اے محسن رضا! شرم تم کو کیوں نہیں آتی

خود کو ’ہندو‘ کہنے والے محسن رضا اپنے چاپلوسی والے بیان پر کئی بار سبکی کا سامنا کر چکے ہیں اور کئی بار تو یوگی جی نے ان کی کلاس بھی لی ہے، لیکن وہ ہیں کہ باز نہیں آتے۔

اتر پردیش کی یوگی حکومت میں اقلیتی امور کے وزیر محسن رضا کو ایک بار پھر اپنے بیان کی وجہ سے سبکی جھیلنی پڑی ہے۔ معاملہ مدرسہ میں ’ڈریس کوڈ‘ نافذ کیے جانے کے منصوبہ سے متعلق ہے۔ 3 جولائی کو انھوں نے ایک پرائیویٹ چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہہ تو دیا کہ یو پی حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ مدرسوں میں کرتا پاجامہ کی جگہ اب پینٹ شرٹ پہننے کو لازمی بنایا جائے گا تاکہ اسکول اور مدرسوں کے بچوں میں ظاہری طور پر کوئی فرق نظر نہ آئے، لیکن اس پر مسلم طبقہ میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ جیسے ہی مدرسوں میں پینٹ شرٹ لازمی بنائے جانے کی بات میڈیا میں پھیلی، یوگی حکومت ہی نہیں مرکز میں بھی ہلچل پیدا ہو گئی اور محسن رضا کو ایسا بیان دینے کے لیے سخت کھنچائی ہوئی۔ حتیٰ کہ مذہبی معاملات اور اقلیتی فلاح کے وزیر لکشمی نارائن چودھری نے میڈیا میں باضابطہ بیان دیا کہ ایسی کوئی بھی تجویز ریاستی حکومت کے زیر غور نہیں ہے۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ خود کو ’ہندو‘ کہنے والے محسن رضا اپنے اس طرح کے چاپلوسی والے بیان پر پہلے بھی کئی بار سبکی کا سامنا کر چکے ہیں اور کئی بار تو یوگی جی کی ناراضگی کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے لیکن ان کے اندر کا ’کیڑا‘ ہے کہ مانتا ہی نہیں۔ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں جب ’اتر پردیش صوبہ حج کمیٹی‘ کی دیوار پر بھگوا رنگ چڑھا دیا گیا تھا اور جب مسلمانوں نے اس قدم کی سخت مذمت کی تو جناب نے بھگوا رنگ کے قصیدے پڑھنے شروع کر دیے اور اس رنگ کو توانائی کی نشانی تک کہہ ڈالا۔ لیکن ہنگامہ بڑھتا دیکھ ایگزیکٹیو افسر اور حج کمیٹی کے سکریٹری آر پی سنگھ نے بھگوا رنگ چڑھانے کو ٹھیکیدار کی غلطی قرار دیا اور اس کے لیے ٹھیکیدار کو سزا دینے کا بھی اعلان کیا۔ اس وقت بھی محسن رضا کو شرمسار ہونا پڑا تھا اور یوگی جی نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کا قدم اور بیان پارٹی اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ہے اس لیے اپنی حد میں رہ کر کام کریں۔

یوگی جی کی ڈانٹ تو ’ہنومان بھکت‘ محسن رضا اس سے پہلے بھی کھا چکے ہیں جب وہ دیوالی کے موقع پر سریو ندی کے کنارے آرتی اتار رہے تھے۔ اس وقت اپنا ’ہندو پریم‘ ظاہر کرنے والے محسن صاحب کو وزیر اعلیٰ نے نہ صرف آرتی کرنے سے روکا تھا بلکہ یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ وہ ہندوؤں کا کام ہندوؤں کو کرنے دیں اور اپنا ’مسلم چہرہ‘ خراب نہ کریں ورنہ چند ایک مسلمان بھی جو بی جے پی کے ساتھ کھڑے ہیں وہ دور بھاگ جائیں گے۔ لیکن محسن جی نے تو جیسے شرم دھو کر پی لی ہے۔ اُن کا دل ہے کہ مانتا نہیں، خود کو ہندو کہے پھرتے ہیں، فیملی کے ساتھ مندر میں پوجا کرتے ہیں، ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگاتے ہیں... اور یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں۔ ایسا اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ جب بھی ان کا نام آتا ہے ان کا اقلیت مخالف بیان اور عمل ہی آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ عوام میں ان کے تئیں غم و غصہ کی لہر دیکھنے کو ملتی ہے۔ صرف ایسے ہی مسلمان ان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں جو اُن کی طرح چاپلوسی کرنا جانتے ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے وہ یوگی جی کی چاپلوسی کر کے اپنا سیاسی اُلّو سیدھا کرنے کی تاک میں لگے رہتے ہیں۔

یو پی میں مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ تو انھیں ’بُقّل نواب‘ کی فہرست میں ہی رکھتا ہے جو مسلمانوں کو ’بے وقوف‘ بنانے کے لیے بی جے پی کا’مسلم چہرہ‘ ہیں۔ لیکن یہ دونوں ہی چاپلوسی کی اس انتہا پر پہنچ چکے ہیں کہ اقلیتی طبقہ انھیں اپنا لیڈر ہی تصور نہیں کرتا۔ محسن رضا کا تازہ بیان ہی دیکھ لیجیے جس کا لوگ خوب مذاق اڑا رہے ہیں۔ انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مسلمانوں کا سب سے بڑا مخلص قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر وہ مسلمانوں سے نفرت کرتے تو کبھی داڑھی نہیں رکھتے۔‘‘

سب سے زیادہ مقبول