کیا پی ایم مودی اپنی ’جملہ باز‘ والی شبیہ بدل پائیں گے؟... نواب اختر

شاید بی جے پی اور اس کے لیڈروں کو احساس ہوگیا ہے کہ ’جملہ بازی‘ یا مسلمانوں کو نظر انداز کرکے ملک و قوم کی ترقی ممکن نہیں ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

سال 2014 میں کئی لچھے دار وعدے اور دعوے کر کے مرکزی اقتدار تک پہنچنے والی بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت ’جملہ باز سرکار‘ کے طور پر مشہور ہوئی تھی اور حکومت کی کمان سنبھالنے والے نریندر مودی ’جملہ باز وزیر اعظم‘ کہے جا رہے تھے۔ مودی کو ’جملہ باز‘ کا خطاب کسی اپوزیشن لیڈر نے نہیں بلکہ بی جے پی کے صدر اور نریندر مودی کے معتمد خاص امت شاہ نے دیا تھا۔ جب عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے جن میں ہر شخص کے کھاتے میں 15 لاکھ روپئے اور بیرون ملک جمع کالا دھن واپس لانے جیسے دو بڑے وعدے شامل تھے تو عوام نے آواز بلند کی جس پر اپوزیشن سے لے کر حکمراں طبقہ بھی مودی حکومت کے سامنے مشکل بننے لگا تھا۔ اس دوران میڈیا کے سامنے نمودار ہوئے بی جے پی صدر امت شاہ سے جب پوچھا گیا کہ 15 لاکھ روپئے کب ملیں گے؟ تب امت شاہ نے بغلیں جھانکتے ہوئے کہا کہ سیاست میں کئی طرح کے جملے استعمال کیے جاتے، یہ بھی (15لاکھ روپئے) ایک جملہ تھا۔ بی جے پی سربراہ کا اپنی ہی حکومت کو دیا گیا جملہ کا ’خطاب‘ اس قدر مشہور ہوا کہ وزیر اعظم سے لے کر حکومت تک کو’جملہ باز‘ کہا جانے لگا۔ اب جبکہ نریندر مودی مسلسل دوسری بار وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہوگئے ہیں تو ان سے یہی امید کی جائے گی کہ وہ پچھلی غلطیوں کونہیں دہرائیں گے اور جو بات کہیں گے اس پر عمل کر کے اپنے قول وفعل میں فرق ختم کریں گے۔

سردست پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں گزشتہ دنوں این ڈی اے کے نو منتخب اراکین پارلیمنٹ کے درمیان کی گئی نریندر مودی کی تقریر آج کل سرخیوں میں ہے۔ اس تقریر سے اشارے ملے کہ وہ وزیر اعظم کے طور پر اپنی دوسری مدت کی حقیقت، نظریہ اور تصویر کو بدلنا چاہتے ہیں۔ کمپینر مودی اور کپتان مودی کے درمیان کا یہ فرق حامیوں کے ساتھ ناقدین نے بھی محسوس کیا۔ آخر وہ پارلیمانی انتخابات کی تاریخ میں سب سے زیادہ پولرائز مہم کی قیادت کر کے یہاں تک پہنچے ہیں۔ مودی اپنی تقریر کے ذریعہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں میں رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے بھی نظر آئے۔ بی جے پی حکومت اور اس کے لیڈروں کی زہر افشانی کے سبب اقلیتوں میں پائے جانے والے ڈر کو ختم کرنا اور ان کا اعتماد جیت کر’مجموعی ہندوستان‘ اور’مجموعی ترقی‘ کی خواہش کا اظہار خواہ مودی کی سیاسی چال ہو جو مسلسل اپنی تنگ نظری اور متعصب لیڈر کی تصویر بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اب شاید بی جے پی اور اس کے لیڈروں کو احساس ہوگیا ہے کہ ’جملہ بازی‘ یا مسلمانوں کو نظر انداز کرکے ملک و قوم کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ مودی کی تقریر کو کئی پہلوؤں سے حیرت کی نظر سے دیکھا جارہا ہے خاص طور پر مسلمانوں کے درمیان ان کی رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی وجہ سے۔ انہوں نے اپنی ہی نظریاتی برادری کے اندر گہرائی تک موجود سوچ اور تعصب میں بھی سوراخ کرنے کی بات کہی۔


