مسلمان ’دہشت گرد‘ اور عیسائی صرف ذہنی معذور!

مغربی میڈیا نے اپنی پرانی روش کو قائم رکھتے ہوئے بریٹن ٹیرنٹ کو ’ذہنی معذور‘ بتا کر پوری طرح حادثہ ثابت کرنے کی کوشش کی، مگرغیرجانبدار میڈیا نے کہا کہ یہ بلاشبہ دہشت گردی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں شمار کیا جانے والا نیوزی لینڈ بھی اب بے گناہوں کے قتل عام کا گواہ بناہے۔ تقریباً 40 لاکھ نفوس کی آبادی والے اس چھوٹے اور انتہائی منظم ملک میں جہاں مسلمانوں کی آبادی محض 1.1 فیصد ہے، جمعہ کے روزعین نماز کے وقت یہاں کی دومساجد میں ہوئے سانحے پر پوری دنیا دکھی ہے۔ عبادت میں مصروف 50 جیتے جاگتے انسان لمحوں میں جان سے مار دیئے گئے۔ اسی پر بس نہیں، اس قتل عام کو اس طرح نشر کیا گیا کہ دنیا بھر کے تارکین وطن اور خصوصاً مسلمانوں میں دہشت پیدا ہو۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا کہ کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملے دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں ہیں اور یہ نیوزی لینڈ کے لئے ایک سیاہ دن ہے۔ جیسنڈا آرڈرن نے ہفتہ کوسیاہ کپڑے زیب تن کرکے مغموم اندازمیں دہشت گردانہ حملے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے ملاقات کی۔

اسی طرح حملہ آور کے آبائی وطن آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ ماریسن نے بھی واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی ہی قرار دیا ہے۔ مگرکتنے افسوس کی بات ہے کہ عالمی سطح پر میڈیا اس سانحہ کو دہشت گردانہ کارروائی ماننے کو تیار نہیں ہے، چنانچہ یہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ حملہ آور ذہنی طور پر بیمار تھے۔ یہ حیرت کا مقام ہے کہ دنیا ایسا کہہ کر حملہ آوروں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ واقعہ کے دوران چار مشتبہ لوگوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہے تو دنیا یہ بتائے کہ کیا یہ چاروں ذہنی طور پر بیمارتھے؟ اور اگر ایسا ہے تو دہشت گرد کون ہے؟

مغربی میڈیا نے اپنی پرانی روش کوقائم رکھتے ہوئے حملہ آور کو ’ذہنی معذور‘ بتا کر واقعے کو پوری طرح حادثہ ثابت کرنے کی کوشش شروع کردی، مگرغیرجانبدارمیڈیا نے ان کے منصوبوں پر پانی پھیرتے ہوئے صاف کہا ہے کہ یہ بلاشبہ دہشت گردی ہے۔ اس واقعہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ دہشت گرد یا دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ لیکن آج کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ دہشت گردی کو ایک خاص مذہب سے جوڑ دیا جاتاہے۔

چونکہ حملہ آور عیسائی تھا، اس لئے عالمی میڈیا اس کے لئے عیسائی دہشت گردی کی بجائے مسلح حملہ آور جیسے الفاظ کا استعمال کر رہا ہے جو کسی منافقت سے کم نہیں۔ جب حملہ آور سفید فام ہو تو اسے دہشت گرد کی بجائے مسلح حملہ آور کیوں کہا جاتا ہے؟ سفید فام حملہ آور ہونے یا مسلمانوں کے جاں بحق ہونے کی صورت میں ایسے واقعات کو دہشت گردی کے بجائے قتل عام کیوں قرار دیا جاتا ہے؟۔ حملہ آور خواہ سفید فام ہو لیکن اس نے جو کیا وہ دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں۔ حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور اس حملے کو دہشت گردی ہی کہا جائے۔ سفید فام بھی دہشت گرد ہو سکتا ہے اور مسلمان بھی دنیا بھر میں دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس لئے سفید فام حملہ آور کو ’ذہنی معذور‘ کہنے کی بجائے دہشت گرد کہا جائے اور معصوم مسلمانوں کے قتل عام کو روکا جائے۔

اگرایسا حملہ یہودیوں، عیسائیوں یا دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں پر ہوتا تو پوری دنیا مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے چکی ہوتی، لیکن حیرت کی بات ہے کہ دنیا کا ایک بڑا حصہ اس کوعیسائی دہشت گرد نہیں کہہ رہی ہے، بلکہ اس کو سفید فاموں کی برتری پر یقین رکھنے والا کہا جارہا ہے، جبکہ اس نے رنگ و ذات کے نام پر نہیں بلکہ مذہب کے نام پر خون بہایا ہے، مسلمانوں کے خلاف پہلے سے لٹریچر تقسیم کررہا تھا مگرموجودہ دور کی بدقسمتی یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان نام کا آدمی اس قبیح عمل کو انجام دیتا تو اس کا تعلق اس کے مذہب سے جوڑ دیا جاتا، لیکن اب دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

