ندائے حق: خواتین رہنما مردوں سے زیادہ کامیاب کیوں؟... اسد مرزا

اب ایک تقابلی جائزے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ خواتین رہنماوں نے اپنے مرد ہم مناصب کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اسد مرزا

کورونا وائرس کے اس دور میں ایک غیر معمولی بات یہ سامنے آئی ہے کہ عالمی سطح پر خواتین رہنماوں نے مرد رہنماوں کے مقابلے میں اس وبائی بحران کا زیادہ بہتر، موثر اور امید افزا انداز میں مقابلہ کیا ہے۔ جن ملکوں میں قیادت کی باگ ڈور خواتین کے ہاتھوں میں ہے ان ملکوں نے اس بحران پر بہتر انداز میں قابو پایا ہے۔ اس کے علاوہ ان ملکوں میں اموات کی تعداد مردوں کی قیادت والے ممالک کے مقابلے میں تقریباً نصف رہی ہے۔

جرمنی کی انگیلا میرکل، نیوزی لینڈ کی جسینڈا آرڈن، ڈنمارک کی میٹے فریڈرکسن، تائیوان کی سائی انگ وین اور فن لینڈ کی سنا مارین کی کامیابی کی کہانیاں دنیا بھر میں سرخیوں میں رہیں۔ لیکن اب ایک تقابلی جائزے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ خواتین رہنماوں نے اپنے مرد ہم مناصب کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

خواتین رہنماوں کا رول

کووڈ۔19 پر قابو پانے کے سلسلے میں دنیا کے 194 ممالک کے رہنماوں کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کا تجزیہ کرتے ہوئے سینٹر فار اکنامک پالیسی ریسرچ اور ورلڈ اکنامک فورم نے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ مرد اور خواتین رہنماوں کے اقدامات کا فرق حقیقی ہے او ر اسے خواتین رہنماوں کے ذریعہ اپنائے گئے پیش اقدامی(Proactive) اور مربوط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

لیور پول یونیورسٹی میں ڈیولپمنٹل اکنامکس کی پروفیسر سپریا گاریکی پتی اور ریڈنگ یونیورسٹی کی اوما کمبھم پتی نے یہ رپورٹ تیار کی ہے۔ انہوں نے برطانوی اخبار ’ دی گارڈین‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے نتائج واضح اشارہ کرتے ہیں کہ خواتین رہنماوں نے ممکنہ نقصانات کا مقابلہ کرنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کیے۔‘ ان دونوں کا مزید کہنا تھا کہ’ تمام معاملات میں ہم نے پایا کہ انہوں نے لاک ڈاون کرنے کا فیصلہ بروقت لیا۔ حالانکہ اس کے طویل مدتی اقتصادی مضمرات ہوسکتے تھے لیکن اس سے بلاشبہ ان ملکوں میں انسانی جانوں کو بچانے میں مدد ملی اور ان ملکوں میں کم تعداد میں اموات اس کا واضح ثبوت ہے۔‘‘

اس رپورٹ کے سلسلے میں تجزیہ اور نتائج اخذ کرنے کے لیے کووڈ۔19 کے سلسلے میں پالیسی اور لائحہ عمل کے علاوہ 19مئی تک کیسز اور اموات کی تعداد اور مختلف ممالک میں پائے جانے والے داخلی اسباب اور وجوہات کو بھی مدنظر رکھاگیا۔ ان میں جی ڈی پی، مجموعی آبادی، آبادی کا حجم اور عمر دراز افراد کا تناسب، نیز صحت پر فی کس سالانہ خرچ، بین الاقوامی سفر کی سہولت اور سماج میں عمومی صنفی مساوات کی سطح جیسے مختلف پیمانوں کو بھی مدنظر رکھا گیا۔

ماضی میں عالمی خواتین رہنما

نومبر 2019 تک دنیا کے مختلف ممالک میں 89 خواتین رہنما وزیر اعظم یا صدر کے اعلی ترین عہدوں پر فائز ہوچکی ہیں۔ کسی ملک میں جمہوری طور پر منتخب پہلی وزیر اعظم سری لنکا کی سریماو بندرانائیکے تھیں۔ جنہوں نے 1960 کے عام انتخابات میں اپنی پارٹی کو کامیابی سے ہمکنار کرایا اور سری لنکا کی سیاست میں سنہالیوں کے لیے پیش قدمی کا ایک نیا راستہ کھول دیا۔ کسی ملک کے صدر کے طور پر منتخب ہونے والی پہلی خاتون ارجینٹینا کی ایزابیل مارٹینز ڈی پیرون تھیں۔ جنہوں نے 1974میں نائب صدر کے عہدہ پر رہتے ہوئے ملک کے اعلی ترین آئینی عہدے پر پہنچنے میں کامیابی حاصل کی۔ جب کہ کسی ملک کی پہلی منتخب خاتون صدر آئس لینڈ کی ویگڈیز فنبوگاڈوٹر تھیں۔ جو 1980میں صدر بنیں۔

اس فہرست میں اسرائیل کی چوتھی وزیر اعظم گولڈا مائر کا نام بھی شامل ہے۔ دنیا کی چوتھی اور اسرائیل کی پہلی خاتون وزیر اعظم گولڈا مائر کو اسرائیلی سیاست کا’ خاتون آہن‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح بعد میں برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر اور ہندوستان کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔ سابق اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بین گورین، گولڈا مائر کو ’حکومت میں سب سے بہترین مرد‘ کہا کرتے تھے۔

