کیا مولانا سلمان کی برخاستگی پہلے سے طے تھی؟

مسلم پرسنل لاء بورڈ کےسابق اہم رکن مولانا سلمان ندوی

قوم کے کچھ رہنماؤں کی میڈیا میں خوب چاندی ہونے والی ہے ۔ اس سب کی بھینٹ چڑھے گا بیچارہ پریشان حال ہندوستانی مسلمان۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اہم رکن مولانا سلمان ندوی کو بورڈ سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ۔ اجلاس شروع ہونے سے قبل بورڈ کے کئی ارکان کے تیور وں سے صاف ظاہر تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے ۔مولانا سلمان ندوی اب پوری دنیا میں خود کو مظلوم اور امن کا پیامبر بتائیں گے اور اب وہ اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ جس تنظیم کے وہ ابھی تک رکن تھے اور جس کے ہرفیصلہ میں پیش پیش رہے تھے وہ ملک میں قیام امن کی سب سے بڑی دشمن تنظیم ہے۔قومی میڈیا بھی یہی سوال کرے گا اور کچھ ٹی وی چینلوں کے لئے تو یہ ایک مزیدار مصالہ ہوگا جس میں مولانا سلمان کی موجودگی اس میں اور تڑکا لگا دے گی ۔ سوال ہوگا کہ مولانا سلمان نے شری شری روی شنکر سے مل کر ایسا کون سا گناہ کر دیا کہ ان کو بورڈ سے باہر نکال دیا گیا ۔ سوال ہو گا کہ کیا کسی کو امن کی بات کرنے کا حق نہیں ہے ؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ طلاق ثلاثہ معاملے کی طرح مولانا سلمان کے تعلق سے فیصلہ لینے میں بورڈ نے کسی دانشمندی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنی پٹائی کرنے کے لئے اپنے مخالفین کو لاٹھی ڈنڈے دستیاب کرائے ہیں۔

بورڈ نے مولانا سلمان کے معاملے کو اتنے غیر سیاسی اور غیر دانشمندانہ طریقہ سے ڈیل کیا کہ اس سارے معاملے میں بورڈامن دشمن اور مولانا سلمان مظلوم کی شکل میں سامنے آئے ہیں ۔ اس سارے معاملے کو سمجھنے کے لئے اس ڈرامہ کے کردار اور وقت کو سمجھنا بہت ضروری ہے ۔ حیدرآباد میں ہونے والے اجلاس سے ٹھیک ایک روز قبل مولانا سلمان شری شری روی شنکر سے ملاقات کرتے ہیں ۔ کیا ضروری تھا کہ بورڈ کے اجلاس سے ایک دن قبل ہی مولانا شری شری سے ملاقات کریں ؟ کیا ایسا ممکن نہیں تھا کہ مولانا پہلے اپنا موقف بورڈ کے سامنے رکھتے اور اگر بورڈ کی رائے ہوتی تو پھر کوئی مسئلہ ہی نہیں پیدا ہوتا اور اگر بورڈ ان کی رائے سے اتفاق نہیں رکھتا تو بورڈمیٹنگ کے بعد بھی مولانا سلمان ندوی شری شری سےمل سکتے تھے اس کے بعد جو ہونا تھا وہی ہوتا یعنی ان کو بورڈ سے نکال دیا جاتا ۔ کیا بورڈ ان کی برخاستگی کو کچھ دنوں تک ٹال نہیں سکتا تھا یا خاموشی اختیار کرکے اس مسئلہ کو اپنی موت خودنہیں مرنے دے سکتا تھا؟

اجلاس سے ایک روز قبل ان کی شری شری سے میٹنگ اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھا جس میں مولانا دانستہ حصہ بنے یا وہ اس سازش میں پھنس گئے ۔ مولانا کا سابقہ ریکارڈ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ دانستہ تھا اور ان کو یہ بھی اندازہ تھا کہ اس کے بعد کیا ہوگا ۔ مولانا کوئی چھوٹے بچے نہیں ہیں کہ وہ اس بات کا اندازہ نہ لگا سکیں ، ان کے اس اقدام کا بورڈ اور قوم پر کیا اثر پڑے گا ۔ وہ اس بات سے بھی بخوبی واقف تھے کہ اس ملاقات کے بعد جب ان کو بورڈسے نکالا جائے گا تو وہ قومی مین اسٹریم میڈیا کے ہیرو بن کر سامنے ابھریں گے۔ اب بورڈ میں دیکھتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے مولانا کی بورڈ سے برخاستگی میں اہم کردار ادا کیا ۔ اندر کیا صورتحال تھی اور اندر کیا کھچڑی پکی اس کا تو اندر والے ہی جانیں لیکن جو تصویر سامنے آئی ہے اس سے یہ بات واضح ہے کہ مولانا کی برخاستگی میں سید قاسم رسول الیاس، کمال فارقی اور اسد الدین اویسی کا کردار اہم رہا ہے ۔

ذرائع کے مطابق پہلے دن اجلاس میں جب اس مسئلہ پر گفتگو ہوئی تو اس وقت بورڈ کے صدر مولانا رابعہ حسن ندوی اور مولانا ارشد مدنی نے سارے معاملے میں خاموشی اختیار رکھی ۔ تین ارکان جو اس معاملے میں پیش پیش رہے اس میں اسد الدین اویسی کے بارے میں مستقل یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ ان کے ہر عمل سے بی جے پی اور فرقہ وارانہ قووتوں کو تقویت ملتی ہے ۔ کمال فاروقی کے تعلق سے بات گشت کر رہی ہے کہ ایک مرتبہ وہ بھی پہلے شری شری روی شنکر سے ملاقات کر چکے ہیں ۔ سید قاسم رسول الیاس جو جماعت اسلامی کی مجلس شوری کے رکن ہیں اور جماعت کی سرپرستی میں بنی سیاسی پارٹی ویلفئیر پارٹی آف انڈیا کے صدر بھی ہیں ان کے تعلق سے بھی یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ یہ سیاسی پارٹی ہی دراصل سیکو لر ووٹوں کی تقسیم کے لئے تشکیل دی گئی تھی ۔

صحافتی زندگی کے معمولی سے تجربہ کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو چیزیں جیسے سامنے آتی ہیں ویسے ہوتی نہیں ہیں اور ان سب میں کردار اور اوقات بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔اس ڈرامہ کے اہم کردار اور اوقات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مولانا سلمان کی شری شری سے ملاقات اور اس کے بعد بورڈ میں ان کی مخالفت اور برخاستگی پہلے سے طے تھی اور اس سارے ڈرامہ کا اسکرپٹ رائٹر کوئی اور ہی تھا ۔ یہ لوگ محض اس اسکرپٹ کے مطابق اپنا اپناکردار نبھا رہے تھے ، جس کو غصہ کا کردار ملا تھا وہ غصہ کا کردار نبھا رہا تھا اور جس کو ہیرو کا کردار ملا تھا وہ ہیرو کا کردار نبھا رہا تھا ۔ اب اس ڈرامہ کی پبلیسٹی کے لئے قومی میڈیا پوری طرح تیار ہے ۔آنے والے دنوں میں قوم کے کچھ رہنماؤں کی میڈیا میں خوب چاندی ہونے والی ہے ۔ اس سب کی بھینٹ چڑھے گا بیچارہ پریشان حال ہندوستانی مسلمان۔

سب سے زیادہ مقبول