’میری طرح سے ہتھیلی پہ جَان تھوڑی ہے‘... اعظم شہاب

شاہین باغ میں فائرنگ سے خوفزدہ کرنے کی ناکام کوشش کرنے والا کپل گوجر کو شاید اس بات کا علم نہیں ہوگا کہ وہ اپنے جن آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے فائرنگ کر رہا ہے، وہ خود کس قدر خوفزدہ ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

یہ بات کتنی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے نا کہ جس نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لی ہو اسے موت سے ڈرایا جائے۔ جسے اس حقیقت کا ادراک ہوچکا ہو کہ دنیا کا ہر انقلاب قربانی طلب کرتا ہے اسے بندوق کی گولیوں سے خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ گزشتہ روز دہلی کے شاہین باغ میں یا اس سے تین دن پہلے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پاس ہوئے فائرنگ کے واقعے سے یہی مضحکہ خیز سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ حملہ آور کسے ڈرانا چاہتے ہیں؟ کیا انہیں کہ جنہوں نے یہ اعلان کردیا ہے کہ ملک کا آئین، ملک کا اتحاد اور ملک کی جمہوریت ان کی جان سے زیادہ قیمتی ہے؟ یا پھر ان لوگوں کو جو اپنے آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت کے لیے دنیائے احتجاج کی نئی تاریخ قلم بند کر رہی ہیں؟ ان بیوقوفوں کو یہ کون سمجھائے کہ جو لوگ این آر سی و سی اے اے کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ اپنے سر سے کفن باندھے ہوئے ہیں، تم ان کے کفن کو ان کے خون سے رنگین تو کرسکتے ہو، انہیں خوفزدہ ہرگز نہیں کرسکتے۔

شاہین باغ میں احتجاج کر رہی خواتین کو فائرنگ سے خوفزدہ کرنے کی ناکام کوشش کرنے والا کپل گوجر کو شاید اس بات کا علم نہیں ہوگا کہ وہ اپنے جن آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے فائرنگ کر رہا ہے، وہ خود کس قدر خوفزدہ ہیں کہ آج تک انہیں اس بات کی ہمت تک نہیں ہوسکی کہ ان احتجاجیوں کے درمیان آسکیں۔ اسے اس بات کا بھی اندازہ نہیں رہا ہوگا کہ شاہین باغ کی خواتین کے نعرے کس طرح اس کے خود ساختہ دیش بھکت کے دعویداروں کی نیندیں اڑائے ہوئے ہیں۔ اسے اس بات کا بھی غالباً علم نہیں رہا ہوگا کہ جن کی تقریروں اور گولی مارو کے نعروں سے متاثر ہوکر وہ فائرنگ کرنے پر آمادہ ہوا ہے، وہ ان کا صرف آلہ کار بنا ہے اور وہ لوگ اس کے ذریعہ اپنا سیاسی و ذاتی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہی حال کچھ اپنے آپ کو رام بھکت کہنے والے گوپال کا بھی ہے، جس کے ذہن میں اس کے آقاؤں نے اتنی نفرت بھر دی کہ وہ دیشی ساخت کا پستول لے کر گولی مارنے نکل کھڑا ہوا۔ اب بھلا ایسے لوگوں کو کون سمجھائے کہ بیوقوفوں جنہیں ڈرانے اور خوفزدہ کرنے کے لیے تم لوگ یہ ڈرامے رچ رہے ہو ان سے تم ہی کیا؟ ان سے تمہاری حکومتیں تک بری طرح خوفزدہ ہیں اور یہ اسی خوفزدگی کی علامت ہے کہ ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹنے کا اعلان کرنے والے اب اپنے پیچھے ہٹنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔

