مودی جیسوں کی کیا مجال کہ وہ ہندوستان کو ہندو راشٹر بنَا پائیں!… ظفر آغا

آج مسلمان کے بھی لب و زبان آزاد ہیں اور وہ شاہین باغ سے لے کر کونے کونے میں شہری قانون کے خلاف لڑ رہا ہے اور باقی سب کے ساتھ مل کر پھر ایک سیکولر ہندوستان لے کر رہے گا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

پچھلے ہفتے پنجاب سے چھ سات بسوں میں سوار سکھوں کا ایک جتھہ شاہین باغ شہریت قانون اور این آر سی مخالف تحریک کی حمایت میں شامل ہونے دہلی پہنچا۔ جب یہ جتھہ شاہین باغ پہنچا تو اس میں شامل عورت، مرد اور بچوں کی زبان پر فیض احمد فیض کی یہ نظم تھی... بول کہ لب آزاد ہیں تیرے، بول زباں اب تک تیری ہے۔ بے شک این آر سی نے ہندوستانی مسلمان کے لب اور زبان آزاد کر دیے۔ اور اب بے خوف و خطر اس کے لبوں اور زبان پر بس یہی ایک نعرہ ہے کہ شہریت قانون واپس لو اور این آر سی لاگو نہیں ہو۔ وہ قوم جو پچھلے تقریباً 70 برس آزادی کے بعد سے خوف کا شکار تھی، نریندر مودی نے اس خائف ہندوستانی مسلمان کے دلوں سے ہر قسم کا خوف نکال دیا۔ اور اب یہ عالم ہے کہ اس کے مرد تو مرد، اس کی عورتیں تک سڑکوں اور پارکوں میں دن و رات بیٹھ کر شہریت قانون کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔ ان دنوں ہندوستان کے کونے کونے سے شاہین باغ کے طرز پر عورتوں کے احتجاج ہو رہے ہیں۔ وہ جوش و ولولہ ہے کہ جس کی نظیر ڈھونڈنا مشکل ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ یہ وہ تحریک ہے جس پر کسی روایتی مسلم قیادت کا سایہ نہیں۔ کوئی مذہبی نعرہ نہیں۔ اگر کوئی بات ہے تو وہ یہ کہ ہندوستان اتنا ہمارا بھی ہے جتنا کسی اور قوم یا فرد کا ہے۔ یہ آئین ہمارا ہے۔ ہم اس آئین کو بدلنے نہیں دیں گے۔ یہ ترنگا ہمارا ہے، ہم اس کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم اس ترنگے کو جھکنے نہیں دیں گے۔

اور بھلا ہندوستانی مسلمان کے دلوں میں یہ جذبہ کیوں نہ ہو! چھ سات سو سال اس ملک کی حکمرانی کر اس قوم نے ہندوستان کو ترقی کے اس مقام پر پہنچایا کہ دنیا محو حیرت ہو گئی۔ لندن کی مشہور انگریزی میگزین ’اسکوناسٹ‘ کے مطابق ہندوستان شہنشاہ اکبر کے دور میں معاشی اعتبار سے دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک تھا۔ ہندوستان کی دولت کا تخمینہ کرنا اس وقت مشکل تھا۔ یعنی مغلوں کے دور میں ہندوستان ایک سپر پاور تھا۔ حد تو یہ ہے کہ جب 1857 میں مغلوں اور ہندوستان کو انگریز نے غلام بنایا تو اس وقت بھی ہندوستان کی شرح معاشی ترقی برطانیہ سے زیادہ تھی۔ صرف اتنا ہی نہیں، پہلی جنگ آزادی سے لے کر سنہ 1947 میں آزادی حاصل کرنے تک بہادر شاہ ظفر سے لے کر مولانا حسرت موہانی اور مولانا آزاد تک ہندوستانی مسلمان کی قربانیوں کی گنتی نہیں کی جا سکتی ہے۔ پھر تاج محل جیسی عمارت دینے والی یہ قوم آزاد ہندوستان میں محمد رفیع، دلیپ کمار، نرگس، نوشاد، نواب پٹودی، اظہر الدین، ڈاکٹر ذاکر حسین، سابق صدر عبدالکلام جیسی انگنت ہستیاں ملک کے ہر شعبے میں دیتی چلی آ رہی ہے۔ پھر روز مرہ کی زندگی میں پنکچر بنانے والے سے لے کر ہر قسم کے کام میں مہارت رکھنے والا کاریگر بھی مسلمان ہی ہوتا ہے۔ یعنی ہندوستان بغیر ہندوستانی مسلمان کی شمولیت کے بغیر ہندوستان ہو ہی نہیں سکتا ہے۔

