مودی حکومت کاغریب مزوروں کے ساتھ دھوکہ!... نواب علی اختر

ایسے میں حکومت اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرے تو پھر پریشان حال غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک دیانتدارانہ پالیسی بناکر ہر ایک کے لیے کام آنے والے اقدامات کرے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

ایک مشکل گھڑی میں مرکز کی مودی حکومت کی جانب سے عوام کی بہتر سے بہتر مدد کرنے کے بجائے قرض دینے اور دیگر طریقوں سے رقومات فراہم کرنے کے اقدامات کرنا سراسر پریشان حال عوام کو مزید پریشان کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت اپنے فیصلوں کے ذریعہ یہ اطمینان دلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اسے لاک ڈاؤن کے باعث عوام پر گزرنے والی مصیبتوں کا احساس ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ہندوستان میں لاک ڈاؤن کا چوتھا مرحلہ شروع ہونے کے باوجود ایک طرف کورونا وائرس تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ اپنے نوکیلے پنجے گاڑتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف لاکھوں مزدور اب بھی پیدل چل کر اپنی منزل پر پہنچنے کی کوششوں میں ہیں۔ ہلاکتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایسی سنگین صورتحال کے پیش نظر حکومت کوئی حفاظتی اقدامات کرنے سے قاصر ہے۔

لاک ڈاؤن کے سبب بے شمار عوامی مسائل اور پیدل ہی اپنے گھروں کے لیے نکل پڑے مہاجر مزدوروں کی سڑک حادثوں میں اموات جیسے ہنگاموں کے درمیان ہی چند روز قبل وزیر خزانہ نرملا سیتارمن لاک ڈاؤن کے باعث پریشان عوام کے ہاتھ میں پیسہ دینے کا اعلان کرتی ہوئی نظر آئیں۔’آتم نربھر بھارت‘ پیکیج کے ذریعہ عوام کو با اختیار بنانے خاص کر ضرورت مند افراد کی مدد کرنے کے لیے حکومت نے ابتدائی طور پر رقم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

آخرکارحکومت کو اب کورونا بحران کے دیرینہ معاشی سنگینیوں کا احساس ہوا ہے لیکن غریبوں تک حکومت کی امداد کب پہنچے گی یہ یقین سے کہا نہیں جاسکتا، لیکن حالیہ یکے بعد دیگرے معاشی پیکیج کے اعلانات کے باوجود عوام کے ہاتھ خالی ہی ہیں۔ وزیرخزانہ کا کہنا ہے کہ عوام کے ہاتھوں میں یہ رقم مختلف شکلوں میں پہنچائی جائے گی۔

اس درمیان کانگریس پارٹی نے حکومت کے معاشی پیکیج کو ’ساہو کاروں‘ جیسا رول ادا کرنے والا اقدام قرار دیا ہے۔ حکومت کی کارکردگی اور حالیہ اقدامات پر کانگریس نے مؤثر احاطہ کیا ہے۔ ایک اپوزیشن کے طور پر کانگریس نے حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ناکامیوں اور نادانیوں کی جانب توجہ دلائی ہے لیکن بی جے پی کے قائدین ایک تعمیری اور عملی تجویز کو قبول کرنے کی عادت سے محروم ہیں۔ اس لیے انہوں نے کانگریس پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی کے ہر بیان میں خرابی نکالتے ہوئے اپنی حکومت کی خرابیوں پر پردہ ڈالنے کی عادت بنالی ہے۔

وزیراعظم مودی کی ناکامیوں کو اس ملک کی تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ لاکھوں مہاجرمزدوروں نے مودی کی کارکردگی کو سب سے زیادہ بہتر سمجھا ہے اور اب یہ غریب مزدور محسوس کر رہے ہیں کہ مودی حکومت نے ان کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ کیا ہے۔ ہر انتخابات کے وقت جنت کے خواب دکھانے والے نریندر مودی نے برے وقت میں یعنی اچھے دن لانے کا جھانسہ دے کر برے دن دکھائے ہیں۔

ملک بھر میں جاری اس بحران سے نمٹنے کے لیے مودی حکومت نے کارپوریٹ گھرانوں کو اولین ترجیح دی ہے اور غریب کی مدد کرنے کے نام پر صرف ’لون میلہ‘ پیکیج کا جھانسہ دیا گیا۔ وزیر اعظم مودی نے عوام کو بہتر سے بہتر راحت فراہم کرنے کا نظام رائج کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا لیکن ان خراب حالات میں بھی ملک کی دولت کی لوٹ کھسوٹ کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا جارہا ہے۔ کورونا وائرس کی وباء کے دوران یہ بات واضح طور پر نظر آئی ہے کہ سرکاری نظام اس وباء کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔ متوسط اور چھوٹے تاجروں نے وزیراعظم مودی کے معاشی پیکیج پر مایوسی کا اظہار کیا۔ ملک کا تاجر طبقہ برہم ہے کہ حکومت کے راحت معاشی پیکیج میں اس کو نظر انداز کر دیا ہے۔

لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد حالات اس سے زیادہ نازک ہوں گے۔ تاجر طبقہ شدید مالیاتی بحران کا شکار ہوگا۔ ملک بھر میں تقریباً 7 کروڑ تاجر ہیں جن کی تنظیم سی اے آئی ٹی کا کہنا ہے کہ ان تاجروں کو اپنے کاروبار سنبھالنے میں مشکلات درپیش ہوں گے۔ اس بحران کے وقت کوئی بھی بینک چھوٹے یا متوسط تاجروں کو قرض دینے سے بھی انکار کردے گا۔ ایسے میں حکومت اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرے تو پھر پریشان حال عوام تاجروں اور غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک دیانتدارانہ پالیسی بناکر ہر ایک کے لیے کام آنے والے اقدامات کرے۔