لال قلعہ سے وزیراعظم کا خطاب ’نئی بوتل میں پرانی شراب‘

سچ تویہ ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے سوا چار سالوں کی مدت میں کچھ بڑے صنعتی گھرانوں کی اقتصادی بہتری، ہندوتوا کے نام پر سماجی تقسیم اورنفرت کے ایجنڈے پرہی زیادہ زور دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

15اگست2018 کو لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم نریندر مودی کے ہونے والے آخری خطاب سے ملک کے ’بھائیو،بہنوں‘ نے بڑی امیدیں لگارکھی تھیں لیکن آخرکار انہیں ایک بارپھرمایوس ہونا پڑا۔ وزیراعظم مودی نے بدھ کے روزملک کے72ویں یوم آزادی کے موقع پرتقریباً سوا گھنٹے سے زیادہ اپنے خطاب میں تھوک کے بھاؤ مسائل پربات تو کی لیکن انہوں نے ان کاحل نہیں بتایا۔

15اگست کو ملک کا وزیراعظم عام طور پرلال قلعہ کی فصیل سے اپنے تاریخی خطاب میں ماضی کی خامیوں پر پشیمانی اورمستقبل کے منصوبوں سے عوام کو آگاہ کراتا ہے نہ کہ سیاسی تقریرکر کے حکمراں جماعت کوخوش کر کے باقی عوام کو نظر انداز کردیا جائے۔ وزیراعظم کے طور پر اپنی اور این ڈی اے حکومت کی ’بے مثال کامیابی‘ پرمرکوز خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ 2013 کے بعد ملک کافی بدلا ہے، ہرعلاقے میں حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے لیکن تعلیم، صحت، روزگار، صنعتی ترقی، نظم ونسق یا مجموعی ترقی کے میدان میں حکومت نے ٹھوس طور پر کیا کچھ کیا، اس بارے میں سرکاری اورمستند ڈھنگ سے کچھ نہیں بتایا۔

ان کا خطاب کسی انتخابی ریلی کے بھاشن کی طرح سیاسی تھا، اس میں وسعت پسندی، گہرائی اور وقار کا مکمل طور پرفقدان رہا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وزیراعظم کی موجودہ مدت کار کا لال قلعہ کی فصیل سے یہ آخری خطاب تھا مگر اس میں کوئی نئی بات یا نیا پیغام نہیں تھا۔ اپنی حکومت کی ایک اہم صحت اسکیم ’ایوشمان بھارت‘ پر انہوں نے کافی کچھ کہا مگر ملک کی عوام کو اس اسکیم کے بارے میں وزیراعظم، وزیرخزانہ اور وزیرصحت نہ جانے کتنی بارپہلے بھی بتا چکے ہیں۔ حکومت کی طرف سے اس کی پہلے ہی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جاچکی ہے۔ 25ستمبر سے نافذ ہونے والی نئی صحت اسکیم (آیوشمان بھارت) کاپہلا اعلان وزیرخزانہ کے طور پر ارون جیٹلی نے گزشتہ فروری میں پیش حکومت کے سالانہ بجٹ میں کیا تھا۔ تب سے لگاتار اس قومی صحت تحفظ اسکیم کی تشہیرجاری ہے۔ ایسی اسکیمیں ضرورت مندوں کے بجائے عام طورپربیمہ کمپنیوں کوہی مالامال کریں گی۔ حکومتی نظام اوربیمہ کمپنیوں کے درمیان ایک قسم کا اتحاد قائم ہوگیا ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ بہت زیادہ تشہیروالی اسکیم کا کیا حشر ہوتا ہے۔

دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اپنے ملک میں طبی خدمات کے بنیادی ڈھانچے، اسپتالوں اور اداروں کی کمی کا۔یوپی، جھارکھنڈ اور بہار جیسے بڑے صوبوں میں ضلع اور زون سطح کے اسپتالوں کی حالت قابل رحم ہے۔ ’آیوشمان بھارت‘ اسکیم بناتے وقت اس پہلو پر کیا دھیان دیا؟ حکمراں پارٹی کے لوگ وزیراعظم کو عملی اور زمینی سیاستدان کہتے ہیں لیکن وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں انتہائی ’شورشرابے‘ والی اس اسکیم کے نفاذ کے اس خاص چیلنج کی کوئی بات نہیں کی۔ پھرحکومت کے اس دعوے میں کتنا دم ہے کہ اس اسکیم سے 10کروڑ خاندانوں کے 50کروڑ لوگوں کو فائدہ ہوگا؟۔ اسی طرح فصل بیمہ یا کسانوں کوراحت دینے کے سرکاری دعوے بے مطلب لگتے ہیں کیونکہ کسانوں کی خودکشی ابھی جاری ہے۔