مسلمانوں میں مودی نئے اور روایتی کردار کے برعکس رسائی کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسی وقت کیوں؟ اس بات کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ مودی نہ تو اب تک تقریباً 20 کروڑ ہندوستانی مسلمانوں کا اعتماد جیت پائے ہیں اور نہ ہی ان کی پارٹی ایسا کر پائی ہے۔’مجموعی ہندوستان‘ کے لئے ’مجموعی ترقی‘ کا ان کا نیا نعرہ قطعی کھو کھلا رہ جائے گا، اگر ملک کا دوسرا سب سے بڑا مذہبی طبقہ خود کو حکمراں فریق کی جانب سے نظر انداز محسوس کرتا رہا۔ 23 مئی کو مودی نے اپنے ’جشن فتح‘ میں کہا تھا کہ اگرچہ انتخابات ’اکثریت‘ کے اصول پر جیتے جاتے ہوں لیکن حکومت تبھی چلائی جا سکتی ہے، ملک تبھی آگے بڑھ سکتا ہے، جب ’متفقہ‘ اصول پر عمل کیا جائے۔ یہ بھی سچ ہے کہ اگر آئندہ مسلمانوں کی آواز نہیں سنی گئی اور اقتدار سے منسلک اداروں میں مسلمانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی تو یہ’متفقہ اصول‘ کی بات ’جملہ‘ بن کر رہ جائے گی۔ اس مسئلے پر مودی پہلے سے ہی تلخ سوالات کا سامنا کر رہے ہیں کہ اگر مودی مسلمانوں کے لئے اتنے ہی بے چین ہیں تو نئی لوک سبھا میں بی جے پی کے 303 ممبران پارلیمنٹ میں سے ایک بھی مسلمان کیوں نہیں ہے؟۔

کچھ اہم مسلم ممالک خاص طور سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ہندوستان کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں اس لئے خارجہ پالیسی کے نقطہ نظر سے بھی مودی کو ہندوستانی مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ اگر ہندوستان کے اندر موجود فرقہ وارانہ تقسیم تشدد کی شکل میں سامنے آتی رہی تو مسلم ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے بہتر ہوتے رشتوں کی چمک دھندلی پڑ جائے گی اوراس کا اثرمودی یا بی جے پی تک ہی محدود نہیں بلکہ اس سے پورا ملک متاثر ہوگا۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے لئے پڑوسی پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا اہم چیلنج رہا ہے۔ حالانکہ وہاں کے وزیراعظم ہندوستان کے ساتھ بات چیت کرنے پر’آمادگی‘ کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس مشکل کام کو انجام دینے کے لئے مودی کو پہلے یہ دکھانا ہوگا کہ انہوں نے نہ صرف ہندوؤں کا ’اعتماد‘ حاصل کر لیا ہے بلکہ ہندوستان کے مسلمانوں کا ’اعتماد‘ بھی انہیں حاصل ہے۔ سابقہ حکومتوں کی پالیسی یہی رہی ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت، ترقی اور قومی سالمیت کو مضبوط بنانے کے لئے ہر ہندوستانی کا تعاون حاصل کیا جائے۔ مگر مودی اوران کی پارٹی کی جو پالیسی رہی ہے وہ موجودہ حالات سے میل نہیں کھاتی ہے۔


اگر مودی اور ان کی بی جے پی یہ سوچتے ہیں کہ مسلمانوں کا بھروسہ صرف باتوں سے یا صرف مسلمانوں میں خوف پیدا کرنے کے لئے سیکولر پارٹیوں کو کوسنے سے جیتا جا سکتا ہے تویہ ان کی بڑی غلطی ہوگی۔ جیسے کہ اس سے پہلے ہوتا آیا ہے۔ اس بات کو ہرگز فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے کہ مودی اور ان کی بی جے پی نے مسلمانوں میں چوطرفہ پھیلے خوف، مسلمانوں کو ان کے اندر موجود طاقت سے دور رکھے جانے کا احساس، ’درانداز‘ سمجھے جانے کا احساس اور یہاں تک کہ دبائے گئے غصے کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی لئے اگر مودی ایمانداری اورسنجیدگی سے اپنی نئی پاری کی شروعات کرتے ہیں اور یقیناً سب کو متحد کر نے کے تئیں سنجیدہ ہیں تو انہیں کئی مسائل پرغور کرنا ہوگا۔ انہیں بی جے پی اور اپنی نظریاتی تنظیم سنگھ پریوار کو بھی اپنی لائن پر چلنے کے لئے پابند کرنا ہوگا۔ انہیں خود آگے بڑھ کر مسلمانوں کے با اثر اور معزز نمائندوں کو باقاعدہ بات چیت کے لئے مدعو کرنا ہوگا، جن میں ان کے سخت ناقدین بھی شامل ہوں اور ہندوستان کے جمہوری ڈھانچے میں طاقت کی مختلف سطحوں پر انہیں بھی حصہ داری دینا ہوگی۔ تعلیم، روزگار اور سول سروسیز اور فوجی خدمات میں یکساں مواقع کے معاملے میں مسلمانوں کی شرکت کم (سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق) ہونے کے لئے دوسروں کو مجرم قرار دینے کی جگہ مودی کو ٹھوس پالیسی اور ایسے قدم اٹھانے کی جرأت کرنا ہوگی جن سے ثابت ہو سکے کہ وہ مسلمانوں کی ترقی کے لئے سنجیدہ ہیں۔ اگر ایسا ہوگا تبھی مودی اور ان کی بی جے پی کے قول وفعل کے درمیان کا فرق ختم ہوسکے گا بصورت دیگر نریندر مودی کی دوسری مدت کا خاتمہ بھی’جملہ بازی‘ کے ساتھ ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 30 May 2019, 7:10 PM