہ ہے کہ شہباز شریف کیا چاہتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ فوجی اسٹبلشمنٹ سے لڑائی کے بعد نواز شریف پیچھے ہٹ جائیں اور باقی جماعت کو حکومت کرنے دیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی جماعت اس وقت بھی مرکزی حکومت میں ہے۔ پنجاب میں حکومت ہے۔ بلوچستان میں حکومت ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی حکومت ہے۔ آزاد کشمیر میں بھی حکومت ہے۔ پانچ حکومتوں کو صرف نواز شریف کی وجہ سے قربان نہیں کیا جا سکتا ہے۔آپ نظام کو چلنے دیں۔ آپ کیوں سب کی قربانی مانگ رہے ہیں۔ اگر اسٹبلشمنٹ سے لڑیں گے تو یہ حکومتیں دوبارہ نہیں ملیں گی۔ پانچ حکومتیں ہوتے ہوئےبھی آپ کو احتساب اداراہ نیب گرفتار کر لے گا اور کوئی کچھ نہیں کر سکے گا۔ ساری بازی پلٹ جائے گی۔ دوسری طرف نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ میری وجہ سے ہی ملا ہے۔ اور میں ہی مائنس ہو جاؤں یہ کیسا انصاف ہے۔پھر یہ سب کچھ میرے کس کام کا۔

نواز شریف اور شہباز شریف کے اختلافات منظر عام پر تب آئے جب نواز شریف اور ان کے قریبی ساتھیوں نے اسٹبلشمنٹ کے خلاف بیان بازی شروع کی تا کہ اسٹبلشمنٹ کے خلاف ایک ماحول بنایا جا سکے۔ لیکن شہباز شریف نے اس موقع پر خود کو الگ کرتے ہوئے بیان داغ دیا کہ قومی اداروں کے خلاف بیان بازی بند کی جائے۔ قومی اداروں کے خلاف بیانات ملک کے مفاد میں نہیں ہیں۔ اس بیان کے بعد دونوں بھائیوں میں ڈیڈ لاک ہو گیا۔ جس کو توڑنے کے لئے نواز شریف اپنے بھائی کو منا رہے ہیں۔

شہباز شریف کی بغاوت نواز شریف کے لئے زہر قاتل ہو سکتی ہے۔ وہ جماعت میں بھی بہت مقبول ہیں۔ دس سال سے پنجاب کے حاکم ہیں۔ اس لئے نواز شریف ان کو نکالنے کے بھی متحمل نہیں ہو سکتے۔ وہ شہباز شریف کے پہلے بیان کے بعد ہی شہباز شریف کو پارٹی کی صدارت دینے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔ لیکن شہباز شریف کی واحد شرط ہے کہ نواز شریف ملک سے چلے جائیں۔ تا کہ حالات کو کنٹرول کیا جا سکے۔ جس کے لئے نواز شریف نے اپنے بھائی سے وقت مانگا ہے کہ وہ سوچ کر فیصلہ کریں گے۔ لیکن نواز شریف کے پاس بھی وقت کم ہے۔ انہیں اگر ملک سے باہر جانا ہے تو اگلے چند دن میں جانا ہو گا ورنہ دیر ہو جائے گی اور پھر ان کا باہر جانا بھی ممکن نہیں رہے گا۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف کو شریف خاندان کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ اور خاندان شہباز شریف کے ساتھ ہے۔

Published: 25 Aug 2017, 10:23 AM