آج ایسی شاندار وراثت رکھنے والی قوم کو نریندر مودی غلام بنانے کو تیار ہیں۔ ہاں، ہم پچھلے ڈیڑھ دو سو برسوں میں پچھڑ گئے اور پستی کے غار میں چلے گئے۔ ہم سے غلطی یہ ہوئی کہ ہم نے مغرب کی دشمنی میں مغربی سائنس و ٹیکنالوجی اور اس کے جدید علوم و فن کو بھی اپنا دشمن سمجھ لیا۔ ہمارے علما نے مغرب کی مخالفتوں میں جدیدیت کو کفر تصور کر قوم کو جدید علوم و فن سے دور کر دیا۔ لیکن پچھلے بیس پچیس برسوں میں ہندوستانی مسلمان نے کافی حد تک تعلیم بھی حاصل کی اور حکومتوں کی کسی بھی قسم کی مدد کے بغیر کافی حد تک معاشی ترقی بھی حاصل کی۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج اس کی لڑکی-لڑکے بڑی تعداد میں درسگاہوں اور اچھی سے اچھی یونیورسٹیوں میں جا رہے ہیں۔ یہ وہی لڑکیاں اور لڑکے ہیں جو جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ جیسے نہ جانے کتنے مرکزوں سے نکل نکل کر اپنی غلامی کی سازش کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ آج ہندوستانی مسلمان میں ایک بڑا میڈل کلاس کھڑا ہو چکا ہے جو اپنے حق کے لیے ہر قربانی دے گا لیکن غلامی نہیں منظور کرے گا۔ کیونکہ غلامی کی پہلی منزل خوف ہے۔ لیکن این آر سی کی لٹکتی تلوار نے اس خوف کو ختم کر دیا۔ تب ہی تو اس کے لب و زبان اب آزاد ہیں اور وہ پورے ملک میں اپنی آزادی کی لڑائی لڑ رہا ہے اور آخری سانس تک لڑتا رہے گا۔

اور پھر اس کو اب ڈر کاہے کا! اس ملک کا ہندو، سکھ، عیسائی اور کون ایسا مذہب ہے جس کا ماننے والا اس کے ساتھ نہیں۔ سکھوں کی گرودوارہ پربندھک کمیٹی نے اس کی حمایت کی۔ ہندوؤں کے پنڈت شاہین باغ جیسے مقامات پر پہنچ کر اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ کیرالہ کے چرچوں میں لڑکیاں حجاب پہن کر اور لڑکے ٹوپی پہن کر حضرت عیسیٰ کے فضائل کے گیت گا رہے ہیں۔ یہ تو عوامی حمایت کا عالم ہے۔ پھر سونیا گاندھی سے لے کر ممتا بنرجی تک کون سا غیر بی جے پی سیاسی جماعت کا لیڈر ہے جس نے شہری قانون کی حمایت میں پرچم نہیں بلند کر رکھا ہے۔ کیرالہ کی کمیونسٹ حکومت نے اس قانون کے خلاف قرارداد پاس کی اور اس کی مخالفت میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی۔ پنجاب میں کانگریس کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے بھی اسمبلی میں بیان دیا کہ مودی وہی کر رہے ہیں جو ہٹلر نے جرمنی میں کیا۔ پھر وہاں کانگریس حکومت نے بھی اسمبلی میں اس قانون کے خلاف قرارداد پاس کی اور اعلان کیا کہ ہم بھی اس معاملے میں سپریم کورٹ جائیں گے۔ بنگال میں ممتا بنرجی روز سڑکوں پر ہزاروں لوگوں کے ساتھ اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ہر صوبہ میں تقریباً ہر بڑی غیر بی جے پی پارٹی شہری قانون کے خلاف ہے۔

یہ ہندوستان ہے جناب، بی جے پی اور سنگھ، اور مودی و شاہ جیسے اس کے چیلے چپاڑے اس کو ہندو راشٹر نہیں بنا سکتے ہیں۔ یہ کوئی پاکستان نہیں کہ یہاں فوجی جنرل جو چاہے کر لے۔ خود اس ملک کی ہندو اکثریت کو ہندو راشٹر تسلیم نہیں ہے۔ اب بھی بی جے پی کا کل ووٹ شیئر محض 38 فیصد ہے۔ یہ وہی 62 فیصد بی جے پی مخالف ہندوستانی ہیں جو اس وقت شہری قانون کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس میں ہندو بھی ہیں، مسلمان بھی ہیں، سکھ بھی ہیں، عیسائی بھی ہیں اور بقیہ مذاہب کے افراد بھی ہیں۔ بھلا ایسے عظیم الشان ہندوستان کو نریندر مودی کیسے ہندو راشٹر بنا لیں گے۔ ہندو راشٹر مخالف انہی لوگوں کے اتحاد نے اس ملک کی خائف مسلم قوم کا بھی خوف دور کر دیا۔ آج مسلمان کے بھی لب و زبان آزاد ہیں اور وہ شاہین باغ سے لے کر کونے کونے میں شہری قانون کے خلاف لڑ رہا ہے اور باقی سب کے ساتھ مل کر پھر ایک سیکولر ہندوستان لے کر رہے گا۔

Published: 19 Jan 2020, 2:11 PM