طلاق ثلاثہ: کہیں پر نگاہیں، کہیں پر نشانہ

طلاق ثلاثہ بل کے ذریعہ مودی دوہری سیاست کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ شور مسلم خواتین کے حقوق کا ہے اور سیاسی پیغام یہ ہے کہ مودی نے ’چار شادی کرنے والے مسلمانوں کو ٹھیک کر دیا‘۔

طلاق ثلاثہ بل کے بعد میڈیا پر یکایک مسلم خواتین کی مظلومیت کا شور ہے۔ عورتیں کسی بھی سماج، مذہب یا طبقے سے تعلق رکھتی ہوں مظلوم ہوتی ہیں۔ حد یہ ہے کہ ان دنوں انگریزی فلم انڈسٹری ہالی ووڈ میں عورتوں کے خلاف جنسی استحصال کا شور مچا ہوا ہے۔ ہالی ووڈ کی مشہور و معروف اداکارائیں ’می ٹو‘ زمرے میں اپنے جنسی استحصال کے قصے بیان کر رہی ہیں اور سارا عالم انگلیاں دانت میں دبائے محو حیرت ہے کہ ہالی ووڈ جیسی جگہ عورت کی آواز کو کس طرح دبا کر رکھنے کا رواج ہے۔

الغرض عورت نام ہی دبی کچلی صنف کا ہے۔ مسلم سماج ایک پسماندہ سماج ہے۔ اس میں زمیندارانہ قدروں کا بول بالا ہے اور ایسے سماج میں مرد کو عورت پر ہر طرح کا اختیار ہوتا ہے۔ پھر مسلم سماج میں علماء کا بول بالا ہے۔ ہر سماج کے دینی رہبروں کا عورت کے معاملے میں ہاتھ تنگ ہی ہوتا ہے۔ مسلم علماء اس معاملے میں شاید دوسروں سے زیادہ کٹر ہیں۔ ان تمام وجوہات کے سبب مسلم عورت کچھ زیادہ ہی دبی کچلی ہے۔ خصوصاً طلاق ثلاثہ کا اختیار اس کو اپنے شوہر کے آگے بالکل لاچار کر دیتا ہے۔ اس اکیسویں صدی میں کسی بھی فرقہ میں طلاق ثلاثہ کا حق نہ صرف صنفی اعتبار سے بلکہ انسانی اعتبار سے بھی ظلم ہے۔ اس لیے طلاق ثلاثہ کو ختم ہونا چاہیے۔

طلاق ثلاثہ ایک ظلم ہے اس لیے طلاق ثلاثہ کو ختم ہونا ہی چاہیے، اس بات پر کوئی بحث ممکن نہیں ہے۔ لیکن نریندر مودی یہ کہیں کہ ان کو مسلم عورتوں پر طلاق ثلاثہ کی آڑ میں بڑا ظلم ہو رہا ہے تو یہ یقیناً چونکانے والی بات ہے۔ مودی جی کو اس وقت مسلم عورت کا درد کیوں نہیں دکھائی دیا تھا جب عشرت جہاں اور کوثر بی کا انکاؤنٹر ہوا تھا۔ یا مودی کو اس وقت درد کیوں نہیں ہوا جب 2002 کے گجرات فسادات کے دوران بلوائی مسلم عورتوں کی عصمت دری کر رہے تھے۔ اس وقت ان کی حکومت خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی تھی!

اگر اصلاح مسلم سماج کا معاملہ ہے تو پھر محض صنفی اصلاح کے نام پر طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون بنانا دوغلی بات ہوگی۔ بنیادی بات یہ ہے کہ پوری مسلم قوم پسماندگی کے غار میں ہے۔ اس سلسلے میں منموہن سنگھ حکومت نے سچر کمیٹی رپورٹ پارلیمنٹ کو پیش کی تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق مسلمان سماجی، تعلیمی، معاشی اور سیاسی اعتبار سے اب دلتوں سے بھی بدتر حالت میں پہنچ چکا ہے۔ یعنی پورے مسلم معاشرے کو اصلاح کی ضرورت ہے۔ مثلاً تعلیمی میدان میں خواہ وہ مسلم لڑکے ہوں یا مسلم لڑکیاں، سب پسماندہ ہیں اور اس سلسلے میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ سچر کمیٹی رپورٹ میں اس سلسلے میں سرکار کی جانب سے کچھ امدادی قدم بڑھانے کی سفارش کی گئی تھی۔ یو پی اے حکومت نے اقلیتی طبقوں میں فروغ تعلیم کے لیے کچھ اہم قدم اٹھائے بھی تھے۔ کیا کسی نے مودی جی کے منھ سے مسلمانوں میں فروغ تعلیم کے لیے کبھی ایک لفظ سنا۔ مجھ کو تو یاد نہیں کہ مودی جی کو مسلمانوں میں فروغ تعلیم کی کبھی فکر ہوئی۔ یہی حال مسلمانوں میں روزگار کا ہے، صحت کا ہے اور دوسرے انسانی مسائل کا ہے۔ لیکن مودی جی کو کبھی ان سنجیدہ مسائل کی فکر نہیں ہوئی۔

نریندر مودی کی نیند محض طلاق ثلاثہ نے اڑا رکھی ہے۔ یہ سراسر بے معنی ہے۔ وہ وزیر اعلیٰ جو اپنی ریاست میں بدترین فسادات کے بعد مسلم پناہ گزینوں کے لیے ملنے والی امداد لینے سے انکار کر دے بھلا اس کو مسلم سماج میں اصلاح معاشرہ کا حقیقتاً درد ہو سکتا ہے! گجرات فسادات کے پناہ گزینوں میں محض مسلم مرد ہی نہیں بلکہ مسلم عورتیں بھی تھیں۔ اس وقت نریندر مودی کو مسلم عورتوں کے ساتھ انصاف کا خیال نہیں آیا!

نریندر مودی مسلم خواتین کے حقوق کی آڑ میں ہندو ووٹ بینک کی سیاست کر رہے ہیں۔ اس قانون کے پیچھے وہی بات ہے جو آر ایس ایس مسلمانوں کے بارے میں مودی کے تعلق سے کہتی ہے۔ سنگھ ذہنی سطح پر مودی کے بارے میں کہتی ہے کہ ’’مسلمانوں کو مودی ہی ٹھیک کر سکتے ہیں۔‘‘ جی ہاں، طلاق ثلاثہ بل کے ذریعہ مودی دوہری سیاست کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ شور مسلم خواتین کے حقوق اور اصلاح کا ہے، سیاسی پیغام یہ ہے کہ مودی نے آخر ’چار شادی کرنے والے مسلمانوں کو ٹھیک کر دیا‘۔ اس لیے مودی جی بدھو مت بنائیے۔ طلاق ثلاثہ ختم کیجیے، لیکن حقوق مسلم خواتین اور اصلاح مسلم معاشرہ کا ڈنکا مت بجائیے۔

سب سے زیادہ مقبول