سیاسی

مودی جی! عوام کو اب سب کچھ سمجھ آ گیا ہے 

ضمنی انتخابات کے نتائج سے بی جے پی کو سمجھ لینا چاہئے کہ اقتدار گجرات کے جھوٹے ترقیاتی ماڈل کے ذریعہ حاصل تو کیا جا سکتا ہے لیکن جھوٹ کے سہارے زیادہ دن اقتدار میں برقرار نہیں رہا جا سکتا۔

تصویر سوشل میڈیا

سید خرم رضا

سال 2014 میں بی جے پی بدعنوانی کو ملک کاا تنا بڑا مدا بنانے میں کامیاب ہو گئی تھی کہ اس مدعے نے یو پی اے کے تما م اچھے کاموں پر پانی پھیر دیا تھا اور عوام کو محسوس ہوا تھا کہ بس اب ہمارا ملک صرف بدعنوانی سے ہی پاک نہیں ہوگا بلکہ نریندر مودی کی قیادت میں دنیا کا سب سے طاقتور ترین ملک بن کر ابھرے گا۔ اس خواب کو بیچنے کے لئے ہر شہری کے کھاتے میں 15 لاکھ آنے کا وعدہ، ہر سال دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ ، کسانوں کو ان کی پیدوار کی ایسی قیمت دینے کا وعدہ کہ ان کی زندگی بدل جائے، خواتین کے لئے جرائم سے پاک محفوظ ماحول دینے کا وعدہ ، فوجیوں کو ون مین ون رینک پنشن دینے کا وعدہ کیا گیا۔یعنی سماج کے ہر طبقے کی تھالی میں وعدوں کو ایسے پروسا گیا کہ بیچاری عوام کو یہ خواب حقیقت لگنے لگے ۔ عوام نے ان وعدوں پر مودی کی قیادت والی بی جے پی کو راجیو گاندھی کے بعدسب سے زیادہ سیٹیں دے کر ایوان میں مکمل اکثریت دی تاکہ کام نہ کرنے کے لئے اتحادی کے دباؤ والا بہانہ بھی نہ رہے ۔اس کے بعد عوام نے ریاستوں میں بھی اس پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا اور پھر تین سال تک ان وعدوں میں سے کچھ پورا کرنے کی مہلت بھی دی لیکن عوام کو حکومت کی جانب سے نوٹ بندی کی شکل میں ایک فیصلہ ملا جس نے ان کی جمع پونجی، ان کے کاروبار اور ان کے بجٹ کو تباہ کر دیا۔ ساتھ میں وہ اپنے ہی پیسوں کے لئے گھنٹوں بینکوں کے باہر لائنوں میں لگے ۔

اس فیصلے کے بعد سے عوام کے کچھ طبقے نے حقیقت کو دیکھنا اور سمجھنا شروع کیا۔ پھر اس کے بعد سارے معاملے میں رائے دینی شروع کی۔ اس کے بعدہلکے ہلکے حکومت سے سوال پوچھنے شروع کئے اور اب ان سوالوں کے بعد غصہ کا اظہار بھی کرنا شروع کر دیا ہے ۔ اس لئے آنے والا وقت بی جے پی کے لئے مزید پریشانیاں پیدا کر سکتا ہے ۔

اب عوام اور سیاسی پارٹیوں کو بھی سب کچھ سمجھ آنے لگا ہے اور دونوں نےاپنے بہتر مستقبل کے لئے اپنی حکمت عملی تیار کرنی شروع کر دی ہے ۔ دراصل سال 2014 کے نتائج سے اتنا بڑا دھماکہ ہوا تھا کہ سیاسی پارٹیاں ااور عوام دونوں ہی اس دھماکہ کی آواز اور دھوئیں سے اتنی حواس باختہ ہو گئی تھیں کہ ان کے ذہن بالکل ماؤف ہو گئے تھے اور ان کو اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔ خود ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کانگریس کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آگے کا راستہ کیا ہوگا لیکن جیسے جیسے دھول اوردھواں بیٹھنے لگا اور تصویر صاف ہونے لگی ویسے ویسے تمام سیاسی پارٹیوں نے خود کو یکجا کیا اور لڑائی کے لئے میدان میں اترنا شروع کر دیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے حزب اختلاف کا ایک ایسا محاذ تیار ہوا کہ بی جے پی جیت کر بھی ہارنے لگی۔

کرناٹک میں ہم نے دیکھا کہ حزب اختلاف نے بی جے پی کو اس کے ہی جال میں پھنسا کراسے دھول چٹائی۔ عوام نے بھی اپنے آپ کو یکجا کیا اور کیرانہ سے پیغام دیا کہ اگر ہمیں تقسیم کرکے کوئی اقتدار حاصل کر سکتا ہے تو ہم اس کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے متحد بھی ہو سکتے ہیں اورکیرانہ میں عوام کے ہر طبقہ نے ایک مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ اس لئے بی جے پی کو سمجھ لینا چاہئے کہ اقتدار گجرات کے جھوٹے ترقیاتی ماڈل کے ذریعہ حاصل تو کیا جا سکتا ہے لیکن جھوٹ کے سہارے زیادہ دن اقتدار میں برقرار نہیں رہا جا سکتا۔ بی جے پی کو اب زمینی سچائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کو جواب دینا پڑے گا کہ اس نے کون سے اچھے دنوں کا وعدہ کیا تھا ۔ کیا وہ اچھے دن عوام کے لئے تھے یا پھر چند کارپوریٹ گھرانوں کے دوستوں کے لئے تھے۔