بی جے پی حکومت کی تنگ نظری سے گاندھی کا ہندوستان لہولہان... نواب علی اختر

اعلیٰ پولس افسر کے ذریعہ جاری ویڈیو میں وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ کا ’ٹانگ ہاتھ توڑدو‘ کا لب ولہجہ سامنے آیا جو کہ انتہائی خوفناک ہے جو کسی وزیراعلیٰ کا ایسا رویہ ہرگز نہیں ہوسکتا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

کسی نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ گاندھی کے ہندوستان کو ایک دن معصوم طلباء کے خون سے لہولہان ہونا پڑے گا، ایک بار پھر’انقلاب‘ اور’ آزادی‘ کے نعرے زمین وآسمان کا سینہ پھاڑ دیں گے، ہندو، مسلمان، سکھ سمیت تمام سیکولر مزاج شہریوں کو خون کے آنسو رونا پڑے گا۔ آخر یہ سب کون کر رہا ہے اور کس لئے کیا جارہا ہے؟ اس کا جواب مرکزی اقتدار پر قابض بی جے پی کے نئے آقا مودی۔ شاہ ہی دے سکتے ہیں جن کی تنگ نظری کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے۔ موجودہ وقت میں ہندوستانی سماج کو خواندہ بنانے کی بجائے نوجوانوں کا مستقبل تاریک بنایا جارہا ہے، ملک کی معیشت کو آئی سی یو میں پہنچا دیا گیا ہے، صنفی مساوات کے میدان میں ہندوستان 4 درجے نیچے گرکر 112 ویں نمبر پر آ گیا ہے، گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ کے مطابق صنفی مساوات کے معاملے میں ہندوستان اپنے پڑوسی ممالک بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا اور چین سے بھی پیچھے ہے مگر مودی۔ شاہ کی جوڑی ان تمام باتوں کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں ہے۔

تمام حالات کے باوجود حکمراں طبقہ اپنی اکثریت کے گھمنڈ میں عوامی مسائل کو یکسر نظر انداز کر کے ایسے ایسے فیصلے کر رہا ہے جو ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی حکومت نے ایک حکمت عملی کے تحت متنازعہ مسائل کو ہوا دی ہے تاکہ ملک کے عوام ملک کی لڑکھڑاتی ہوئی معیشت پر توجہ دینے میں کامیاب نہ ہونے پائیں۔ معاشی میدان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کو قبول کرنے کے بجائے اس سے انکار کرنا حکومت کا وطیرہ بن گیا ہے اور جس طرح کے اندیشے ہیں وہ درست ہی کہے جاسکتے ہیں کہ حکومت معاشی میدان کی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ملک میں متنازعہ مسائل کو ہوا دینے میں لگی ہوئی ہے۔ اقتصادی کساد بازاری کے سبب ملک کا طبی اور تعلیمی نظام کس قدر تباہ ہورہا ہے اس سے لگاتار چشم پوشی کی جارہی ہے۔

اچھی تعلیم اور طبی نظام کسی بھی شخص کا معیار زندگی بہتر کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں بہت سے ملک صحت اور تعلیم پر اپنے کل جی ڈی پی کا 6 سے 10 فیصد خرچ کرتے ہیں۔ ہندوستان تعلیم کے میدان میں جی ڈی پی کا 3 فیصد ہی عوامی طور پر خرچ کرتا ہے، جو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ فی طالب علم اور تعلیم کے معیار کے پیرا میٹرز میں خرچ کرنے میں ہندوستان 62 ویں نمبر پر ہے۔ یہ سب اس وجہ سے بتانا پڑا ہے کیونکہ ایک خبر کے مطابق اسکول کی تعلیم کے بجٹ میں 3000 کروڑ کی کمی کی جا سکتی ہے۔ وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اقتصادی کساد بازاری کی وجہ سے مرکزی حکومت کے اقتصادی حالات کافی خراب ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ہر وزارت کے بجٹ میں کمی کی جا رہی ہے۔ مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اقتصادی بحران کے سبب یہ حالات پیدا ہوئے ہیں۔ اس بدحالی سے نکلنے کے لئے ماہرین اقتصادیات کی مدد لینی ہوگی مگر موجودہ حکومت خود کو ہی عقل کل سمجھ بیٹھی ہے اور وہ کسی کی باتوں کو سننے کو تیار نہیں ہے۔

گزشتہ پانچ سالوں سے یہی دیکھا گیا ہے کہ مودی حکومت ہر کام ملک کے دستور کے مغائر کر رہی ہے، ملک کے سیکولر اقدار کو تباہ کیا جارہا ہے۔ این آر سی اور سی اے اے کے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے چہار سو تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں مذہب کی بنیاد پر شہریت نہیں دی جاسکتی۔ اس حقیقت کے باوجود مودی حکومت نے اپنی ایک طرفہ پالیسی کو روبہ عمل لانے کی کوشش کی۔ ہندوستان کو ’ہندو راشٹرا‘ بنانے کی کوشش کا نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ کس طرح بی جے پی حکومت کا منصوبہ ہندوستان کی یکجہتی اور اتحاد و استحکام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سارا ہندوستان سراپا احتجاج بن چکا ہے یہاں تک کہ طلباء نے حکومت کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں مگراس کے خلاف اٹھنے والی آوازکو بزور طاقت کچلنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس دوران پورے ملک میں تقریباً دو درجن لوگ اپنی زندگی ہار بیٹھے ہیں مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ حکومت کی ہٹ دھرمی کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر پولس بے تحاشہ مظالم ڈھا رہی ہے۔

