مختار عباس نقوی کا دعویٰ کتنا سچ کتنا جھوٹ؟... سہیل انجم

مختار عباس نقوی کہتے ہیں کہ 2014 کے بعد سے ہندوستان میں کوئی بڑا فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ واہ بھائی نقوی واہ!

مختار عباس نقوی، تصویر یو این آئی
مختار عباس نقوی، تصویر یو این آئی
user

سہیل انجم

کیا آپ اس دعوے پر یقین کریں گے کہ گزشتہ سات آٹھ برس کے دوران ملک میں کوئی بڑا فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا اور فرقہ وارانہ تصادم کے جو بھی واقعات پیش آئے وہ بہت چھوٹے اور معمولی تھے اور یہ کہ جرائم سے متعلق واقعات کو بھی اپوزیشن جماعتیں فرقہ وارانہ فساد بتاتی ہیں، تاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بدنام کیا جا سکے۔ یہ دعویٰ ہم نہیں کر رہے ہیں بلکہ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2014 کے بعد سے لے کر اب تک ملک میں کوئی بڑا فرقہ وارانہ تشدد نہیں ہوا۔ انھوں نے یہ دعویٰ ہندوستان کے دورے پر آئے یوروپی یونین کے ایک چھ رکنی وفد کے سامنے 28 اپریل کو کیا۔

خیال رہے کہ 26 اپریل کو ملک کے 108 سابق افسر شاہوں یا نوکر شاہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلے خط میں ان سے اپیل کی تھی کہ اس وقت ملک میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر جو حملے ہو رہے ہیں اور ان کے خلاف جو منافرانہ ماحول بنایا جا رہا ہے وہ ملک کے لیے تباہ کن ہے اور وزیر اعظم کو اس کے خلاف بولنا چاہیے اور نفرت انگیزی کی سیاست کو ختم کرنا چاہیے۔ انھوں نے وزیر اعظم سے یہاں تک کہا کہ آپ کی خاموشی کانوں کو بہرہ کر دینے والی ہے۔ لہٰذا آپ اپنی خاموشی توڑیں اور اس صورت حال کو بدلنے کی کوشش کریں۔


اس خط کے جواب میں چند روز کے بعد حکومت نواز سابق نوکر شاہوں کے ایک گروپ نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ ملک کا ماحول ٹھیک ہے۔ اس سے قبل بھی حکومت پر نکتہ چینی کے جواب میں اس قسم کے بیانات دلوائے جاتے رہے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ ملک میں سب کچھ ٹھیک ہے اور ایک طبقہ ایسا ہے جو موجودہ حکومت کا مخالف ہے اور وہ حکومت پر بے بنیاد الزامات لگاتا رہتا ہے۔ سو اس بار بھی یہی حکمت عملی اختیار کی گئی۔

لیکن یوروپی یونین کے وفد نے 108 افسر شاہوں کے مکتوب پر توجہ دی اور ملک میں انسانی حقوق کی خلاف روزی کے واقعات پر اظہار تشویش کیا۔ چونکہ وفد نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ہونے والے حملوں اور نفرت انگیزی کے واقعات کے خلاف اظہار خیال کیا تھا لہٰذا حکومت کی جانب سے اس وفد کو مطمئن کرنے کی ذمہ داری اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی کو سونپی گئی۔ انھوں نے ہمیشہ کی مانند اس بار بھی اپنا فرض ادا کرتے ہوئے حکومت کا قصیدہ پڑھا اور یہ کہتے ہوئے کہ مودی کی قیادت میں حکومت کے قیام کے بعد ملک میں کوئی بڑا فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا، اپوزیشن کو نشانہ بنایا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ جو کچھ کہا جاتا ہے وہ وزیر اعظم مودی کو بدنام کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔


ایسا لگتا ہے کہ مختار عباس نقوی کو 2020 میں دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں ہونے والے بدترین نوعیت کے فساد کا علم نہیں۔ یا پھر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ انھوں نے اس فساد کو معمولی سمجھا ہو۔ حالانکہ 23 سے 26 فروری تک ہونے والے اس فساد میں 52 افراد ہلاک اور 554 زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ شاید مختار عباس نقوی کے نزدیک جب تک سیکڑوں افراد ہلاک نہ ہو جائیں وہ فساد کوئی بڑا فساد نہیں ہوتا۔

