مودی جی! مظاہرین کے زخموں پر نمک پاشی کرنا بند کیجئے

ایک ایسی جماعت جو ترقی کے نام پر اقتدار میں آئی، لوگوں کا خیال تھا کہ وہ عوام کے دکھ درد سنے گی لیکن ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔

اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعظم نریند مودی نے لوگوں کی باتیں سننے کی کوشش شاید ہی کی ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کی حاضری بے حد کم رہی ہے اور انہوں نے حزب اختلاف کے ذریعے پوچھے گئے سوالات کے جوابات نہیں دیے۔انہوں نے 2014 کے بعد کبھی پریس کانفرنس سے خطاب بھی نہیں کیا۔

پھر بھی عجیب بات ہے کہ مودی نے 40 سال پہلے نافذ کی گئی ایمرجنسی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ المیہ یہ ہے کہ انہوں نے جمہوریت کو مضبوط بنانے کی بات کی، حالانکہ ان کی حکومت ہندوستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ استحصال کرنے والی حکومت ہے اور مودی حکومت صرف جمہوریت کے بارے میں ہی تذبذب میں نہیں ہے بلکہ وہ ترقی اور بہتری کے معنی سمجھنے میں بھی ناکام ہے جو انہوں نے 2014 کے انتخاب میں استعمال کئے تھے۔

تمل ناڈو کے توتیکورن میں ہوئی پولس زیادتی اس کی زندہ مثال ہے کہ مودی حکومت عوام کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔ واضح رہے کہ توتیکورن میں ایک پلانٹ کو بند کروانے کے لئے 13 لوگوں نے اپنی جان کی قربانی دی تھی۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہمیشہ سرگرم رہنے والے ہمارے وزیر اعظم، اس سانحہ پر خاموشی اختیار کئے رکھی۔

جب مرکزی وزیر نرملا سیتا رمن سےپوچھا گیا کہ وزیر اعظم نے پولس فائرنگ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیوں نہیں کیا تو انہوں نے کہا کہ ’’میں پوچھ کر بتاؤں گی۔‘‘ حالانکہ انہوں نے اس کے بعد بھی کچھ نہیں بتایا۔ البتہ احتجاج کرنے والوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے وزیراعظم نریند مودی نے اپنی ورزش کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کردی۔

اس ویڈیو کو شیئر کرنے کا مقصد لوگوں کو صحت مند طرز زندگی کی طرف راغب کرنا بتایا جارہا ہے، جبکہ توتیکورن کے لوگ لمبے عرصے سے احتجاج کر رہے تھے کہ ’کارسینوزنک‘ مواد جو اسٹرلائٹ کے ذریع خارج کیا جا رہا ہے اور جس سے ان لوگوں کی صحت خراب ہو رہی ہے، اس پر روک لگائی جائے لیکن اس پر وزیراعظم خاموش رہےاور اب بھی ہیں۔

توتیکورن میں آب و ‏ہوا کی آلودگی کے نتیجہ میں گاؤں کے لوگوں کو کینسر، جلدی بیماریاں، بانجھ پن اور اسقاط حمل جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ سب ترقی کے نام پر ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وزیراعظم اپنی خاموشی توڑیں آخر کتنے لوگوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا، سوال یہ بھی ہے کہ توتیکورن کے لوگ کتنے سالوں تک یوم سیاہ مناتے رہیں گے، کیا وہ بھوپال سانحے جیسے کسی سانحہ کے انتظار میں ہیں!

‏ وزیراعظم کے قریبی مانے جانے والے بابا رام دیو اور جگ گی واسودیو جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ " بڑے پیمانے پر ہونے والے کاروبار پر حملہ کرنا معشیاتی خودکشی ہوگی، کیونکہ ہندوستان میں تانبے کا استعمال بہت ہے اگر ہم خود تانبا پیدہ نہ کریں تو ہمیں چین سے خریدنا ہوگا"

‏سوشل میڈیا پر کئی لوگ اس خیال کے حامی ہیں کہ ہندوستان کو خودمختار بننا ہی ہوگا تا کہ ہم مضبوط بن سکیں ۔وہ یہ سمجھنے میں ناکام ہیں کی خودمختاری عالمگیریت کے اس دور میں پوری طرح ممکن نہیں ہے ۔صرف شمالی کوریا اور اس جیسے ممالک ہی اسے حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔اگر ہم ملک کا مفاد دیکھیں تب بھی چین سے تانبا درآمد کرنا ہی بہتر ہوگا کیونکہ ہمارے ماحولیات کی دولت بچانے میں مدد کرینگے ۔ بالکل یہ ایک ہمدردانہ سوچ ہے کیونکہ ماحولیات کی خرابی سے جو تباہی آئےگی وہ کوئی قومی یا سیاسی سرحد نہیں جانتی۔

اگر وزیراعظم سچ میں جمہوریت کو بچانا چاہتے ہیں تو انہیں لوگوں کی پریشانیوں کو دیکھنا ہوگااور ان کا حل ڈھونڈنا ہوگا۔ ورزش کی ویڈیو شیئر کرناٹھیک ہے ،لیکن حکومت کو درپیش مسائل سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہیے ۔ حکومت لوگوں کی حفاظت اور مستقبل کو نظرانداز نہیں کر سکتی ، خاص طور سے تب جبکہ وہ غریب اور حاشیہ پر ہیں ۔ ترقی صرف شہروں کی شاندار عمارتوں میں ہی نہیں ہے، اصل ترقی سب کو ساتھ لے کر چلنے میں ہے۔

سب سے زیادہ مقبول