اِتنے دیوانے کہاں سے مرے گھر میں آئے... سہیل انجم

ذرا دیکھیے کہ کس شخصیت کا نام لے کر قتل و خون کی یہ روایت رقم کی جا رہی ہے۔ ’مریادا پرشوتم رام چندر‘ کے نام پر جن کو مسلمان بھی اسی طرح ایک عظیم شخصیت مانتے ہیں جس طرح ہندو مانتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سہیل انجم

جب چھ دسمبر 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد منہدم کر دی گئی تو ملک کے انصاف پسند طبقات گہری سوچ میں مبتلا ہو گئے تھے۔ لیکن ان کو یہ امید بھی تھی کہ یہ ماحول ختم ہو جائے گا اور ملک ایک دن پھر اپنے روایتی اور تاریخی کلچر کو اپنا لے گا جس میں بقائے باہم کے نظریہ کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ کچھ دنوں کے بعد حالات کچھ بہتر ہوئے بھی لیکن اب ایک بار پھر تقسیم پسند عناصر کو طاقت حاصل ہو گئی ہے اور بقائے باہم کے نظریے میں یقین رکھنے والے کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔

بابری مسجد کے انہدام سے پریشان اور ملک میں تخریبی عناصر کی سرگرمیوں کو عروج حاصل ہونے سے تشویش زدہ ملک کے معروف شاعر کیفی اعظمی نے ’’دوسرا بن باس‘‘ کے زیر عنوان ایک نظم کہی تھی جس کا آغاز انھوں نے ان اشعار سے کیا تھا:

رام بن باس سے جب لوٹ کے گھر میں آئے

یاد جنگل بہت آیا جو نگر میں آئے

رقص دیوانگی آنگن میں جو دیکھا ہوگا

چھ دسمبر کو شری رام نے سوچا ہوگا

اتنے دیوانے کہاں سے مرے گھر میں آئے

دوسری مدت کے لیے مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد جس طرح ایک بار پھر شرپسند عناصر کے حوصلے بلند ہیں اس کے پیش نظر کیفی اعظمی کی یہ نظم شدت سے یاد آرہی ہے۔ آج پھر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ’’اتنے دیوانے کہاں سے مرے گھر میں آئے‘‘۔ یہ ملک پہلے تو ایسا نہیں تھا کہ کسی سے اس کے مذہب کے برعکس نعرہ لگوایا جائے اور وہ نہ لگائے تو اس کو پیٹ پیٹ کر مار دیا جائے۔

اور پھر ذرا دیکھیے کہ کس شخصیت کا نام لے کر قتل و خون کی یہ روایت رقم کی جا رہی ہے۔ مریادا پرشوتم رام چندر کے نام پر جن کو مسلمان بھی اسی طرح ایک عظیم شخصیت مانتے ہیں جس طرح ہندو مانتے ہیں۔ مسلمان بھی ان کا ویسے ہی احترام کرتے ہیں جیسے کہ ہندو کرتے ہیں۔ یہاں تک علامہ اقبال نے انھیں ’’امام ہند‘‘ کے لقب سے ملقب کیا ہے۔ اس کے باوجود مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر ان کے نام پر مارا جا رہا ہے۔

