گوڈسے کی پوجا کرنے والوں کی گاندھی سے محبت کے کیا معنیٰ!... نواب علی اختر

ضرورت اس بات کی ہے کہ گاندھی جی کی موت کے حالات کو صحیح تناظر میں پیش کیا جائے اور بتایا جائے کہ جو پارٹی آج بڑے پیمانے پر جینتی منانے کی بات کر رہی ہے اس سے جڑے متعدد رہنما گوڈسے کا گُن گان کرتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

ملک کے وزیر اعظم نریندرمودی کی طرف سے بی جے پی کے ممبروں اور اراکین پارلیمنٹ کوہدایت دی گئی ہے کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 150ویں جینتی کے موقع پر وہ 150 کلومیٹر کی ’پدیاترا‘ (پیدل سفر) کریں۔ اس ہدایت کے معنیٰ اورمطالب کی وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، یہ سب انتخابی فائدے اور سیکولرعوام میں رسائی حاصل کرنے کی محض ایک کوشش ہے۔ نریندرمودی بھی جانتے ہیں کہ نہ وہ خود ایسا کریں گے اور نہ ہی دوسرا کوئی لیڈر ایسا کرسکتا ہے۔ بس اخبار میں خبر آگئی ہے کہ گاندھی کے نظریات کے مخالف گروہ کا زبردست پدیاترا کا پروگرام ہے۔ وزیراعظم خواہ بی جے پی لیڈروں اور کارکنوں کو نظم و ضبط میں رہنے کا سبق اور ہدایات دے رہے ہیں لیکن پارٹی کے لیڈران اس پر ذرابھی توجہ دینا نہیں چاہتے۔

بھگوا پارٹی سے وابستہ شاید ہی کوئی ممبر پارلیمنٹ اپنے مکھیا کی ہدایت پرعمل کرئے اور پیدل یاترا پرنکلیں کیوں کہ 2014 میں این ڈی اے حکومت آنے اور نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کے کارکنان سے لے کرعہدیدار تک تقریباً سبھی لوگ خود کو ہی ’عقل کل‘ سمجھنے لگے ہیں۔ ان کی نظر میں وزیراعظم کی ہدایت کی کوئی اہمیت ’نہیں‘ ہے۔ اس کا ثبوت مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈ بی جے پی کے لیڈروں نے دے دیا ہے۔

مدھیہ پردیش میں بی جے پی ممبر اسمبلی اور بی جے پی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگیہ کے بیٹے آکاش وجے ورگیہ کے ایک سرکاری افسر کو بیٹ سے پیٹنے کا معاملہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں پڑا تھا کہ اتراکھنڈ کے خان پور سے بی جے پی ممبر اسمبلی کنور پرنب سنگھ چیمپئن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ اپنے دونوں ہاتھوں میں مختلف طرح کی بندوقیں لہراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ یہی نہیں سلاستی کی سیاست کا دم بھرنے والی بی جے پی کے یہ ممبر اسمبلی جام بھی چھلکاتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سے بی جے پی میں کھلبلی مچی ہوئی ہے مگر تا دم تحریر پارٹی کی طرف سے ملزم لیڈر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ بابائے قوم کے قاتل گوڈسے کی پوجا کرنے والے گروہ کو اچانک گاندھی جی سے عقیدت کیوں ہوگئی ہے؟ نیز ماضی میں گزرے کانگریس پارٹی اور دیگر سیکولر جماعتوں کے عظیم لیڈروں سے عقیدت کے پر زور مظاہرے وہ لوگ کر رہے ہیں جو ان کی جان لینے کے ذمہ دار تھے۔ ’ایک ملک ایک پارٹی‘ کی مہم کے تحت تحریک آزادی کے جو بڑے بڑے لیڈر تھے ان کو اپنانے کی بھرپور مہم بھارتیہ جنتا پارٹی چلا رہی ہے۔ دوسری کئی جماعتیں ہیں جو گاندھی جی کی شخصیت سے مخلصانہ عقیدت رکھتی ہیں لیکن ان کو یاد کرنے کا ان کے پاس ابھی تک کوئی پروگرام نہیں ہے۔

2 اکتوبر 2019 کو موہن داس کرم چند گاندھی کی پیدائش کے 150 سال پورے ہوجائیں گے اور بھگوا پارٹی نے ان کی جینتی کو زور و شور سے منانے کا پروگرام بنایا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سیکولر جماعتوں کے لیڈر اس دیدہ و دانستہ ”اغوا“ کی کاٹ کا دفاع کرنے کے لئے کوئی کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔ قیاس یہ ہے کہ بی جے پی چونکہ اقتدار میں ہے اس لئے وہ گاندھی جی کو اپنانے کی مہم پر اربوں روپئے خرچ کرے گی، ظاہر ہے الیکشن میں اس سے اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا لیکن گاندھی اور دیگر پارٹیوں کے لئے یہ پشیمانی کی بات ہوگی۔ فی الوقت ضرورت اس بات کی ہے کہ گاندھی جی کی موت کے حالات کو صحیح تناظر میں نمایاں طور پر پیش کیا جائے اور بتایا جائے کہ جو پارٹی آج بڑے پیمانے پر جینتی منانے کی بات کر رہی ہے اس سے جڑے متعدد رہنما گاندھی کے قاتل گوڈسے کا گن گان کرتے رہتے ہیں۔