دراصل سی اے اے اور این آر سی کے ذریعے ملک کو انارکی میں ڈھکیلنے والے یہ خودساختہ ’دیش بھکت‘ آئین مخالف لوگوں کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ ان کے خلاف کوئی کھڑا ہوسکے گا یا ان کے فیصلوں کی کوئی مخالفت کرسکے گا۔ ان کی شکشت کا پہلا نقارہ تو اسی وقت بج گیا تھا جب انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نہتے طلباء پر پولیس کے ذریعے لاٹھی چارج کروایا۔ انہوں نے یہ تصور کیا تھا کہ وہ اپنی اس حرکت سے ان کے ظلم ونا انصافی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبا لیں گے، لیکن ان ’عقلمندوں‘ کو شاید اس بات کا علم نہیں تھا کہ جامعہ پر پولیس کی کارروائی ان کے ہزیمت کی ابتداء تھی۔ بعد میں جب پورے ملک کے کالج و یونیورسٹیوں کے طلبہ ان کی اس حرکت کے خلاف میدان میں اترے تو انہیں اندازہ ہوا کہ بازی تو بالکل پلٹ چکی ہے اور پھر جب عورتیں میدان میں آگئیں تو گویا اس پر مہر ہی لگ گئی۔

سنسکرت کی ایک پرانی کہاوت ہے ’وناش کالے وِپریت بدھی‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی کی بربادی کا وقت قریب آجاتا ہے تو اس کا ذہنی توازن بگڑجاتا ہے یا اس کا دماغ الٹ جاتا ہے۔ اب اگراس میں یہ حقیقت بھی شامل کرلی جائے کہ جب اقتدار کے خاتمے کا وقت قریب آتا ہے تو ملک کا نوجوان اس کے خلاف ہوجاتا ہے اور جب اس کے تابوت میں آخری کیل ٹھکنے کا وقت آتا ہے تو عورتیں سڑکوں پر اتر آتی ہیں۔ آج ملک بھر میں دو ہزار سے زائد جگہوں پر شاہین باغ کی طرز کے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بوڑھی عورتیں، بچیاں، مائیں، غرضکہ ہر طبقے کی عورتیں بغیر کسی بھید بھاوؤ کے ایک بینر تلے اقتدار کے ظلم وستم کو للکار رہی ہیں۔ ان کے پاس اگر دودھ پیتا بچہ ہے تو ایک ہاتھ سے اسے اپنی چھاتی سے چمٹائے ہوئے ہیں اوردوسرے ہاتھ میں ترنگا تھامے یہ انقلاب کے نعرے لگا رہی ہیں۔ انہیں نہ موسم کی بے رحمی سے کوئی فرق پڑ رہا ہے نہ سیاسی بیان بازیوں سے۔

اگر یہ عورتیں جو آج ملک کی نئی تاریخ رقم کررہی ہیں، وہ ذرا بھی خوفزدہ ہوتیں دہلی کے جنتر منتر پر جمع نہیں ہوجاتیں۔ ممبئی میں کچھ انہونی ہوجانے کے خوف سے احتجاج ختم کیے جانے کی اپیل کے باوجود وہ اسی جگہ ڈٹی ہوئی نہیں رہتیں۔ لکھنؤمیں پولیس کے مظالم اورگرفتاریوں کے باوجود وہ گھنٹہ گھرکو آباد نہیں کیے رہتیں۔ کانپور، الہ آباد، پٹنہ ومنگلور میں حکومت وقت کو نہیں لکار رہی ہوتیں۔ یہ سب اس بات کا نقارہ ہے کہ انہیں خوف زدہ نہیں کیا جاسکتا۔ اب ایسے میں بھلا ان کو گولیوں، دھمکیوں اور پولیس سے اگر کوئی ڈرانے کی کوشش کرے تو اس کی عقل پر شک تو کیا ہی جانا چاہیے۔

ایسے میں راحت اندوری کا یہ شعر بہت شدت سے یاد آتا ہے کہ

میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں لیکن

میری طرح سے ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے

Published: 2 Feb 2020, 9:11 PM
پسندیدہ ترین
next