اس صورت حال سے ملک کے سیکولر طبقات شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ نوبیل انعام یافتہ دانشور پروفیسر امرتیہ سین نے بھی اس پر اظہار تشویش کیا ہے۔ انھوں نے بجا طور پر کہا ہے کہ آج رام کے نام پر لوگوں کو پیٹا جا رہا ہے اور مارا جا رہا ہے۔ حالانکہ انھوں نے یہ بات مغربی بنگال کے تناظر میں کہی ہے لیکن اس کا اطلاق پورے ملک پر ہو رہا ہے۔ انھوں نے اگر چہ یہ کہا ہے کہ یہ مغربی بنگال کا کلچر نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ملک کے کسی بھی حصے کا کلچر نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ہمیں مذہب، ذات پات یا فرقے کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم نہیں کرنا چاہیے اور جو یہ امتیازی رویہ ہے، یہ ختم ہونا چاہیے۔ جب کسی شخص سے کہا جاتا ہے کہ تم فلاں نعرہ لگاؤ اور وہ نہیں لگاتا تو اس کی پٹائی کی جاتی ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کا وہ کلچر نہیں ہے جس پر ہمیں فخر تھا۔ حالانکہ انھوں نے حالیہ واقعات کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے لیکن وہ ان واقعات سے ضرور پریشاں خاطر ہیں جبھی انھوں نے ایسا بیان دیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جب کسی فرقے کا کوئی شخص گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈرے تو یہ صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ انھوں نے مغربی بنگال کے تناظر میں کہا کہ ہندو مہا سبھا نے بھی ایک بار ریاست میں لوگوں کو بانٹنے کے لیے یہی نعرہ یعنی جے شری رام کا نعرہ رائج کیا تھا۔ اب اسی مقصد سے ایک بار پھر یہی نعرہ رائج کیا جا رہا ہے۔

پروفیسر امرتیہ سین تنہا وہ شخص نہیں ہیں جو جے شری رام کے نعرے کے سیاسی استعمال کے خلاف ہیں۔ بلکہ ملک کا ہر انصاف پسند اور سیکولر شخص اس کے خلاف ہے۔ لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس نے اسے ایک ہتھیار کے طور پر اختیار کیا ہوا ہے۔ اس ہتھیار کا استعمال پارلیمنٹ میں بھی کیا گیا اور سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے بھی کیا گیا۔

ایک اور دانشور پروفیسر اپوروانند اسے لسانی قتل عام کہتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نعرہ اب نعرہ نہیں رہ کر ایک ہتھیار میں تبدیل ہو گیا ہے۔ انھوں نے پارلیمنٹ میں حلف برداری کی مثال پیش کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اس رجحان کے خلاف کھڑے ہونے کی اپیل کی۔

جب پارلیمنٹ میں جے شری رام کا نعرہ لگے گا تو ظاہر ہے ان لوگوں کے حوصلے بلند ہوں گے جو اس نعرے کی آڑ میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کیفی اعظمی نے اپنی نظم میں رام چندر جی کی زبانی کہلوایا ہے کہ:

چھ دسمبر کو ملا دوسرا بن باس مجھے

لیکن اب تو صورت حال اس سے کہیں آگے تک جا چکی ہے۔ اب رام چندر جی کو بن باس پر بھیجنے کے لیے چھ دسمبر کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ انھیں روزانہ ہی بن باس پر بھیجا جا رہا ہے۔

کیا یہ صورت حال بدل سکتی ہے۔ ضرور بدل سکتی ہے بشرطیکہ ملک کے انصاف پسند اور سیکولر طبقات ان تنگ نظر عناصر کے خلاف جو کہ مذہب اور دھرم کی آڑ میں انسانوں کو تقسیم کر رہے ہیں، اٹھ کھڑے ہوں اور ان کے خلاف بغاوت کر دیں۔

حالانکہ یہ آسان نہیں ہے۔ ان عناصر کو بہت زیادہ قوت حاصل ہو گئی ہے۔ حکومت ان کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ اس خیال کے حامی ہیں کہ ہمیں وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔ یہ ایک عارضی مرحلہ ہے جو کہ کسی نہ کسی دن ختم ہو جائے گا۔

ممکن ہے کہ ایسی سوچ رکھنے والے صحیح ہوں اور ہمیں وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ خدشہ بھی ہے کہ وقت کا انتظار کہیں مہنگا نہ پڑ جائے اور وہ وقت آئے ہی نا۔ کیونکہ فاشسٹ قوتیں جس طرح اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کر رہی ہیں اور حزب اختلاف کی جماعتیں جس طرح منتشر اور بے حوصلہ ہو گئی ہیں وہ تشویش کا باعث ہے۔

Published: 7 Jul 2019, 9:10 PM