2014 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد گاندھی جی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کے نام سے مندر بنانے اور جگہ جگہ اس کی مورتیاں رکھنے کے بہت چرچے ہوئے تھے لیکن گاندھی نوازعوام نے اس قسم کی مہم کو ٹھکرا دیا۔ اب اندھیر یہ ہے کہ دہشت گردی کے الزام میں برسوں سے ماخوذ ایک سادھوی کو آناً فاناً لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کا امیدوار بنا دیا گیا اور وہ کامیاب بھی ہوگئی۔

یہ وہی سادھوی پرگیہ ٹھاکر ہے جنہوں نے کھلم کھلا کہا تھا کہ گوڈسے سچا قوم پرست تھا اور آئندہ بھی رہے گا۔ جب ان پر یہ بیان واپس لینے کے لئے چوطرفہ دباﺅ پڑا تو انہوں نے تاویل پیش کی کہ ان کی بات کو غلط سمجھا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے بیان کو واپس بھی لیا تھا لیکن برسراقتدار پارٹی کی ذمہ داری یہ ہے کہ سادھوی کو اپنی صفوں سے باہر کرے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قسم کی تحریک پارٹی کے کسی لیڈر یا رکن نے اب تک نہیں کی۔ ایسی پارٹی جس میں گاندھی کے قاتل کی تعریف کرنے والی خاتون شامل ہے، کس طرح اس کی موجودگی کو گوارا کر رہی ہے۔ بھگوا پارٹی کو تو توفیق نہیں ہوئی لیکن کانگریس اور دیگر پارٹیوں کا فرض ہے کہ وہ بی جے پی پردباو بنائیں کہ پہلے سادھوی کو پارٹی سے نکالا جائے اس کے بعد گاندھی جینتی منائی جائے ورنہ موجودہ حالت میں بی جے پی کے عمل کو بابائے قوم کی توہین سے تعبیرکیا جائے گا۔ گاندھی کے قتل کی تائید کرنے والے لوگوں کو پارٹی کے اندر کیسے گوارا کیا جا رہا ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پارٹی کے اراکین کو خاموشی سے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس مسئلہ پر کچھ نہ بولیں لیکن سیکولر لوگوں اور پارٹیوں کا فرض ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر جینتی منانے والوں کے خلاف میدان میں اتریں اور اپنی بیزاری کا اظہار کریں۔ حیرت کی بات ہے کہ جینتی منانے والے برسی نہیں مناتے۔ کیا جن سنگھ یا بھارتیہ جنتا پارٹی نے کبھی بھی گاندھی جی کی برسی کے مناسبت سے اظہار غم کیا ہے؟۔

موجودہ حالات ایسے ہیں جن میں دنیا کو حقیقت سے آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔ آج کی نسل کو بتایا جائے کہ گاندھی جی کس قدر اچھے کام کر رہے تھے اور نفرت کے تاجروں نے ان کی زندگی کا چراغ گل کردیا۔ یہ بتانے کی بھی ضرورت ہے کہ 30جنوری 1948ء کو قتل کے فوراً بعد آر ایس ایس کو غیر قانونی جماعت قرار دیا گیا تھا اور اس کے سربراہ گرو گولوالکر کو حراست میں بھی لیا گیا تھا۔

وزیراعظم نریندرمودی کے ہیرو سردار پٹیل اُس وقت وزیر داخلہ تھے لیکن ایک وارننگ ملنے کے بعد گاندھی کی حفاظت کا خاطرخواہ انتظام نہ ہوسکا۔ ممبئی کے لوگوں کو یقین تھا کہ کسی مسلمان نے قتل کیا ہوگا اور اس سلسلے میں وہاں فساد بھی ہوگئے تھے لیکن پٹیل نے ریڈیو پر جو تقریر رات کے وقت کی اس میں اس بات پر پشیمانی کا اظہار کیا تھا کہ گاندھی جی کا قاتل ہندو ہے۔ ان سب باتوں کو نمایاں کرنے کی ضرورت ہے اور تمام سیکولر جماعتوں کے لئے لازم ہے کہ وہ بھی گاندھی جی کی جینتی مناتے وقت ان حقائق کو واضح کریں جن کو بی جے پی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسا ظاہر کیا جاتا ہے کہ گاندھی کی شہرت اس لئے تھی کہ صفائی ستھرائی ان کو عزیز تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کا مشن امن و آشتی تھا۔ ہندو۔ مسلم جھگڑے کو بھی روکنے کے لئے انہوں نے انتھک جدوجہد کی تھی یہ وہ پہلو تھا جو بھگوا فکر والوں کو پسند نہیں تھی۔