حالانکہ دہلی پولیس نے جس کا کردار اس فساد کے سلسلے میں مشکوک بلکہ یکطرفہ رہا، 755 ایف آئی آر درج کی اور 62 گھناونے معاملات کی تفتیش کرائم برانچ نے کی۔ ان واقعات کے سلسلے میں 1829 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 533 مقدمات میں فرد جرم داخل کی گئی۔ فساد بھڑکانے کے الزام میں متعدد افراد اب بھی جیلوں میں ہیں اور ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ کئی بے قصور ملزموں کو اب جا کر ضمانت ملی اور انھیں جیل سے رہائی نصیب ہوئی۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سی اے اے کے خلاف تحریک چلانے کی سزا کے طور پر مسلمانوں کے خلاف یہ فساد بھڑکایا گیا تھا۔ لیکن شاید نقوی کو اس لیے یہ کوئی بڑا فساد نہیں لگا کہ اس میں متاثرین کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

اس کے علاوہ اگست 2020 میں شمال مشرقی بنگلور میں پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں توہین آمیز پوسٹ پر پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ جن میں تین افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 60 سے زائد زخمی ہوئے۔ شہر کے دو تھانے اس ہجومی تشدد کا نشانہ بنے۔ میڈیا کے کئی افراد بھی زخمی ہوئے۔ کچھ کو اسپتال میں داخلے کی ضرورت بھی پڑی۔ جبکہ کچھ لوگوں کو ہجوم کے غصے کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی لوگوں پر پولیس نے فسادات جیسی صورت حال کی فلم بندی کرتے ہوئے حملہ کیا۔


حالیہ دنوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے کتنے واقعات پیش آئے ہیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپریل میں رام نومی اور ہنومان جینتی کے جلوسوں کے دوران کئی ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا، جس میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں ایک مسجد کے سامنے جلوس کو روک کر ہنگامہ کیا گیا۔ اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے اور مسجد میں بھگوا جھنڈا لہرانے کی کوشش کی گئی۔ مسلمانوں کے احتجاج پر فساد برپا کر دیا گیا۔ دو روز کے بعد میونسپل کارپوریشن نے تجاوزات ہٹانے کے نام پر بہت سی دکانوں کو منہدم کر دیا، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ کرولی، کھرگون اور اب جودھپور کے فسادات کے بارے میں نقوی صاحب کیا کہیں گے۔ کیا یہ چھوٹے موٹے اور اکا دکا واقعات ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب نقوی نے ایسا دعویٰ کیا ہو۔ جولائی 2018 میں انھوں نے کہا تھا کہ 2014 سے 2016 کے درمیان کوئی بڑا فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ لیکن ان کا دعویٰ غلط پایا گیا۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو جو کہ فرقہ وارانہ واقعات کے متاثرین کی کل تعداد کا ڈیٹا ریکارڈ کرتا ہے، بتاتا ہے کہ پچھلے چھ سالوں میں، 2015 سے 2020 کے درمیان، 5,875 لوگ فرقہ وارانہ واقعات کا شکار ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ اس تعداد میں پچھلے سال 79.5 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ 2020 میں فرقہ وارانہ نوعیت کے 520 واقعات پیش آئے جن میں دہلی کا فساد سرفہرست تھا۔


اس طرح اگر دیکھا جائے تو اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کا دعویٰ سراسر بے بنیاد اور جھوٹا ہے۔ حکومت اس قسم کے بے بنیاد دعوے کرتی رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی اداروں اور ایجنسیوں کی جانب سے ہندوستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

گزشتہ دنوں امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایس جے شنکر اور راج ناتھ سنگھ کی موجودگی میں کہا تھا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور انسانی حقوق کی صورت حال خراب ہو رہی ہے جس پر امریکہ کو تشویش ہے اور وہ اس صورت حال پر باریکی سے نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایس جے شنکر نے دو روز بعد یہ کہہ کر ہندوستان کے ایک طبقے کو خوش کرنے کی کوشش کی کہ ہم کو بھی امریکہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تشویش ہے۔ اس سے قبل مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن نے مسلسل تیسری بار اپنی رپورٹ میں ہندوستان میں مذہبی آزادی کی خراب صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ہندوستان کو تشویش والے ملکوں کے زمرے میں رکھنے کی سفارش کی ہے۔


اس کے باوجود مختار عباس نقوی کہتے ہیں کہ 2014 کے بعد سے ہندوستان میں کوئی بڑا فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ واہ بھائی نقوی واہ!

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