مارگریٹ تھیچر برطانیہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ ان کی پالیسیوں کی ’تھیچرازم ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور ان کی غیر مصالحتی سیاست اور قائدانہ اسٹائل کی وجہ سے انہیں ’ خاتون آہن ‘ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے فاک لینڈ جنگ میں برطانیہ کی قیادت کی اور اسے فتح سے ہمکنار کرایا۔ 1984-85 میں تنہا ہی کان کنوں کے ہڑتال کو ختم کرانے میں کامیابی حاصل کی۔

ایشیا میں بھی بہت سی خواتین رہنما ہوئی ہیں جنہیں ان کی اعلی قیادت کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ ان میں سریما و بندرانائیکے کی بیٹی چندریکا کمارا تنگا شامل ہیں، جو سری لنکا کی پہلی خاتون صدر بنیں۔ وہ بعض ابتدائی ناکامیوں کے باوجود تمل مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں کامیاب رہیں۔

ہندوستان میں اندراگاندھی سے کون واقف نہیں ہے۔ وہ ملک کی سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہیں۔ انہوں نے 1972 میں پاکستان کے خلاف جنگ میں ملک کی کامیاب قیادت کی اور بنگلہ دیش کے قیام میں اہم رول ادا کیا۔ اندرا گاندھی کو عرب اسرائیل تصادم میں فلسطینوں کا زبردست ہمدرد اور حامی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے امریکی تائید والی مشرق وسطی کی سفارت کاری کا شدید نکتہ چینی کی اور اس کی کبھی تائید نہیں کی، جس کا منفی اثر ہند۔امریکا تعلقات پر بھی پڑا۔ 1999 میں بی بی سی نے ایک آن لائن سروے میں انہیں ’وومن آف دی ملینیم‘ کا لقب دیا تھا۔ ٹائم میگزین نے بھی انہیں دنیا کی 100 ایسی طاقت ور خواتین کی فہرست میں شامل کیا تھا، جنہوں نے گزشتہ صدی میں اپنے اقدامات سے کروڑوں لوگوں کی قسمت بدل دی۔

بے نظیر بھٹو بھی دنیا کی اہم خواتین رہنماوں میں سے تھیں۔ وہ دو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم رہیں۔ نظریاتی طور پر لبرل اور سیکولر خیالات کی حامی بے نظیر 1980 کی دہائی کے اوائل سے 2007 میں اپنے قتل تک پاکستان پیپلز پارٹی کی شریک چیرمین بھی رہیں۔

بنگلہ دیش میں ایک دوسرے کی حریف دو خواتین خالدہ ضیاء اور شیخ حسینہ نے ملک کے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ فوربز میگزین نے خالدہ ضیاء کو دنیا کی 100 سب سے طاقت ور رہنماوں میں 33 واں مقام دیا تھا۔ دوسری طرف موجودہ وزیر اعظم شیخ حسینہ حالیہ دہائی میں ’دنیا کے چوٹی کے 100 مفکرین‘ کی فہرست میں شامل ہیں۔ وہ اس وقت خواتین عالمی رہنماوں کے کاونسل کی رکن ہیں۔ یہ کاونسل موجودہ اور سابقہ خواتین صدور او روزرائے اعظم کے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک ہے۔

ہندوستان میں گزشتہ 73برسوں کے دوران 16 خواتین نے وزیر اعلی کے طور پرخدمات انجام دی ہیں۔ ان میں سچیتا کرپلانی، انورہ تیمور، محبوبہ مفتی، ممتا بنرجی، جیہ رام جیہ للیتا اور مایاوتی چند نمایاں نام ہیں۔ جیہ للیتا اور مایاوتی بالترتیب تمل ناڈو اور اترپردیش کی وزیر اعلی رہ چکی ہیں۔ دونوں کو اپنے آ پ کو سب سے بڑا سمجھنے کے خبط کے لیے بھی جانا جاتا ہے لیکن ان دونوں نے ہندوستانی سیاست میں ایک نئی طرح کی بنیاد بھی رکھی۔ مایاوتی نے بہت نیچے سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔ ہندوستان کے سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راو انہیں ’جمہوریت کی کرامت‘ قرار دیتے تھے۔

خواتین رہنما زیادہ کامیاب کیوں ثابت ہوتی ہیں؟

یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ خواتین رہنماوں کی کامیابی کی وجہ کیا ہے؟ آخر وہ کون سے اسباب ہیں جن کی وجہ سے یہ خواتین رہنما اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہتر فیصلے لینے میں کامیاب رہیں۔ کیا یہ ان کی عملیت پسندی تھی۔ یا ایک خاتون کی حیثیت سے ان کی فطری صلاحیتیں؟ غالباً کسی قطعی فیصلے پر پہنچنے کے لیے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ لیکن تاریخی طور پر ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ان خواتین رہنماوں نے مردوں کے غلبے والی اس دنیا میں اپنے حوصلے، لگن اور قوت ارادی سے خود کو ثابت کر دکھایا۔ خواتین کی اس طاقت کو سلام!

(مصنف سیاسی تجزیہ نگار ہیں۔ وہ بی بی سی اور خلیج ٹائمز، دوبئی سے بھی وابستہ رہے ہیں)

next