کھیل کو ’کھیل‘ سمجھتی ہے مودی حکومت!

ناتجربہ کاری کا عالم یہ ہے کہ پی ایم مودی نے وزیر کھیل سے پوچھا جو بچے تربیت حاصل کر رہے ہیں انہیں کیا ’پاکٹ منی‘ ملتی ہے۔ جواب نفی میں ملا تو حکم ہوا کہ سبھی کو 50 ہزار روپے ماہانہ جیب خرچ دیا جائے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

جب کسی حکومت کے سربراہ کو کسی اہم موضوع کی کوئی خاص واقفیت نہ ہو تو ان حالات میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا جب وزیراعظم نریندر مودی نے اولمپکس کی میزبانی کے لئے ہندوستان کا نام تجویز کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن خیریت یہ ہوئی کہ کچھ ہوش مند لوگوں نے انہیں اس سے باز رکھا۔

بہرحال جب کھیل میں کوئی اہم جیت حاصل ہوتی ہے تو وزیراعظم مسرت کا پیغام بھیج کرہمیشہ تہنیت پیش کرنے والوں میں سبقت حاصل کرنے کی فراق میں رہتے ہیں اور اگر کسی بڑے ٹورنامنٹ کے دوران کوئی اہم کھلاڑی مضروب ہوجائے تو فکرمندی کا اظہار بھی کرتے ہیں، لیکن اس قسم کے متفرق اظہار سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ مختلف کھیلوں کے بارے میں انہوں نے کیا مکمل واقفیت حاصل کرلی ہے۔ یہاں یاد دلانا ضروری ہے کہ بہت بڑی بڑی رقومات کا صرفہ کرنے کے باوجود اولمپک گیمس میں ہندوستان کی کارگزاری بے حد مایوس کن رہی تھی۔

مئی 2014ءمیں جب نریندرمودی نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تو انہوں نے آسام کے نوجوان بی جے پی لیڈر سربانند سونووال کو اپنی حکومت میں کھیل کا وزیر بنا دیا۔ اسی اثنا میں معلوم ہوا کہ آسام اسمبلی کے الیکشن کے لئے پارٹی کو ایک عدد رہنما کی ضرورت ہے چنانچہ اس کے لئے سونووال کو موزوں قرار دیا گیا۔ وہ آسام گئے تو ان کو اندازہ ہوا کہ حکومت کا تاج ان کا انتظار کر رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پھر وہ دہلی واپس نہیں آئے۔ کھیل کا معاملہ یوں ہی پڑا رہا-

وزیراعظم نے کچھ عرصہ کے بعد راجستھان کے کرنل راجیہ وردھن سنگھ راٹھور کو کھیلوں کا وزیر بنایا۔ انہوں نے اولمپک میں شوٹنگ مقابلہ میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ بہرحال انہوں نے آتے ہی کچھ کام کیا جس میں ”کھیلو انڈیا“ کے نام سے ایک تحریک بھی شامل ہے۔ مختلف مراکز پر ہزاروں نوجوان کھیل کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

ناتجربہ کاری کا عالم یہ ہے کہ ایک بار وزیراعظم نے راٹھور سے پوچھا کہ جو بچے تربیت حاصل کر رہے ہیں انہیں ’پاکٹ منی‘ بھی ملتی ہے۔ جواب نفی میں ملا تو حکم ہوا کہ ہر زیر تربیت بچہ کو پچاس ہزار روپئے ماہانہ جیب خرچ دیا جائے۔ نوجوانوں کو ان کی ضرورت سے زیادہ رقم مل رہی تھی، ایسی صورت میں جیب خرچ کا کیا جواز تھا۔ پھر 2019 کا الیکشن آیا اور نئے وزیروں کا انتخاب ہوا تو یہ معلوم کرکے حیرت ہوئی کہ راٹھور کو کھیل وزیر نہیں بنایا گیا بلکہ یہ کام ایک نوعمر وزیرکرن رجیجو کے سپرد ہوا ہے۔ غالباً ان کو کھیل کا کوئی تجربہ نہیں ہے، ان کے جو بھی بیان جاری ہوتے ہیں اور جن کا تذکرہ ریڈیو پر ہوتا ہے ان کو اخبارات اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں کوئی اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ نئے کھیل وزیر کیا سوچ رہے ہیں یا وہ کس منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔

یہاں ایک بہت اہم مسئلہ کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں، وہ یہ کہ کھیل میں پھرتی اور طاقت بڑھانے کے لئے بہت سی دوائیں (Drugs) بازار میں آگئی ہیں۔ زیر تربیت کھلاڑی بھی ان کا خوب استعمال کر رہے ہیں لیکن کبھی نہ کبھی اصل خطرہ کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہر مقابلہ میں کھلاڑی کے پیشاب کے نمونے لئے جاتے ہیں جس سے پتہ چل جاتا ہے کہ نشہ والی دوا استعمال کی گئی ہے یا نہیں۔ اسے Dope Test کہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے ریڈیو اسٹیشن سے ایک جہاں دیدہ شخص کا ایک انٹرویو نشر ہوا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ کھیلوں میں سبقت لے جانے کے لئے مغربی ممالک کیسے کیسے ہتھکنڈے اختیار کر رہے ہیں۔ اس لئے ہندوستان کو اس کے بارے میں چوکنا رہنا چاہیے۔ کھیل کے منتظمین کواس بات سے آگاہ رہناچاہیے۔ کھیل کیمپوں کے ٹرینروں سے زیر تربیت نوجوان بار بار یہی سوال کرتے ہیں کہ ایسی دوا (Drug) بتائیں جو فائدہ مند بھی ہو اور جس کا پتہ بھی نہ چلے لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔ اب بنگلور سے موصول خبر میں بتایا گیا ہے کہ ’ڈوپ ٹسٹ‘ سے بچنے کے لئے اتھیلٹ کیمپوں سے فرار ہوگئے ہیں۔

حال ہی میں اتھلیٹکس فیڈریشن آف انڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مختلف ریاستوں میں چلنے والے اس کے کیمپ ڈرگس کی لعنت سے پاک ہیں لیکن مبینہ نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے افسران جب جانچ کے لئے پہنچے تو کئی مشہور اتھیلٹ عجلت میں کیمپ چھوڑ کر چلے گئے کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ کہیں ان کی بھی جانچ نہ ہو۔ اس سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ چوٹی کے کئی لاپتہ اتھیلٹوں میں ایک بین الاقوامی اتھیلٹ بھی شامل ہے۔ ایک کیمپ سے تین اتھیلٹ جن میں ایک خاتون شامل تھی، غائب ہوگئے۔

چنانچہ اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا نے ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بین الاقوامی شہرت کا جو اتھیلٹ فرار ہوا ہے اس پر وجہ بتاﺅ نوٹس کی تعمیل کی کارروائی کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔ اینٹی ڈوپنگ ٹسٹ سے متعلق افسر چیکنگ کے لئے اس وقت آئے جب یہ خبر معلوم ہوئی کہ عورتوں کی آٹھ سو میٹر دوڑ کی چمپئن گومتی ڈوپنگ ٹیسٹ میں فیل ہوگئی ہے۔ ایک دو کیمپ میں لڑکوں نے ماہ رمضان کا عذر پیش کیا تھا لیکن ان کے ساتھ کی لڑکی کے پاس چونکہ کوئی عذر نہیں تھا اس لئے اسے کیمپ سے نکال دیا گیا۔