مودی حکومت کو معاف نہیں کرے گا ہندوستان!... نواب علی اختر

جب عالمی ادارے یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ہندوستان کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہو رہا ہے تو اس پر غور کرنا موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

قومی راجدھانی دہلی میں گزشتہ ہفتے ہوئے بھیانک فسادات اور تشدد نے ہندوستان کے ساتھ ہی تقریباً پوری دنیا کو متفکر کر دیا ہے۔ وطن عزیز میں یہ تشویش پیدا ہوگئی ہے کہ آخر ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیوں ہمارے ملک میں ایسے حالات پیدا کر دیئے گئے ہیں کہ مذہب کے نام پر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مرنے مارنے پرآمادہ ہیں اور جائیداد و املاک کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے، شہر کا امن و امان ختم کردیا گیا ہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر کرکے رکھ دی گئی ہے۔ ان حالات سے واضح طور پر بین الاقوامی سطح پرہندوستان کے وقا رکو نقصان پہنچاہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ممالک جو ہندوستان کے ساتھ تاریخی روابط کے لیے جانے جاتے ہیں، آج وہ بھی یہاں کے فرقہ وارانہ ماحول پرانگشت نمائی کر رہے ہیں مگر مودی حکومت اپنے طاقت کے زعم میں کسی کی بھی تنقید سننے کو تیار نہیں ہے اور ’ہرمعاملے‘ کو ہندوستان کا داخلی معاملہ بتا کر اپنی کھال بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

متنازعہ شہریت قانون کے خلاف ہندوستان کے مختلف حصوں میں ہونے والے پرامن دھرنے اورمظاہروں کو دبانے کے لئے بی جے پی اور اس کی پروردہ بھگوا تنظیموں نے تمام طرح کے ہتھکنڈے اپنا لیے مگر انہیں ہر بار منہ کی کھانی پڑی یہاں تک کہ شاہین باغ خاتون مظاہرین کو پیسے لے کردھرنے پربیٹھنے کا جھوٹ ہو یا جامعہ کے طلباء پر فائرنگ،تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد بھگوا بریگیڈ اپنی موت آپ مرنے والی تھی کہ نفرت کا دھندا کرکے سیاست کی دکان چلانے والوں نے شمال مشرقی دہلی کا انتخاب کیا اورشرپسندوں کو کام پرلگا دیا۔ بی جے پی کے کپل مشرا وہاں پہنچے اورزہرافشانی کرکے بالواطہ طورپرفسادیوں کی حوصلہ افزائی کی جس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد امن اورمیل جول کے لیے مشہور دہلی جل اٹھی۔ تقریباً پانچ روزتک چلے فساد میں درجنوں معصوم لوگوں کی جان چلی گئی اوربے شماراملاک کو نقصان ہوا۔ان سب کے باوجود حکومت اپنی ہٹ دھرمی پرقائم رہی۔

ایسا لگتا ہے کہ پڑوسی ممالک کے اقلیتوں کی خیرخواہی کا دم بھرنے والی مرکزکی مودی حکومت ہندوستان کے اقلیتوں کی دشمن بن گئی ہے ورنہ کیا وجہ تھی کہ دہلی کا امن وامان غارت کرنے والے بی جے پی لیڈروں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ کپل مشرا کی اشتعال انگیزی سے فساد بھڑکنے تک دہلی پولس ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ خود مرکزی حکومت جس کے کنٹرول میں دہلی کی پولس کام کرتی ہے، نہیں چاہتی تھی کہ حالات کو معمول پر لایا جائے یا امن کو متاثر کرنے اور حالات کو بگاڑنے والوں کے خلاف واقعی کوئی کارروائی کی جائے۔عدالت میں ظاہر کئے گئے موقف سے تو یہی اشارے ملتے ہیں کہ مرکزی حکومت خود بھی کوئی کارروائی کرنا نہیں چاہتی۔

دہلی کے فسادات نے مودی حکومت پرخواہ کوئی اثرنہ کیا ہو مگر بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی شبیہ کو جو نقصان ہوا ہے اس کے لئے ملک کے عوام اسے کبھی معاف نہیں کریں گے۔ مرکز کی بی جے پی حکومت نے عالمی سطح پر ہندوستان کے وقار کو ٹھیس پہنچایا ہے۔ سفارتی امور میں اس کی بچکانہ باتیں اور اندرون ملک سیاہ قوانین لانے کے فیصلے آج ساری دنیا میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ یہ حکومت اپنے فیصلوں کو درست ٹھہراتی ہے جب کہ ہندوستانی عوام اور بیرون ملک سربراہان مملکت سے لے کر عام شہریوں نے سی اے اے ، این آر سی کے خلاف سخت ردعمل کا اظہارکیا ہے مگرمودی حکومت ہر ردعمل اور تنقید کو ہٹ دھرمی کے ساتھ مسترد کر رہی ہے۔ مودی حکومت سمجھتی ہے کہ وہ جو کر رہی ہے وہ اس کا داخلی معاملہ ہے اس لئے اس پر کوئی انگلی نہ اٹھائے اور اگر کسی ملکی یا غیرملکی نے اس کے فیصلے کے خلاف آواز اٹھائی تو اس کو اسی کی زبان میں ’سزا‘ دی جائے گی۔

ایران نے متنازعہ شہریت اور دہلی فسادات پر تنقید کی تو وزارت داخلہ نے ایران کے سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا۔ ملیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتر محمد نے سی اے اے پر تنقید کی تواس کے ساتھ پام آئیل معاہدہ ختم کردیا گیا۔ یوروپی یونین نے سی اے اے کے خلاف قرار داد لانے کی کوشش کی لیکن مودی حکومت نے اپنے دوست کچھ ملکوں کو لے کر ’وضاحت‘ کی تو یوروپی یونین کوقرار داد لانے کے فیصلہ کو مؤخر کرنا پڑا۔ اسی طرح اب سی اے اے کے خلاف ہندوستان میں جاری احتجاج اور اس قانون نے انسانی حقوق کی پامالی کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے سی اے اے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دے کر انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین، عالمی اقدار اور انصاف کے معیار کے مطابق سی اے اے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عالمی سطح پر جب مودی حکومت کو اس قدر تنقیدوں کا سامنا ہے تو اسے اپنے متنازعہ فیصلوں پر نظر ثانی کرنا چاہیے مگر حکومت کا رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے منصوبہ کو بہر صورت روبہ عمل لانے کا تہیہ کرلیا ہے۔ ہندوستانی اقلیتوں کو ان کے ہی ملک میں بے وطن کردیا جائے تو پھر حالات کی ابتری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ دہلی اور ملک کے دیگر حصوں میں سی اے اے کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں۔ ایسے موقع پر اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کا سپریم کورٹ سے رجوع ہونا ایک غیر معمولی کارروائی ہے۔ ہندوستان کی سفارتی تاریخ میں یہ ایک منفرد قدم ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے ہندوستان کی عدالت عظمیٰ میں درخواست داخل کی ہے۔ وزارت خارجہ نے سی اے اے کو دستوری قرار دے کردلیل دی ہے کہ یہ قانون تقسیم ہند کے سانحہ سے اٹھنے والے انسانی حقوق کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہی لایا گیا ہے۔ وزارت خارجہ کا ادعا اور اقوام متحدہ کی مداخلت کے درمیان ایک سفارتی عدم اطمینانی پائی جاتی ہے۔ جب عالمی ادارے یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ہندوستان کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہو رہا ہے تو اس پر غور کرنا موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

next