اہنکار سے ’دیش ہت‘ بڑا ہے پردھان سیوک جی!... اعظم شہاب

کسانوں کے اس احتجاج اور حکومت کے اس اہنکار کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن ایک بات ضرور ہے کہ اگر کسانوں کے مطالبات تسلیم نہیں ہوئے تو اس کے نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں

نریندر مودی، تصویر یو این آئی
نریندر مودی، تصویر یو این آئی
user

اعظم شہاب

یومِ جمہوریہ کے موقع پر ہماری مرکزی حکومت نے برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کو مہمانِ خصوصی بنانے کا فیصلہ کیا تھا، مگر شاید مشیت کو ہماری غلامانہ ذہنیت کی پردہ پوشی مقصود تھی کہ کورونا کی وجہ سے موصوف کی تشریف آوری منسوخ ہوگئی۔ جبکہ کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ اس دورے کی منسوخی کا اصل سبب یومِ جمہوریہ کے موقع پر راجدھانی میں کسانوں کا ٹریکٹر ریلی کے انعقاد کا فیصلہ تھا جس کی بنیاد پر برطانیہ کی سیکوریٹی ایجنسیوں کو یہ دورہ منسوخ کرانا پڑا۔ یہ بات اس لیے بھی قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کیونکہ برطانیہ میں کورونا کی دوسری لہر کی آمد نومبر میں ہی ہوگئی تھی اور وزیراعظم جانسن کے دورہ ہند کا اعلان اس کے بعد ہوا تھا۔ خیر! اصل سبب جو بھی ہو مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کسانوں کی جانب سے ٹریکٹر ریلی کے انعقاد کے اعلان نے پوری دنیا کی توجہ مرکوز کرلی ہے اور ایسے میں کسی ایسے ملک کے سربراہ کی آمد ہماری خفت میں مزید اضافے کا سبب بنتی جو صدیوں تک ہم پر قابض رہا ہو۔

مگر شاید ہماری مرکزی حکومت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ گزشتہ دو ماہ سے دہلی کی سرحدوں پر خون کو منجمد کر دینے والی سردی میں کسان کھلے آسمان تلے حکومت سے یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ان قوانین کو منسوخ کردے گی جو انہیں تباہ کر دینے والے اور انہیں صنعتکاروں کا غلام بنا دینے والے ہیں۔ ہماری مرکزی حکومت کو اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ روزآنہ کے اوسط سے یومیہ ایک کسان اپنی جان گنوا رہا ہے۔ اسے اس کی بھی کوئی فکر نہیں ہے کہ کسانوں کا یہ احتجاج پورے ملک میں شروع ہوچکا ہے۔ البتہ اسے اگر فکر ہے تو بنگال اور آسام کی ہے جہاں اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ اسے فکر ہے بنگال کی جہاں وہ کسی بھی قیمت پر کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس کی دلچسپی اس بات میں ہے کہ بنگال میں کس طرح ممتا بنرجی کو کمزور کیا جائے جس کے لیے وہاں کے وزراء سے لے کر ممبران اسمبلی تک پر سام، دام، ڈنڈ اور بھید کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہمارے پردھان سیوک جی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بنگال وآسام کے دورے پر نہیں نکل کھڑے ہوئے ہوتے۔


آخر ایسا ہو بھی کیوں نا؟ جب مرکز کی بی جے پی حکومت نے اپنی کامیابی و ناکامی کا پیمانہ انتخابات کی کامیابی وناکامی بناچکی ہو تو پھر چاہے آندھی آئے یا طوفان یا پھر ملک کا ان داتا سڑکوں پر اپنی جان ہی کیوں نا دے، حکومت کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ حکومت اگر سنجیدہ ہے تو ان صنعتکاروں کے مفاد کے تحفظ کے لیے جو اسے اتنا سرمایہ دے چکے ہیں جس نے اسے دنیا کی سب سے مالدار پارٹی بنا دیا ہے۔ اس لیے دیش ہت یا کسانوں کے مفاد کے تحفظ کی امید اس حکومت سے فضول ہی ہوگی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے اپنے لیے ایک ایسا پیمانہ بنالیا ہے کہ جس کے مطابق اگر وہ کوئی بھی کام کرے تو وہ دیش ہت میں ہے اور اگر وہی کام کوئی دوسرا کرے تو گھور پاپ یہاں تک مہاپاپ بن جاتا ہے۔ کسانوں کے مطالبات کو ہی دیکھ لیجیے، یہی بی جے پی تھی جو یو پی اے حکومت میں کسانوں کے لیے مطالبات کو لے کر احتجاج کرتی تھی اور آج یہی بی جے پی ہے جس کے خلاف پورے ملک کا کسان سڑکوں پر ہے مگر وہ اسے دیش دروہی، بہکاوے ہوئے، خالصاتی، کانگریسی، کمیونسٹ اور نہ جانے کیا کیا نظر آرہے ہیں۔

کسانوں اور حکومت کے درمیان گیارہویں دور کی بات چیت بھی ٹائیں ٹائیں فش ہوگئی ہے۔ اب آگے کیا ہوگا؟ اس کے بارے میں حکومت تو چپ ہے ہی، کسان بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کسانوں کو کہنا ہے کہ ان کی پوری توجہ یومِ جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر ریلی پر مرکوز ہے، اس ریلی کے بعد وہ آگے کی حکمت عملی طے کریں گے۔ کسانوں کے اس احتجاج اور حکومت کے اس اہنکار کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ اس کے بارے میں کچھ کہنا تو قبل ازوقت ہوگا، لیکن ایک بات ضرور یقینی طو رپر کہی جاسکتی ہے کہ اگر حکومت نے کسانوں کے مطالبات تسلیم نہیں کیے تو اس کے نہایت بھیانک انجام سامنے آئیں گے۔ کیونکہ دہلی کی سرحدوں پر بیٹھے ہوئے کسانوں کے بھائی، باپ، بیٹے سرحدوں پر اس ملک کی حفاظت کر رہے ہیں اور جب انہیں اس بات کا یقین ہوجائے گا کہ حکومت ان کے مفاد کا تحفظ کرنے کے بجائے مٹھی بھر دھناسیٹھوں کے مفاد کی چوکیداری کر رہی ہے اور کسانوں کی باتوں کو سننے کے بجائے اپنے اہنکار میں مست ہے، تو اس کا جو نتیجہ نکلے گا وہ کسی طور ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ اس لیے پردھان سیوک جی کو چاہیے کہ وہ اپنے اہنکار کو دیش ہت سے بڑا نہ سمجھیں۔ پردھان سیوک جی بنگال وآسام میں الیکشن جیتنے کی تیاری کر رہے ہیں تو دہلی کی سرحد پر کسان اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور تاریخ شاہد ہے کہ جیت ہمیشہ آزادی کی جنگ کی ہی ہوتی ہے، بھلے ہی اس میں کچھ تاخیر ہوجائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