پورے ملک میں زرعی علاقہ بحران کا شکار ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے سوا چارسالوں کی مدت میں کچھ بڑے صنعتی گھرانوں کی اقتصادی بہتری، ہندوتوا کے نام پرسماجی تقسیم اورنفرت کے ایجنڈے پر ہی زیادہ زور دیا۔ کسانوں، مزدوروں اورنوجوانوں کے حقیقی مسائل کوخطاب کرنے میں انہوں نے بہت کم دلچسپی دکھائی۔ خواتین کےمسائل پروہ صرف ’تین طلاق‘ تک محدود رہے۔ ایسا لگا کہ ان کا پورا زور ’مسلم سماجی اصلاح‘ پر ہے مگر ہندومذہب کے پیروکاروں کے اصلاح کا انہوں نے کبھی ذکرنہیں کیا۔ انہوں نے سناتن سنستھان اورگئورکشا کے نام پر قتل اورخون خرابہ کرنے والے غنڈوں کے خود ساختہ گروپوں پر خاموش رہے۔ وزیر اعظم نے یہ توبتایا کہ پہلے’ریڈ ٹیپ‘ تھا، اب’ریڈ کارپیٹ‘ ہے لیکن اس سے صنعتی ترقی کی رفتارکتنی بڑھی، روزگار کتنا پیدا ہوا اور اس سے حکومت کوکتنا ریونیو آیا؟ جبکہ خاص طور پر ملک میں این پی اے کولے کرموجودہ حکومت پر لگا تار سوال اٹھائے جارہے ہیں۔

میہل ’بھائی‘چوکسی تواینٹیگا نامی ایک ملک کا معززشہری بن چکاہے۔ یہ بات بھی سامنے آگئی ہے کہ اس کے وہاں جانے اور بسنے میں موجودہ حکومت کی ایجنسیوں نے کس طرح اس کی مددکی۔ وجے مالیا سمیت کئی صنعتی کپتان اپنے بینکوں سے اربوں کا قرض لے کر ملک سے بھاگ گئے ہیں۔ وہ کسی بھی حالت میں قرض چکانے کو تیار نہیں ہیں، دھمکیاں الگ سے دے رہے ہیں مگر حکومت خاموش ہے۔ دوسری طرف چھوٹے چھوٹے قرض کے جال میں پھنسے لاکھوں کسان اور ڈگریاں لئے نوجوان خودکشی کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود آپ کہہ رہے ہیں کہ ملک بہت خوشحال ہوا ہے۔ اگر خوشحالی کامطلب صرف کارپوریٹ کی سرمایہ توسیع سے ہے توبات صحیح ہے کہ اس وقت ایشیا کے سب سے زیادہ کھرب پتی ملک میں ہیں مگر عدم مساوات کے معاملے میں ہم دنیا کے 180 ممالک کے درمیان 133ویں نمبر پر ہیں۔ تعلیم اورصحت پرہم دنیا کے تمام جمہوری ممالک میں سب سے کم خرچ کرتے ہیں۔ دنیا کے ’ہنگرانڈیکس‘ میں بھی ملک کی حالت شرمناک نظرآتی ہے۔ ملک کی راجدھانی میں چھوٹی چھوٹی بچیاں بھوک سے مرجاتی ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ہماری بدحالی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم نے خواتین کی حالت میں سدھار کا ذکرکیا اوراپنی حکومت کی پیٹھ بھی تھپتھپائی، مگرمرکزی وزارت داخلہ کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ بی جے پی کے زیر حکمرانی مدھیہ پردیش، یوپی، راجستھان اورہریانہ جیسے صوبوں میں عصمت دری کے جرائم میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، حکومتوں کی مدد سے چلائے جا رہے شیلٹرہوم بھی عصمت دری کے اڈے بن گئے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اگلی صنعتی جنگ کاہندوستان قائد ہو، اس کے لئے عزم کا اظہارکیا مگر’موب لنچنگ‘،غنڈہ گردی، فرقہ وارانہ استحصال، خواتین کا استحصال، دلتوں اورقبائلیوں پر مظالم اور فرقہ وارانہ تشدد سے سسکتے سماج کوصنعتی جنگ کی قیادت کے لئے کیسے تیارکریں گے؟ وزیراعظم مودی کے خطاب میں ان چیلنجوں اورسوالوں کا ٹھوس جواب نہیں ملتا۔ ان کاپورا خطاب اپنی حکومت کی بڑائی اورپیشرو حکومتوں کی تنقید پرمرکوز رہا۔ قوم کے بڑے اور سنجیدہ سوالوں پر اس میں کسی طرح کی گہری تشویش نظرنہیں ا ٓتی۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کیونکہ پیشرو حکومتوں کو کمتر دکھا کر خود کو ہندوستان کا محسن ثابت کرنا مودی کا شیوا رہا ہے۔ جب کہ عوام کی خواہشات اورتوقعات حکومت کے لئے سنجیدہ موضوع ہونا چاہئے مگرلال قلعہ کی فصیل سے تاریخی خطاب کو پارٹی کی ریلی میں تبدیل کرنے کے چلن نے عوام بالخصوص نوجوانوں کوکافی حدتک مایوس کردیا ہے جو اس اہم موقع پر اپنے لئے کچھ خاص اعلان کی امیدرکھتے تھے۔

next