مودی و شاہ کی ہٹ دھرمی نے ملک کی عزت خاک میں ملادی... اعظم شہاب

آج اسی ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے کہ یوروپین پارلیمنٹ سے لے کر انگلینڈ و ایران تک سی اے اے کے حوالے سے مودی حکومت کی پالیسیوں پر کھلے عام تنقید ہو رہی ہیں اور پابندیاں عائد کرنے کی باتیں کرنے لگے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

قومی انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے سی اے اے کے خلاف سپریم کورٹ میں داخل مداخلت کی عرضداشت کو بھلے ہی بی جے پی کا آئی ٹی سیل ایک سوشلسٹ کے ذریعہ داخل کردہ عرضداشت قرار دے کر خاطر میں نہ لانے کی مہم چلا رہا ہے، مگر اس سچائی سے شاید ہی انکار کیا جاسکے کہ سی اے اے واپس نہ لینے کی مودی وشاہ کی ہٹ دھرمی نے دنیا کے سامنے ہمارے ملک کی عزت خاک میں ملادی ہے۔ یہ اسی ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے کہ آج یوروپین پارلیمنٹ سے لے کر انگلینڈ و ایران تک سی اے اے کے حوالے سے مودی حکومت کی پالیسیوں پر کھلے عام تنقیدیں کرنے لگے ہیں اور پابندیاں عائد کرنے کی باتیں کرنے لگے ہیں۔

گزشتہ روز جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہندوستان کے دورے پر آئے تھے تومودی جی ان کی دوستی میں کچھ اس قدر رطب اللسان ہوئے تھے کہ انہیں ٹرمپ کی واپسی کے دو روز بعد اس بات کی خبر ہوسکی کہ ان کی راجدھانی میں ان کے ہی نام لیوا ہولی سے پہلے ہی مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلنے لگے ہیں۔ لیکن ہندوستان میں موجود ٹرمپ اور ہزاروں کلومیٹر دور امریکی انتظامیہ کو اس کی خبر فوراً ہوگئی اور امریکن کانگریس نے اس پر اپنی ناراضگی کا بھی اظہار کردیا۔ مگر مودی جی کی خاموشی دو دن بعد ٹوٹی اور وہ بھی ٹوئٹر پر۔

مودی جی کو تو ان کا قومی میڈیا دو روز تک ٹرمپ اور ان کی دوستی کی کیمسٹری میں الجھائے رکھا تھا، بالکل اسی طرح جس طرح اوبامہ کے دورے کے وقت ہوا تھا، البتہ شاہ جی نے اجیت ڈووال کو دہلی کی فساد زدہ گلیوں میں صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ضرور روانہ کر دیا۔ شاید وہ یہ دیکھنے آئے تھے کہ ان کے کارندوں نے ان کے پلان کے مطابق کام کیا یا نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو فساد کرانے کے ذمہ دار کپل مشرا بھی آج سلاخوں کے پیچھے ہوتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور اس لیے نہیں ہوا کہ فساد کی اسکرپٹ بہت پہلے سے لکھی جاچکی تھی، جس میں طاہر حسین کا نام تو موجود تھا، لیکن کپل مشرا کا نہیں تھا۔

قومی انسانی حقوق کمیشن کی صدر مشیل بچلیت زیریا جانب سے سپریم کورٹ میں داخل انٹرویشن کی عرضداشت میں جو باتیں کہی گئی ہیں وہ مودی حکومت کے سی اے اے کے موقف کے بالکل برخلاف ہیں۔ اس عرضداشت کے ذریعے سپریم کورٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ درخواست گزار کو اس بات کی اجازت دے کہ وہ کورٹ کے سامنے اس بات کو ثابت کرسکے کہ مودی حکومت کا سی اے اے کا قانون کس طرح نہ صرف ہندوستان کی آئین بلکہ ان بین الاقوامی قوانین کے بھی خلاف ہے جس پر انڈیا کے بھی دستخط موجود ہیں۔ اس عرضداشت میں خاص طور سے یواین او کی قراردادوں کی بات کی گئی ہے جس کا انڈیا بھی ایک ممبر ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس عرضداشت کے بعد ہماری حکومت سی اے اے کے بارے میں اپنے موقف پر ازسرِنوغور کرتی ، مگر آئی ٹی سیل کے ذریعے مشیل زیریا کو ایک سوشلسٹ ثابت کر کے انہیں ہندوستان مخالف بتایا جا رہا ہے۔

پھر بھی اگر بات صرف مشیل زیریا تک ہی محدود رہتی تو کہا جاسکتا تھا کہ انہوں نے بھی اپنی نظریات کی بنیاد پر اسی طرح تنگ نظری کا مظاہرہ کیا ہے، جس طرح مودی و شاہ اور ان کی پارٹی کے لوگ کر رہے ہیں، مگر یہاں تو پورا یوروپ و ایشاء انڈیا کے خلاف کھڑا نظر آتا ہے۔ یوروپین یونین کی اس قرارداد کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں، جو انڈیا کی مداخلت سے کسی طرح وقتی طور پر رک گئی تھی، مگر بعد میں اس کے اراکین نے مودی حکومت کو سی اے اے کے خلاف سخت وارنگ دی ہے۔ اس کے علاوہ اسی پارلیمنٹ کے ستر فیصد ممبران نے کھلے طور پر مودی حکومت کی تنقید کی ہے۔ ایران جو ایشاء میں شاید ہمارا سب سے بڑاحلیف ہے، اس نے بھی مودی حکومت پر علانیہ تنقید کی ہے۔ ایران کی یہ تنقید دہلی فساد کے تناظر میں ہے، جسے ایران مسلمانوں کے قتل عام سے تعبیر کرتے ہوئے ہندوستان کو تاکید کی ہے وہ اس سے باز رہے، لیکن سچائی یہ ہے کہ ایران کی تنقید کی بنیاد بھی سی اے اے ہی ہے۔

اوآئی سی (آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن) جو ایک مردہ آرگنائزیشن تھی، مودی حکومت کی اس ہٹ دھرمی نے اس میں بھی جان ڈال دی ہے۔ اس آرگنائزیشن میں 85 ممالک ہیں۔ اس کے ممبران نے بھی انڈیا کو سخت وارنگ دی ہے کہ سی اے اے کی بنیاد پر مسلمانوں کے خلاف بھید بھاؤ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم نے اس وارنگ پر یہ جواب دے کر خود کو مطمئن کرلیا ہے کہ یہ ہمارا داخلی معاملہ ہے اور ہم اسے حل کرلیں گے۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ مودی و شاہ نے اپنی ہٹ دھرمی سے اپنے ان تمام معاملات کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پہنچا دیا ہے جو کہ یہاں کسی کو کانوں خبر ہوئے بغیر بہ آسانی حل کیا جاسکتا تھا۔

Published: 8 Mar 2020, 8:11 PM