ملزم ایک 28 سالہ سفید فام، نسل پرست شخص ہے جو اسلامو فوبیا کا شکار ہے۔ ابتدائی تفتیش سے اس کا ایک ذاتی منشور بھی نظر آتا ہے۔ گویا وہ کوئی نفسیاتی مریض نہیں بلکہ باقاعدہ ایک نظریئے کا بانی یا حامی ہے جس کے تحت مسلمان تارکین وطن کو واپس ان کے ملکوں میں دھکیل دیا جائے۔ بظاہر وہ اپنے نظریات کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہتھیار اٹھانے والا اکیلا شخص نظر آتا ہے لیکن اسلامو فوبیا کسی ایک شخص کا نظریہ نہیں، نہ ہی یہ کوئی نظریہ ہے۔ یہ ایک ایسا خوف ہے جو دنیا کی دو ارب آبادی کے لئے باقی دنیا کے دل میں پیدا کردیا گیا ہے۔

انسانی تاریخ کے اوراق خون سے لال ہیں، کہیں کھوپڑیوں کے مینار ہیں اور کہیں اجتماعی قبریں دریافت ہوتی ہیں۔ انسان واحد جانور ہے جو اپنی نوع کو ختم کرنے کے در پے ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ وہ واحد مخلوق ہے جسے کسی دوسری مخلوق کے ہاتھوں معدومیت کا خطرہ نہیں، ہاں اس کے ہاتھوں آئے دن کسی نوع کے ناپید ہونے کی خبریں ضرور آتی رہتی ہیں۔

صلیبی جنگوں کے بعد انسان نے مذہب کے نام پر جنگ کرنے سے توبہ کرلی تھی یا شاید یہ میرا خیالِ خام ہے۔ ایسا ہی جیسا کہ مجھے لگتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد انسان نسل پرستی سے کان پکڑ چکا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو کمیونسٹ بلاک کو شکست دینے کے لئے کیپٹلسٹ بلاک، مسلمانوں کو اپنی ’پراکسی‘ لڑنے پر نہ لگاتا۔ مذہب کا جن بوتل سے نکالا تو روس کی شکست کے بعد یہ جن آدم بود آدم بود کرتا امریکہ پر لپکا۔ تب اپنی ذاتی اور اپنے دست خاص سے تیار کردہ ملائشیا پر’دہشت گرد‘ کا لیبل لگا دیا گیا۔ اصل بات یہ تھی کہ کمیونزم کی شکست کے بعد کیپٹل ازم کو ’خلافت‘ کا بھوت ڈرانے لگا۔ ملا عمر اور اسامہ کی شکل میں ایک اور مخالف نظر آ یا۔ یہیں سے اسلامو فوبیا کی بنیاد پڑی، یہ خوف عوام کو نہیں نظام کو تھا۔

نیوزی لینڈ کا سانحہ صرف اس وجہ سے پریشانی کا باعث نہیں کہ اس میں اتنے انسان مارے گئے۔ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔ کیا اسلامو فوبیا بھی ’دہشت گردی ‘ کی طرح کی ایک اصطلاح ہے جو آج کانوں کو نامانوس محسوس ہو رہی ہے لیکن کل یہ دنیا بھر میں پھیلے مسلمانوں کے لئے کوئی اگلی آفت بپا کرے گی؟۔ نسل پرستی کی اس نئی لہر کا رخ واضح نظر آ رہا ہے۔ گو میں بہت کوتاہ بین اور کم عقل ہوں لیکن نیوزی لینڈ کی مساجد کا حملہ آور 28 سال بریٹن ٹرینٹ ایک فرد نہیں ایک سوچ ہے۔ ہندوستان میں ہندو توا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں نسل پرستی کی نئی لہر، امریکہ اور یورپ میں اسلامو فوبیا یہ سب کہانیاں نہیں ہیں اور نہ ہی یہ کسی ’اتحاد بین المسلمین‘ قسم کے مضمون کا ابتدائیہ ہیں۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جسے جس قدر جلد سمجھ کر سنبھال لیا جائے اسی قدر بہتر ہو گا۔ جنگوں کی ماری یہ دنیا ایک اور ہولو کاسٹ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

بریٹن ٹیرنٹ کا یہ فعل برفانی تودے کی نوک ہے۔ اس کے نیچے ایک بہت بڑا پہاڑ موجود ہے۔ اگر اسلامو فوبیا نامی اس جن کو بھی بوتل سے باہر نکا ل لیا گیا تو کوئی بڑا انسانی المیہ رونما ہو سکتا ہے۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد پر دہشت گردانہ حملے کے بعد دنیا کے بیشترحصوں میں تعزیتی اجتماعات اور مظاہروں کے ذریعہ واقعہ کی مذمت کر کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی گئی، جس سے زمانہ جدید کی انسانیت نوازی کاپتہ چلتا ہے مگر زمانہ قدیم کے ذریعہ بوئے گئے قوم پرستی کے بیج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے موجودہ وقت میں خود کو انسان سمجھنے والے لوگوں کے لئے میدان میں اترنا ناگزیر ہو گیا ہے، بصورت دیگر ہر روز کوئی نہ کوئی مذہب کا ماننے والا دہشت گردی کے شکار اپنے بچوں کی لاشوں پر آنسو بہاتا نظر آئے گا۔

next