سڑکوں پر احتجاج کرنے والے عوام کو گولیوں سے نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا۔ دہلی سے بہار، یو پی سے کرناٹک اور کئی شہروں میں پولس طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ احتجاجیوں کی آنکھیں ضائع ہو رہی ہیں، وہ شدید زخمی ہو رہے ہیں۔ ایسے میں اتر پردیش کے وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ نے احتجاجیوں سے بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے۔ اعلیٰ پولس افسرکے ذریعہ جاری کیے گئے ویڈیو میں آدتیہ ناتھ کا ’ٹانگ ہاتھ توڑدو‘ کا لب ولہجہ سامنے آیا وہ انتہائی خوفناک تھا اور وہ کسی ریاست کے ذمہ دار وزیر اعلیٰ کا رویہ ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ ایسا لگتا ہے کہ آج بھی آدتیہ ناتھ ہندو مہا سبھا لیڈر کے لب و لہجہ میں بات کر رہے ہیں جو کسی وزیراعلیٰ کو ہرگز زیب نہیں دیتا۔ امن و قانون کی برقراری یقینی طور پر ایک ریاست کے سربراہ کا ذمہ ہے لیکن اس طرح کا لب و لہجہ ان کے انتقامی جذبہ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی عوامی احتجاج میں سرکاری املاک کا نقصان نہیں ہونا چاہیے لیکن انتقام یا بدلہ کی بات انتہائی افسوسناک ہے۔ سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ لب و لہجہ ایک وزیراعلیٰ کا ہے۔

واقعی اگر بدلہ لینے کی بات ہے تو پھر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے دو درجن لوگوں کا بدلہ کون دے گا۔ احتجاجیوں پر قابو پانے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں۔ پہلے لاٹھی چارج کیا جاسکتا ہے، آنسو گیس کے شیل برسائے جاسکتے ہیں، پھر ہوا میں فائرنگ کی جاسکتی ہے۔ پھر اگر فائرنگ ضروری ہوجائے تو پیروں پر نشانہ لگایا جاسکتا ہے لیکن ہمارے ملک کی پولس چاہے وہ کسی بھی ریاست کی ہو راست احتجاجیوں کی زندگیوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ کیا پولس سے یہ سوال نہیں ہونا چاہیے کہ انہوں نے جو قانونی طریقہ کار ہونا چاہیے وہ کیوں اختیار نہیں کیا؟ پولس سے سوال کرنے اور جواب طلب کرنے کی بجائے احتجاجیوں سے بدلہ لینے کی بات کی جائے تو اس سے پولس کے حوصلے بلند ہوں گے اور اسے نہتے احتجاجیوں پر فائرنگ کرنے میں کبھی بھی کوئی عار محسوس نہیں ہوگا۔ پولس جہاں امن وقانون کی برقراری کے لئے ہوتی ہے وہیں عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن ہماری پولس اس کے مغائر کام کر رہی ہے، اس کے رویہ پر جواب طلب کرنے کے بجائے عوام سے انتقام لینے کی بات افسوسناک ہے۔

یوگی کے بیان سے ایسا لگ رہا ہے کہ تشدد کے لیے مظاہرین ہی ذمہ دار ہیں اگر ایسا ہے تو جمعہ کو دہلی کی شاہی جامع مسجد پرسی اے اے کے خلاف عوامی سیلاب امڈ پڑا تھا اور دیرشام تک احتجاج کیا مگر کہیں سے کوئی تشدد کی خبرنہیں آئی جب مظاہرین اپنے گھروں کو لوٹ چکے تھے تبھی دیر رات دہلی گیٹ پرآگ زنی کی خبر نے پولس کی کارکردگی پرسوالیہ نشان لگا دیا۔ یہاں ایک درجن شرپسندوں نے پولس اسٹیشن کے سامنے ایک نجی گاڑی کوآگ لگا دی۔ شرپسندوں کو پکڑ نے میں ناکام رہی پولس اب اپنی عزت بچانے کے لئے پوری رات دھڑ پکڑ جاری رکھے ہوئے ہے اور جمعہ کی صبح تک ایک درجن نابالغ سمیت 40 لوگوں کوحراست میں لے لیا۔ پولس نے اگر یہی پھرتی آگ زنی کے وقت دکھائی ہوتی تو اسی وقت پتہ چل جاتا کہ کون لوگ ہیں جو پرامن مظاہرین کو فسادی بنانے کی سازش کر رہے ہیں مگرتشدد کے بعد کارروائی نے پولس کی کارکردگی پرسوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

Published: 22 Dec 2019, 7:11 PM