بی جے پی کی 300+ سیٹوں نے اتحادیوں کی نیند اڑائی، نتیش-پاسوان بھی پریشان

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار لوک سبھا انتخاب کے تین مراحل کی ووٹنگ تک بی جے پی سے دوری ظاہر کرتے رہے۔ لیکن 23 مئی کو آئے نتائج میں مودی کی زبردست فتح کے ساتھ ہی ان کے انداز بدل گئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

جمہوریت کی سوچ جس بہار کی زمین سے آئی، اسی زمین نے ایک بار پھر نیا پیغام دیا ہے اس لوک سبھا انتخاب میں۔ خاص مذہب کا یکمشت ووٹ اس بار کسی کے حق میں نہیں گیا اور ذات پات کا کوئی فارمولہ کام نہیں آیا۔ کل 40 سیٹوں میں سے صرف ایک کشن گنج پر کانگریس امیدوار کی کامیابی کو استثنائی شکل میں رکھا جا سکتا ہے، لیکن اس میں بھی نیپال سے ملحق اس علاقے تک ڈیولپمنٹ کا نہیں پہنچنا ایک بڑا فیکٹر مانا جا سکتا ہے۔

ویسے، جہاں تک نتیجہ کا سوال ہے تو اب بھلے ہی کوئی کچھ بول لے، لیکن ٹکٹ تقسیم کے بعد این ڈی اے کے لیڈر کو اتنی بڑی جیت کی امید نہیں تھی۔ اور اب جو عالم ہے اس میں اتحادی پارٹیوں کو بی جے پی سے سنبھل کر چلنا پڑے گا۔

جنتا دل یو نے اس لوک سبھا انتخاب میں دو طرح کا داؤ کھیلا تھا تو بی جے پی بھی اسی چکر میں تھی۔ جے ڈی یو کے دو اراکین پارلیمنٹ تھے، لیکن وہ بی جے پی سے 17 سیٹیں لینے پر بضد تھے۔ بی جے پی نے اپنی جیتی سیٹوں کو بھی چھوڑ کر جنتا دل یو کی بات رکھی۔ جنتا دل یو کی ضد اور بی جے پی کی قربانی، دونوں میں بڑا ’فارمولہ‘ تھا۔ ووٹروں نے ذات اور مذہب سے الگ ہو کر ووٹنگ نہیں کی ہوتی تو تصویر دوسری ہوتی۔ جنتا دل یو نے 17 سیٹوں میں سے صرف ایک کو وقار کا معاملہ مانا تھا، باقی پر اس نے بغیر من سے امیدوار اتارے تھے۔ بھاگلپور کے اجے منڈل اور جہان آباد کے چندریشور چندرونشی جیسے امیدواروں پر داؤ کھیلنا اس کا واضح ثبوت ہے۔

دوسری طرف بی جے پی نے بھی داؤ کھیلا تھا۔ جنتا دل یو کو 17 سیٹیں اس لیے دی تھیں تاکہ ’گٹھ بندھن دھرم‘ سے الگ ہو کر بھی نتیش اپنے 17 امیدواروں کی جیت کے لیے بھی محنت ضرور کریں گے اور ایسا نظر بھی آیا۔ نتیش نے شروعاتی تین مراحل میں بی جے پی سے الگ راہ لے رکھی تھی۔ جب انھیں خود جلسہ عام میں راشٹروادن کے نام پر حمایت ملنے کا احساس ہوا تو کھل کر ساتھ دینا شروع کیا۔

چانکیہ اسکول آف پالیٹیکل رائٹس اینڈ ریسرچ کے سربراہ سنیل کمار سنہا کہتے ہیں کہ لوک سبھا انتخاب میں بہار کی 40 میں سے 39 سیٹوں پر این ڈی اے کی بڑی کامیابی کو سنبھال پانا اتحاد کے لیے آسان کام نہیں ہوگا، کیونکہ مرکز میں تنہا بی جے پی ہی حکومت بنانے کی حالت میں ہے۔ بہار بی جے پی کے لیڈروں کو نتیش بھلے ہی سمجھ میں نہیں آتے ہوں لیکن وزیر اعظم نریندر مودی طریقے سے نتیش کو سمجھتے ہیں۔ نتیش کمار بھی اس بات کو سمجھتے ہیں تبھی ایگزٹ پول میں این ڈی اے کو لے کر ظاہر کیے اندازے کے ساتھ ہی سرگرم ہو گئے۔ 23 مئی کو این ڈی اے کی جیت کے ساتھ ہی جے ڈی یو کی جانب سے نتیش کی برانڈنگ کرنے والے نریندر مودی کے ساتھ والے پوسٹر بہت تیزی سے پٹنہ میں لگ گئے۔

ویسے صرف نتیش ہی نہیں، ایل جے پی کے لیے بھی اب این ڈی اے میں راہ آسان نہیں ہوگی۔ سیٹ تقسیم کے دوران ایل جے پی نے نتیش کی طرح ہی بی جے پی کو بہت پریشان کیا تھا۔ اب مرکز میں جس طرح بی جے پی تنہا حکومت بنانے کی حالت میں آئی ہے تو ایل جے پی کو پہلے کی طرح توجہ ملنا آسان نہیں ہوگا۔

بہار کے مشہور معلم اور ماہر معیشت ڈاکٹر نول کشور چودھری کہتے ہیں کہ اس انتخاب میں صرف نریندر مودی چہرہ تھے۔ عوام نے بھی واضح پیغام دیا کہ مرکز میں اسے کون چاہیے۔ چودھری اس بات کا جواب نہیں دینا چاہتے کہ این ڈی اے کے اندر اس سے کس طرح کی رسہ کشی ہو سکتی ہے، لیکن اس کا اشارہ ضرور صاف ہے کہ مودی کو لے کر عوام نے جس طرح کا مینڈیٹ دیا ہے اس کے بعد اتحادی علاقائی پارٹیوں کو سنبھل کر ہی چلنا ہوگا، ورنہ آر ایل ایس پی کی طرح ایک وقت انھیں بھی باہر کا راستہ دیکھنا پڑ سکتا ہے۔

(ششر کی رپورٹ)

next